حدیث نمبر: 3641
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ ، وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ " ، قَالَ : عُمَيْرٌ ، فَقَالَ مَالِكُ بْنُيُ خَامِرَ : قَالَ مُعَاذٌ وَهُمْ بِالشَّأْمِ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : هَذَا مَالِكٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاذًا ، يَقُولُ : وَهُمْ بِالشَّأْمِ .
مولانا داود راز

´ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یزید بن جابر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا اور انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا ، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے ، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حالت پر ہیں گے ۔ عمیر نے بیان کیا کہ اس پر مالک بن یخامر نے کہا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں یہ لوگ شام میں ہیں ۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دیکھو یہ مالک بن یخامر یہاں موجود ہیں ، جو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ یہ لوگ شام کے ملک میں ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المناقب / حدیث: 3641
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 7460

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3641. حضرت معاویہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ کی شریعت کوقائم رکھے گا۔ انھیں ذلیل یا ان کی مخالفت کرنے والے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے گا اور وہ اسی حالت پر گامزن ہوں گے۔‘‘ (راوی حدیث) عمیر نے کہا کہ مالک بن یخامر حضرت معاذ بن جبل کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں وہ لوگ شام میں ہیں۔ حضرت امیر معاویہ ؓ نے کہا: یہ مالک بن یخامر حضرت معاذ بن جبل ؓ کے حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ شام کے علاقے میں ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3641]
حدیث حاشیہ: حضرت معاویہ ؓ بھی شام میں تھے۔
ان کا مطلب یہ تھا کہ اہل شام اس حدیث سے مراد ہیں، مگر یہ کوئی خصوصیت نہیں ہے، مطلب آنحضرت ﷺ کا یہ ہے کہ میری امت کے سب لوگ یک دم گمراہ ہوجائیں ایسا نہ ہوگا بلکہ ایک گروہ تب بھی ضرور بالضرور حق پر قائم رہے گا اور یہ اہل حدیث کا گروہ ہے، امام احمد بن حنبل نے یہی فرمایا ہے اور بھی بہت سے علماءنے صراحت سے لکھا ہے کہ اس پیشین گوئی کے مصداق وہ لوگ ہیں جنہوں نے قیل وقال اور آراءرجال سے ہٹ کر صرف ظاہر نصوص کتاب وسنت کو اپنا مدار عمل قرار دیا اور صحابہ تابعین اور تبع تابعین و محدثین وائمہ مجتہدین کے طرز عمل کو اپنایا، ظاہر ہے کہ مذکورہ بزرگان اسلام موجودہ تقلید جامد کے شکار نہ تھے نہ ان میں مسالک کے ناموں پر مختلف گروہ تھے جیسا کہ بعد میں پیدا ہوئے کہ کعبہ شریف تک کو چار مصلوں میں تقسیم کردیا گیا۔
شکر ہے اللہ پاک کا کہ جماعت اہل حدیث کی مساعی کے نتیجہ میں آج مسلمان پھر کتاب وسنت کی طرف آرہے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3641 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3641. حضرت معاویہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ کی شریعت کوقائم رکھے گا۔ انھیں ذلیل یا ان کی مخالفت کرنے والے انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے گا اور وہ اسی حالت پر گامزن ہوں گے۔‘‘ (راوی حدیث) عمیر نے کہا کہ مالک بن یخامر حضرت معاذ بن جبل کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں وہ لوگ شام میں ہیں۔ حضرت امیر معاویہ ؓ نے کہا: یہ مالک بن یخامر حضرت معاذ بن جبل ؓ کے حوالے سے کہہ رہے ہیں کہ یہ لوگ شام کے علاقے میں ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3641]
حدیث حاشیہ:

یہ دونوں احادیث بھی علامات نبوت سے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے لے کر اس وقت تک یہ وصف باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گا۔
حدیث میں مذکور غلبے سے مراد سیاسی اور اخلاقی غلبہ ہے کیونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ طائفہ منصورہ حکومت کے کارندوں سے ہو۔
حضرت امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے تھے کہ اس سے اہل حدیث مراد نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا وہ کون ہوں گے؟ البتہ امام بخاری ؒ نے اس سے مراد اہل علم کی جماعت لی ہے جیسا کہ انھوں نے خود صراحت کی ہے۔
(صحیح البخاري، الاعتصام بالکتاب والسنة، قبل الحدیث: 7311)

حضرت امیر معاویہ ؓ کی حکومت شام کے علاقے میں تھی انھوں نے اس حدیث کو اپنی حقانیت کے لیے پیش فرمایا کیونکہ طائفہ ظاہر ہ اور منصورہ اس وقت صرف ا نھی کا تھا مگر یہ کوئی خصوصیت نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کا مقصود یہ ہے کہ میری امت کے سب لوگ یکدم گمراہ ہو جائیں ایسا نہیں ہو گا بلکہ اس شریعت کی آبیاری کرنے والے ہر وقت موجود رہیں گے اور قیامت تک باقی رہیں گے الحمد اللہ۔
اہل حدیث حضرات کی کوششوں کے نتیجے میں لوگ کتاب و سنت کی طرف آرہے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3641 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7460 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7460. سیدنا معاویہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا اسے جھٹلانے والے اورد یگر مخالفین کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا امر یعنی قیامت آجائے گی اور وہ اسی حال میں ہوں گے۔ مالک بن یخامر نے کہا: میں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ یہ گروہ شام میں ہوگا اس پر سیدنا معاویہ نے کہا: یہ مالک بن یخامر، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتا کہ وہ گروہ شام میں ہوگا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7460]
حدیث حاشیہ:

مذکورہ احادیث میں حق پر قائم رہنے والے جس گروہ کا ذکر ہےدیگراحادیث میں ان کے دستور العمل کی وضاحت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ وہ میرے اور میرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے راستے پر چلنے والے ہوں گے۔
(جامع الترمذي، الإیمان، حدیث: 2641)

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوان ثابت کرنے کے لیے۔
’’یہاں تک کہ اللہ کا امر آجائے گا۔
‘‘ کو دلیل بنایا ہے۔
اس سے مراد وہ کونی اور قدری امر ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے فیصلہ کیا جیسا کہ صحیح مسلم کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے پھر اس تقدیر کے فیصلے کو اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی فرمایی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو اس کی تعلیم دیں۔
جب اس کا وقت آپہنچے گا تو اللہ تعالیٰ کلمہ کن سے اسے برپا کر دے گا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ امر اس کی صفات میں سے ہے اور غیر مخلوق ہے۔
یہ امر اور اللہ تعالیٰ کا قول دونوں ایک ہی چیزیں ہیں اور قیامت اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے جو کلمہ کن کے اثرات سے قائم ہو گی۔
علامہ ابن بطال فرماتے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد معتزلہ کی تردید کرنا ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ امر مخلوق ہے۔
ان کا موقف علمائے سلف کے خلاف ہے۔
واللہ أعلم۔
(فتح الباري: 549/13)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7460 سے ماخوذ ہے۔