صحيح البخاري

كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں

بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُرْدِفِينَ وَمَا جَعَلَهُ اللَّهُ إِلاَّ بُشْرَى وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ وَمَا النَّصْرُ إِلاَّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ إِذْ يُغَشِّيكُمُ النُّعَاسَ أَمَنَةً مِنْهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الأَقْدَامَ إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلاَئِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يُشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} . باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے، پھر اس نے تمہاری فریاد سن لی، اور فرمایا کہ تمہیں لگاتار ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا اور اللہ نے یہ بس اس لیے کیا کہ تمہیں بشارت ہو اور تاکہ تمہارے دلوں کو اس سے اطمینان حاصل ہو جائے، ورنہ فتح تو بس اللہ ہی کے پاس سے ہے، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے اور وہ وقت بھی یاد کرو جب اللہ نے اپنی طرف سے چین دینے کو تم پر نیند کو بھیج دیا تھا اور آسمان سے تمہارے لیے پانی اتار رہا تھا کہ اس کے ذریعے سے تمہیں پاک کر دے اور تم سے شیطانی وسوسہ کو دفع کر دے اور تاکہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس کے باعث تمہارے قدم جما دے (اور اس وقت کو یاد کرو) جب تیرا پروردگار وحی کر رہا تھا فرشتوں کی طرف کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، سو ایمان لانے والوں کو جمائے رکھو میں ابھی کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں، سو تم کافروں کی گردنوں پر مارو اور ان کے جوڑوں پر ضرب لگاو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے، سو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔

حدیث نمبر: 3952
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ مُخَارِقٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : شَهِدْتُ مِنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ مَشْهَدًا لَأَنْ أَكُونَ صَاحِبَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ , أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " لَا نَقُولُ كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلا سورة المائدة آية 24 وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ , وَبَيْنَ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ " ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَقَ وَجْهُهُ وَسَرَّهُ يَعْنِي قَوْلَهُ .
مولانا داود راز

´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ، ان سے مخارق بن عبداللہ بجلی نے ، ان سے طارق بن شہاب نے ، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ` میں نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے ایک ایسی بات سنی کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہو جاتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی ۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مشرکین پر بددعا کر رہے تھے ۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم وہ نہیں کہیں گے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ جاؤ ، تم اور تمہارا رب ان سے جنگ کرو ، بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں ، آگے اور پیچھے جمع ہو کر لڑیں گے ۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو گئے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المغازي / حدیث: 3952
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4609

