صحيح البخاري
كتاب المناقب— کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
بَابُ سُؤَالِ الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُرِيَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ: باب: مشرکین کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی نشانی چاہنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ شق القمر دکھانا۔
حدیث نمبر: 3638
حَدَّثَنِي خَلَفُ بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " أَنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .مولانا داود راز
´مجھ سے خلف بن خالد قرشی نے بیان کیا ، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا ، ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا ، ان سے عراق بن مالک نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
3638. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے عہد مبارک میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3638]
حدیث حاشیہ: کفار مکہ کا خیال تھا کہ یہ یعنی محمد ﷺ اپنے جادو کے زور سے زمین پر عجائبات دکھلاسکتے ہیں، آسمان پر ان کا جادو نہ چل سکے گا۔
اسی خیال کی بنیاد پر انہوں نے معجزہ شق قمر طلب کیا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دکھلایا۔
اسی خیال کی بنیاد پر انہوں نے معجزہ شق قمر طلب کیا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دکھلایا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3638 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2803 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند شق ہو گیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7079]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے، بہت سے مسافروں نے بتایا کہ انہوں نے ہندوستان میں ایک ہیکل دیکھا، جس پر لکھا ہوا تھا، یہ اس رات تعمیر ہوا، جس میں چاند شق ہوا تھا، ابن کثیر ج (6)
ص (77)
اور شق قمر کا واقعہ مالیبار میں بھی نظر آیا تھا، تاریخ فرشتہ اردو، ج (2)
ص 488۔
489 دیکھئے۔
ص (77)
اور شق قمر کا واقعہ مالیبار میں بھی نظر آیا تھا، تاریخ فرشتہ اردو، ج (2)
ص 488۔
489 دیکھئے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2803 سے ماخوذ ہے۔