صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ: باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ , فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ ، قَالَ : أَأَنْتَ أَبُو جَهْلٍ ؟ قَالَ : فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ، قَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ , أَوْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ ؟ قَالَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ : أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ .´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اور دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا ، مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان تیمی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کوئی ہے جو معلوم کرے کہ ابوجہل کا کیا حشر ہوا ؟ “ ابن مسعود رضی اللہ عنہ حقیقت حال معلوم کرنے آئے تو دیکھا کے عفراء کے بیٹوں ( معاذ اور معوذ رضی اللہ عنہما ) نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کا جسم ٹھنڈا پڑا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا ، کیا تو ہی ابوجہل ہے ؟ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کی ڈاڑھی پکڑ لی ۔ ابوجہل نے کہا ، کیا اس سے بھی بڑا کوئی آدمی ہے جسے تم نے آج قتل کر ڈالا ہے ؟ یا ( اس نے یہ کہا کہ کیا اس سے بھی بڑا ) کوئی آدمی ہے جسے اس کی قوم نے قتل کر ڈالا ہے ؟ احمد بن یونس نے ( اپنی روایت میں ) «أنت» ابوجھل کے الفاظ بیان کئے ہیں ۔ یعنی انہوں نے یہ پوچھا ، کیا تو ہی ابوجہل ہے ۔