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3952. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت مقداد بن اسود ؓ میں ایک ایسی بات دیکھی، اگر وہ بات مجھے حاصل ہوتی تو کسی نیکی کو اس کے برابر خیال نہ کرتا۔ ہوا یوں کہ حضرت مقداد بن اسود ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکین پر بددعا کر رہے تھے۔ حضرت مقداد ؓ نے کہا: ہم ایسا نہیں کہیں گے جیسا حضرت موسٰی ؑ کی قوم نے ان سے کہا تھا: ’’تو اور تیرا رب دونوں جاؤ اور وہاں دونوں لڑائی کرو۔‘‘ بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا تھا اور آپ ان پاکیزہ جذبات سے مسرور ہوئے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3952]
حدیث حاشیہ: ہوایہ تھا کے بدر کے دن آنحضرت ﷺ قریش کے ایک قافلہ کی خبرسن کر مدینہ سے نکلے تھے۔
وہاں قافلہ تونکل گیا فوج سے لڑائی ٹھن گئی، جس میں خود کفار مکہ جارح کی حیثیت سے تیار ہوکر آئے تھے۔
اس نازک مرحلہ پر رسول کریم ﷺ نے جملہ صحابہ سے جنگ کے متعلق نظریہ معلوم فرمایا۔
اس وقت جملہ مہاجرین وانصار نے آپ کو تسلی دی اوراپنی آمادگی کا اظہار کیا۔
انصارنے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آپ اگر برک الغماد نامی دور دراز جگہ تک ہم کو جنگ کے لیے لے جائیں گے تو بھی ہم آپ کے ساتھ چلنے اور جان ودل سے لڑنے کو حاضر ہیں۔
اس پر آپ بے حد مسرور ہوئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3952 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3952. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت مقداد بن اسود ؓ میں ایک ایسی بات دیکھی، اگر وہ بات مجھے حاصل ہوتی تو کسی نیکی کو اس کے برابر خیال نہ کرتا۔ ہوا یوں کہ حضرت مقداد بن اسود ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکین پر بددعا کر رہے تھے۔ حضرت مقداد ؓ نے کہا: ہم ایسا نہیں کہیں گے جیسا حضرت موسٰی ؑ کی قوم نے ان سے کہا تھا: ’’تو اور تیرا رب دونوں جاؤ اور وہاں دونوں لڑائی کرو۔‘‘ بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے لڑیں گے۔ حضرت ابن مسعود ؓ کا بیان ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا تھا اور آپ ان پاکیزہ جذبات سے مسرور ہوئے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3952]
حدیث حاشیہ:
ہوا یوں کے رسول اللہ ﷺ بدر کے دن ابوسفیان کا قافلہ لوٹنے کے لیے لوگوں کو ہمراہ لے کر مدینہ طیبہ سے نکلے تھے۔
وادی صفراء میں جا کر پتہ چلا کہ ابوسفیان اپنے قافلے کے ہمراہ محفوظ طریقے سے نکل چکا ہے اور قریش نے مقام بدر کا ارادہ کیا ہے اور وہ لڑائی کے لیے تیار ہیں۔
ایسے حالات میں آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے مشورہ کیا۔
حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ نے یکے بعد دیگرے آپ کو یقین دلایا، چونکہ یہ پہلی لڑائی تھی اورانصار سے معاہدہ نصرت وتحفظ کاتھا، وہ بھی مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے۔
یہ نہیں تھا کہ وہ مدینے سے باہردشمنوں سے جنگ لڑیں گے، اس لیے آپ انصار کی طرف سے اظہار جذبات کے منتظر تھے۔
آپ نے فرمایا: لوگو!مجھے مشورہ دو، اس سے مقصود انصار تھے اور یہ بات انصار کے کمانڈر حضت سعد بن معاذ ؓ نے بھانپ لی، چنانچہ انھوں نے عرض کی، اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا جو بھی ارادہ ہو آپ اس کے مطابق پیش قدمی کریں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اگرآپ ہمیں ساتھ لے کر اس سمندر میں کودنا چاہیں تو ہم اس میں بھی آپ کے ساتھ کود پڑیں گے۔
ہمارا ایک آدمی بھی اس سے پیچھے نہیں رہے گا۔
حضرت سعد ؓ کی یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور آپ پر نشاط طاری ہوئی۔
(فتح الباري: 359/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3952 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4609 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4609. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت مقداد بن اسود ؓ نے بدر کے دن کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے یہ نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تھا: "تو اور تیرا رب دونوں جاؤ اور (ان سے) لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں۔" لیکن آپ چلیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے تمام خدشات دور ہو گئے اور آپ بہت خوش ہوئے۔ امام وکیع نے سفیان سے، انہوں نے مخارق سے، انہوں نے طارق سے بیان کیا کہ حضرت مقداد ؓ نے یہ بات نبی ﷺ سے کہی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4609]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں اس کی مزید تفصیل ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت مقداد بن اسود ؓ سے ایک ایسی بات سنی ہے کہ اگر وہ بات میری زبان سے ادا ہوتی تو میرے لیے کسی بھی چیز کے مقابلے میں زیادہ عزیز ہوتی۔
وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ اس وقت آپ مشرکین کے خلاف بد دعا کر رہے تھے انھوں نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ! ہم وہ بات نہیں کہیں گے جو حضرت موسی ؑ کی قوم نے کہی تھی: "جاؤ تم اور تمھارا رب ان سے جنگ کرو۔
" بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے ہو کر لڑیں گے۔
میں نے دیکھا کہ یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ کا چہر انور چمکنے لگا اور آپ بہت خوش ہوئے۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3952)

دراصل ہوا یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ قریش کے ایک قافلے کی خبر سن کر مدینہ طیبہ سے نکلے تھے لیکن قافلہ تو بحفاظت نکل گیا البتہ کفار مکہ سے لڑائی ٹھن گئی جس میں کفار ایک جارح کی حیثیت سے تیار ہوکر آئے تھے۔
اس نازک مرحلے پر رسول اللہ ﷺ نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے جنگ کے متعلق مشورہ کیا تو سب نے آپ کو تسلی دی اور جنگ پر آمادہ گی کا اظہار کیا انصار نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر آپ برک الغماد نامی دور دراز جگہ تک ہمیں جنگ کے لیے لے جائیں گے تو بھی ہم آپ کے ساتھ چلنےاور جان و مال سے لڑنے کے لیے حاضرہیں۔

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ نے بھی وہی بات کہی جو حضرت مقداد ؓ نے کہی تھی ممکن ہے کہ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت مقدادؓ دونوں نے ویسا کہا ہو۔
بہر حال اس سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی جاں نثاری اور وفاداری کا پتہ چلتا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4609 سے ماخوذ ہے۔