حدیث نمبر: 3637
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ : " أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ " .
مولانا داود راز

´مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، ان سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شق قمر کا معجزہ یعنی چاند کا پھٹ جانا ان کو دکھایا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المناقب / حدیث: 3637
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3868 | صحيح مسلم: 2802 | سنن ترمذي: 3286

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3286 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ القمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نشانی (معجزہ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں: «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» (یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3286]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں ’’مرتین‘‘ کا معنی یہ نہیں ہے کہ چاند کے ٹکڑے ہونے کا واقعہ دو مرتبہ ہوا، یہ واقعہ دو مرتبہ ہوا نہیں، صرف ایک مرتبہ ہوا، یہاں’’مرتين‘‘ سے مراد ’’فلقتين‘‘ ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3286 سے ماخوذ ہے۔