صحيح البخاري
كتاب المغازي— کتاب: غزوات کے بیان میں
بَابُ غَزْوَةِ الْعُشَيْرَةِ أَوِ الْعُسَيْرَةِ: باب: غزوہ عشیرہ یا عسرہ کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , كُنْتُ إِلَى جَنْبِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَقِيلَ لَهُ : " كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ ؟ " قَالَ : " تِسْعَ عَشْرَةَ " ، قِيلَ : كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ ؟ قَالَ : سَبْعَ عَشْرَةَ ، قُلْتُ : فَأَيُّهُمْ كَانَتْ أَوَّلَ ؟ قَالَ : " الْعُسَيْرَةُ أَوْ الْعُشَيْرُ " , فَذَكَرْتُ لِقَتَادَةَ ، فَقَالَ : الْعُشَيْرُ .´مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے ابواسحاق نے کہ` میں ایک وقت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا ۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے غزوے کئے ؟ انہوں نے کہا انیس ۔ میں نے پوچھا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کتنے غزوات میں شریک رہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ سترہ میں ۔ میں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا ؟ کہا کہ عسیرہ یا عشیرہ ۔ پھر میں نے اس کا ذکر قتادہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ( صحیح لفظ ) عشیرہ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
غزوہ بدر کا سبب عشیرہ کا سفرتھا۔
رسول اللہ ﷺ قریش کے سردارابوسفیان کا پیچھا کرنے کے لیے نکلے جو شام سے مالِ تجارت لے کر واپس مکے جارہے تھے۔
اور ابوجہل وغیرہ اس کے تعاون کے لیے نکلے۔
مالِ تجارت والا قافلہ تو بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔
لیکن مقام بدر پر اسلام اور کفر کے مابین عظیم معرکہ برپا ہوا جس میں ابوجہل اور قریش کے بڑے بڑے سورما مارے گئے۔
کفر کی ٹوٹ گئی اور اسلام کا عروج شروع ہوا۔
2۔
امام بخاری ؒ نے کتاب المغازی کا آغاز غزوہ عشیرہ سے کیا ہے اور اس میں زید بن ارقم ؓ کی روایت لائے ہیں، حالانکہ اہل سیر کا اتفاق ہے کہ اس سے پہلے تقریباً تین غزوات ہوچکےتھے۔
اس بنا پر حضرت زید بن ارقم ؓ کے قول کی یہ توجیہ ہوگی کہ شاید اس وقت حضرت زید ؓ مسلمان نہ ہوئے ہوں، یا انھوں نے چھوٹے چھوٹے غزوات کو ذکر کرنا مناسب خیال نہ کیا ہو، یا انھوں نے اپنے علم کے مطابق بیان کیا ہو اور اس عشیرہ سے پہلے غزوات کا انھیں علم نہ ہوسکا۔
3۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری ؒ کی غرض اول المغازی کو بیان کرنا نہیں بلکہ غزوہ عشیرہ کاخاص طورپر اس لیے ذکر کیا ہے کہ وہ غزوہ بدر کبریٰ کے لیے بطور تمہید کے ہے۔
انھوں نے ابن اسحاق کا قول بھی اسی لیے ذکر کیا جاتا ہےتاکہ حضرت زید بن ارقم کی روایت سے اول المغازی کا وہم دور ہوجائے۔
4۔
غزوہ عشیرہ سے پہلے سرایا اور غزوات حسب ذیل ہیں:۔
سریہ سیف البحر رمضان 1ہجری۔
۔
سریہ رابغ شوال 1ہجری۔
۔
غزوہ ابواء صفر 2ہجری۔
۔
سریہ ضرار ذی القعدہ 1ہجری۔
۔
غزوہ بواط ربیع الاول 2ہجری۔
۔
غزوہ سفوان ربیع الاول 2ہجری۔
۔
اس کے بعد غزوہ عشیرہ جمادی الاولیٰ 2ہجری میں پیش آیا۔
پھر سریہ نخلہ رجب 2ہجری میں ہوا۔
آخر میں غزوہ بدر کبریٰ ہوا جو حق وباطل کے درمیان حقیقی فیصلہ کن غزوہ تھا جسے قرآن نے یوم الفرقان کا نام دیا ہے۔
5۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آٹھ جنگیں خود لڑی ہیں ان میں بدر، اُحد، احزاب، بنی مصطلق، خبیر، مکہ، حنین اور طائف سرفہرست ہیں۔
بنوقریظہ سے جنگ، احزاب ہی کا حصہ تھا۔
واللہ اعلم۔
جنگ ہویا نہ ہو۔
ابویعلیٰ کی روایت میں اکیس جہاد ایسے منقول ہیں جن میں آنحضرت ﷺ تشریف لے گئے ہیں۔
بعض نے کہا آپ ستائیس جہادوں میں خود تشریف لے گئے ہیں اور47 لشکر ایسے روانہ کئے ہیں جن میں خود شریک نہیں ہوئے، جن جہادوں میں جنگ ہوئی وہ نو ہیں۔
بدر، احد، مریسیع، خندق، بنی قریظہ، خیبر، فتح مکہ، حنین، اور طائف۔
آپ ہر سال حج کرتے تھے۔
(وحیدی)
1۔
ابواسحاق کی روایت سے وہم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت سے پہلے ایک حج کیا ہے، حالانکہ آپ نے ہجرت سے پہلے متعدد حج کیے ہیں کیونکہ آپ نے مکہ میں رہتے ہوئے کوئی حج ترک نہیں کیا۔
2۔
قریش کے لیے توحج بیت اللہ وجہ فخرومباہات تھا، اس سے وہ دوسرے قبائل سے پہچانے جاتے تھے۔
جب قریش کافر ہونے کے باوجود حج ترک نہ کرتے تھے تو کیا رسول اللہ ﷺ اسے چھوڑدیتے ہوں گے؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ حضرت جبیر بن معطم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج کے موقع پر دیکھا تھا کہ آپ میدان عرفات میں وقوف کررہے تھے جبکہ قریش مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے، نیز اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رسول اللہ ﷺ حج کے موقع پر مختلف قبائل کو دین اسلام کی دعوت دیتے تھے۔
انصار کے ساتھ تینوں بیعتیں بھی حج کے موقع پر ہوئی تھیں۔
(فتح الباري: 134/8)
لکھی ہے، جن میں نو غزوات میں جنگ میں حصہ لیا اور غزوہ احزاب اور غزوہ بنی قریظہ کو ایک شمار کریں تو تعداد آٹھ ہو گی، صحیح تعداد یہ ہے، بعض نے تعداد انیس (19)
اکیس (21)
بائیس(22)
چوبیس(24)
پچیس (25)
اور چھبیس(26)
بھی لکھی ہے۔