صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ عِدَّةِ أَصْحَابِ بَدْرٍ: باب: جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کا شمار۔
حدیث نمبر: 3958
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : " كُنَّا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَحَدَّثُ أَنَّعِدَّةَ أَصْحَابِ بَدْرٍ عَلَى عِدَّةِ أَصْحَابِ طَالُوتَ الَّذِينَ جَاوَزُوا مَعَهُ النَّهَرَ , وَلَمْ يُجَاوِزْ مَعَهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ بِضْعَةَ عَشَرَ وَثَلَاثَ مِائَةٍ " .مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا ، ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے اسحاق نے ، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` ہم اصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے کہ اصحاب بدر کی تعداد بھی اتنی ہی تھی جتنی اصحاب طالوت کی ۔ جنہوں نے آپ کے ساتھ نہر فلسطین پار کی تھی اور ان کے ساتھ نہر کو پار کرنے والے صرف مومن ہی تھے یعنی تین سو دس سے کچھ زیادہ آدمی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3959 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3959. حضرت براء ؓ سے مزید ایک روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم آپس میں باتیں کیا کرتے تھے کہ اصحاب بدر تین سو دس سے کچھ زیادہ تھے۔ وہ اصحاب طالوت کی تعداداکے برابر تھے جنہوں نے ان کے ساتھ نہر پار کی تھی۔ اور اسے عبور کرنے والے صرف ایمان دار ہی تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3959]
حدیث حاشیہ:
1۔
جب دمشق کے نواح میں طالوت اور جالوت کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے طالوت کی فوج کا نہراردن کے ذریعے سے امتحان لیناچاہا۔
حضرت طالوت نےاپنی فوج سے فرمایا: ’’جس نے اس نہر سے پانی پیا وہ میرا ساتھی نہیں۔
میراساتھی وہ ہے جو اسے نہ چکھے گا الا یہ کہ چلو بھر پانی پی لے۔
پھر ان میں سے چند آدمیوں کے سوا سب نےسیر ہوکرپانی پیا۔
‘‘ (البقرہ: 249/2)
2۔
طالوت کی اس فوج میں حضرت داؤد ؑ بھی شامل تھے جنھوں نے جالوت کوقتل کیا جوکفر کی کمان کررہا تھا۔
3۔
اس حدیث کامطلب یہ ہےکہ جیسے اصحاب طالوت مومن تھے ایسے ہی اصحاب بدر بھی سب کے سب مومن تھے۔
اس کایہ مطلب نہیں کہ جو بدر میں شریک نہیں ہوئے وہ مومن نہیں کیونکہ یہ تو ایک ہنگامی جنگ تھی۔
الغرض اصحاب بدر، طالوت کے ساتھیوں کے ساتھ تعداد اور صفت ایمان میں برابر تھے۔
اصحاب بدر کی تعداد تین سو تیرہ کے لگ بھگ تھی۔
واللہ اعلم۔
4۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ آٹھ آدمی ایسے ہیں جنھیں غزوہ بدر میں عدم شمولیت کے باوجود مال غنیمت سے حصہ دیاگیا کیونکہ وہ کسی خاص مجبوری کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے تھے۔
ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:۔
حضرت عثمان بن عفان ؓ وہ حضرت رقیہؓ کی تیمارداری کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔
۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ اور سعید بن زید ؓ کو قافلہ کفار کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجاگیا۔
حضرت ابولبابہ ؓ کو مقام روحاء سے مدینے کی نگرانی کے لیے واپس کردیا گیا۔
۔
حضرت عاصم بن عدی ؓ کو اہل عالیہ کے لیے اور حارث بن حاطب ؓ کوقبیلہ عمرو بن عوف پر نگران مقرر کیا گیا۔
۔
حضرت حارث بن صمہ ؓ مقام روحاء میں گر پڑے اور ان کی ہڈی ٹوٹ گئی، انھیں واپس مدینے بھیج دیا گیا۔
۔
حضرت خوات بن جبیر ؓ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو۔
(فتح الباري: 365/7)
1۔
جب دمشق کے نواح میں طالوت اور جالوت کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے طالوت کی فوج کا نہراردن کے ذریعے سے امتحان لیناچاہا۔
حضرت طالوت نےاپنی فوج سے فرمایا: ’’جس نے اس نہر سے پانی پیا وہ میرا ساتھی نہیں۔
میراساتھی وہ ہے جو اسے نہ چکھے گا الا یہ کہ چلو بھر پانی پی لے۔
پھر ان میں سے چند آدمیوں کے سوا سب نےسیر ہوکرپانی پیا۔
‘‘ (البقرہ: 249/2)
2۔
طالوت کی اس فوج میں حضرت داؤد ؑ بھی شامل تھے جنھوں نے جالوت کوقتل کیا جوکفر کی کمان کررہا تھا۔
3۔
اس حدیث کامطلب یہ ہےکہ جیسے اصحاب طالوت مومن تھے ایسے ہی اصحاب بدر بھی سب کے سب مومن تھے۔
اس کایہ مطلب نہیں کہ جو بدر میں شریک نہیں ہوئے وہ مومن نہیں کیونکہ یہ تو ایک ہنگامی جنگ تھی۔
الغرض اصحاب بدر، طالوت کے ساتھیوں کے ساتھ تعداد اور صفت ایمان میں برابر تھے۔
اصحاب بدر کی تعداد تین سو تیرہ کے لگ بھگ تھی۔
واللہ اعلم۔
4۔
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ آٹھ آدمی ایسے ہیں جنھیں غزوہ بدر میں عدم شمولیت کے باوجود مال غنیمت سے حصہ دیاگیا کیونکہ وہ کسی خاص مجبوری کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے تھے۔
ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:۔
حضرت عثمان بن عفان ؓ وہ حضرت رقیہؓ کی تیمارداری کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے۔
۔
حضرت طلحہ بن عبیداللہ اور سعید بن زید ؓ کو قافلہ کفار کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجاگیا۔
حضرت ابولبابہ ؓ کو مقام روحاء سے مدینے کی نگرانی کے لیے واپس کردیا گیا۔
۔
حضرت عاصم بن عدی ؓ کو اہل عالیہ کے لیے اور حارث بن حاطب ؓ کوقبیلہ عمرو بن عوف پر نگران مقرر کیا گیا۔
۔
حضرت حارث بن صمہ ؓ مقام روحاء میں گر پڑے اور ان کی ہڈی ٹوٹ گئی، انھیں واپس مدینے بھیج دیا گیا۔
۔
حضرت خوات بن جبیر ؓ کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو۔
(فتح الباري: 365/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3959 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3957 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3957. حضرت براء ؓ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے اصحاب محمد ﷺ نے بتایا جو بدر میں شریک تھے کہ ان کی تعداد اصحاب طالوت جتنی تھی، جنہوں نے ان کے ساتھ نہر کو پار کیا تھا۔ وہ تین سو دس سے کچھ اوپر تھے۔ حضرت براء نے فرمایا: اللہ کی قسم! حضرت طالوت کے ہمراہ نہر کو صرف وہی لوگ پار کر سکے جو مومن تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3957]
حدیث حاشیہ: بے ایمان سب نہر کا پانی بے صبری سے پی پی کر پیٹ پھلاپھلا کر ہمت ہار چکے تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3957 سے ماخوذ ہے۔