مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 3633
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، قَالَ : أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ثُمَّ قَامَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِأُمِّ سَلَمَةَ مَنْ هَذَا أَوْ كَمَا ، قَالَ : قَالَ : قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ جِبْرِيلَ أَوْ كَمَا ، قَالَ : قَالَ : فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ : مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا ، قَالَ : مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ " .
مولانا داود راز

´ہم سے عباس بن ولید نرسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ` مجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں ۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے فرمایا : معلوم ہے یہ کون صاحب تھے ؟ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے ۔ ابوعثمان نے بیان کیا کہ ام سلمہ نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے ۔ ام سلمہ نے بیان کیا اللہ کی قسم میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ آخر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ جبرائیل علیہ السلام ( کی آمد ) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ جبرائیل علیہ السلام ہی تھے ۔ یا ایسے ہی الفاظ کہے ۔ بیان کیا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی ؟ تو انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنی ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المناقب / حدیث: 3633
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4980

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3633. حضرت ابو عثمان سے روایت ہے، انھوں نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی کہ حضرت جبریل ؑ نبی ﷺ کی خدمت میں آئے جبکہ آپ کے پاس حضرت اُم سلمہ ؓ بھی موجود تھیں۔ حضرت جبریل ؑ نے آپ ﷺ سے گفتگو کی پھراٹھ کر چلےگئے۔ نبی ﷺ نے حضرت اُم سلمہ ؓ سے فرمایا: ’’یہ کون تھے؟‘‘ حضرت اُم سلمہ ؓ نے عرض کیا: یہ حضرت وحیہ کلبی ؓ تھے۔ اُم سلمہ ؓ فرماتی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے اسے دحیہ ہی خیال کیا تھا کہ میں نے نبی ﷺ کا خطبہ سنا کہ حضرت جبریل ؑ کے آنے کا ذکر فر مارہے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو عثمان سے پوچھا: آپ نے یہ واقعہ کس سے سنا ہے؟ توانھوں نے کہا: میں نے یہ واقعہ حضرت اسامہ بن زید ؓ سے سنا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3633]
حدیث حاشیہ: حضرت جبریل ؑ کا آپ کی خدمت میں حضرت دحیہ کلبی ؓ کی صورت میں آنا مشہور ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ جس صورت میں چاہیں آسکتے ہیں۔
اس حدیث سے آنحضرت ﷺ کا رسول برحق ہونا ثابت ہوا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3633 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3633. حضرت ابو عثمان سے روایت ہے، انھوں نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی کہ حضرت جبریل ؑ نبی ﷺ کی خدمت میں آئے جبکہ آپ کے پاس حضرت اُم سلمہ ؓ بھی موجود تھیں۔ حضرت جبریل ؑ نے آپ ﷺ سے گفتگو کی پھراٹھ کر چلےگئے۔ نبی ﷺ نے حضرت اُم سلمہ ؓ سے فرمایا: ’’یہ کون تھے؟‘‘ حضرت اُم سلمہ ؓ نے عرض کیا: یہ حضرت وحیہ کلبی ؓ تھے۔ اُم سلمہ ؓ فرماتی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے اسے دحیہ ہی خیال کیا تھا کہ میں نے نبی ﷺ کا خطبہ سنا کہ حضرت جبریل ؑ کے آنے کا ذکر فر مارہے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو عثمان سے پوچھا: آپ نے یہ واقعہ کس سے سنا ہے؟ توانھوں نے کہا: میں نے یہ واقعہ حضرت اسامہ بن زید ؓ سے سنا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3633]
حدیث حاشیہ:

حضرت وحیہ کلبی ؓ مشہور صحابی ہیں اور بہت ہی خوبصورت اور وجیہ تھے۔
حضرت جبریل ؑ جب انسانی شکل میں آتے تو اکثراوقات حضرت وحیہ کلبی کی صورت اختیار کرتے۔

اس حدیث میں حضرت جبریل ؑ کا ذکر ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ کو غیب کی خبریں بتایا کرتے تھے۔
اس اعتبار سے یہ حدیث نبوت کی دلیل ہے۔
(عمدة القاري: 367/11)

ابوعثمان نے اس حدیث کو صیغہ تمریض سے بیان کیا تھا،امام بخاری ؒ نے حدیث کے آخر میں وضاحت کردی کہ انھوں نے یہ حدیث حضرت اسامہ بن زید ؓ سے سنی تھی،لہذا اس میں ضعیف وغیرہ کا کوئی امکان نہیں۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3633 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4980 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4980. سیدنا ابو عثمان (نہدی) سے روایت ہے: مجھے بتایا گیا کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل ؑ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرنے لگے۔ اس وقت سیدنا ام سلمہ ؓ بھی آپ کے پاس موجود تھیں۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ ام المومنین ؓ نے عرض کی: یہ دحیہ کلبی ہیں۔ جب وہ چلے گئے تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے انھیں دحیہ کلبی ہی خیال کیا تھا حتیٰ کہ میں نے نبی ﷺ کا خطبہ سنا کہ آپ سیدنا جبریل ؑ کی خبر ذکر کر رہے تھے۔ (راوی حدیث معتمر کہتے ہیں:) میرے والد نےابو عثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی تھی؟ سیدنا اسامہ بن زید ؓ سے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4980]
حدیث حاشیہ: دحیہ الکلبی ایک خوبصورت صحابی تھے حضرت جبریل علیہ السلام جب آدمی کی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو ان ہی کی صورت میں آیا کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4980 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4980 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4980. سیدنا ابو عثمان (نہدی) سے روایت ہے: مجھے بتایا گیا کہ ایک مرتبہ حضرت جبریل ؑ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرنے لگے۔ اس وقت سیدنا ام سلمہ ؓ بھی آپ کے پاس موجود تھیں۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ ام المومنین ؓ نے عرض کی: یہ دحیہ کلبی ہیں۔ جب وہ چلے گئے تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے انھیں دحیہ کلبی ہی خیال کیا تھا حتیٰ کہ میں نے نبی ﷺ کا خطبہ سنا کہ آپ سیدنا جبریل ؑ کی خبر ذکر کر رہے تھے۔ (راوی حدیث معتمر کہتے ہیں:) میرے والد نےابو عثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی تھی؟ سیدنا اسامہ بن زید ؓ سے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4980]
حدیث حاشیہ:

حضرت وحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت خوبصورت صحابی تھے۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام جب آدمی کی صورت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صورت میں تشریف لاتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک سوار شخص کو دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محو گفتگو تھا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو انھوں نے عرض کی: آپ کس سے گفتگو فرما رہے تھے؟ آپ نے فرمایا: ’’تم اسے کس سے تشبیہ دیتی ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: دحیہ بن خلیفہ کلبی سے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے اور مجھے بنو قریظہ کی طرف جانے کا کہہ رہے تھے۔
‘‘2۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فرشتہ وحی انسانی شکل میں ظاہر ہوا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نےفرشتہ وحی کے آنے کی کیفیت کو بیان کیا ہے کہ وہ بعض اوقات انسانی شکل میں آتے تھے۔
واللہ اعلم۔
(فتح الباري: 8/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4980 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