صحيح البخاري
كتاب المناقب— کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَةَ وَآلَ عِمْرَانَ فَكَانَ يَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَادَ نَصْرَانِيًّا فَكَانَ ، يَقُولُ : مَا يَدْرِي مُحَمَّدٌ إِلَّا مَا كَتَبْتُ لَهُ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ فَدَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ ، فَقَالُوا : هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ فَأَعْمَقُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ ، فَقَالُوا : هَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَأَصْحَابِهِ نَبَشُوا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا هَرَبَ مِنْهُمْ فَأَلْقَوْهُ فَحَفَرُوا لَهُ وَأَعْمَقُوا لَهُ فِي الْأَرْضِ مَا اسْتَطَاعُوا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْهُ الْأَرْضُ فَعَلِمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنَ النَّاسِ فَأَلْقَوْهُ " .´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` ایک شخص پہلے عیسائی تھا ۔ پھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا ۔ اس نے سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھ لی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی بن گیا لیکن پھر وہ شخص مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا انہیں اور کچھ بھی معلوم نہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی موت واقع ہو گئی اور اس کے آدمیوں نے اسے دفن کر دیا ۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے نکل کر زمین کے اوپر پڑی ہے ۔ عیسائی لوگوں نے کہا کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے ۔ چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھودی ہے اور لاش کو باہر نکال کر پھینک دیا ہے ۔ چنانچہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی ۔ لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی ۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے ۔ پھر انہوں نے قبر کھودی اور جتنی گہری ان کے بس میں تھی کر کے اسے اس کے اندر ڈال دیا لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی ۔ اب انہیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے ( بلکہ یہ میت اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہے ) چنانچہ انہوں نے اسے یونہی ( زمین پر ) ڈال دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
آج بھی گستاخان رسول کو ایسی ہی سزائیں ملتی رہتی ہیں۔
لوکانوا یعلمون۔
1۔
یہ اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی تھی جو اس نے نصرانی کے مرتد ہونے پر لوگوں کو دکھائی کہ زمین نے اسے بار بار باہر پھینکا تاکہ دیکھنے والے عبرت حاصل کریں کہ مرتد کا یہ حال ہوتا ہے کہ اسے زمین بھی اپنے اندر جگہ نہیں دیتی۔
2۔
یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔
آج بھی گستاخان رسول کو ایسی سزائیں ملتی رہتی ہیں۔
ایک روایت کے مطابق حضرت انس ؓ فرماتے ہیں۔
وہ ہمارے بنو نجار قبیلے سے تھا۔
جب وہ مرتد ہوا۔
تو لوگوں نے اس بات کو بہت اچھالا کہ یہ تو کاتب وحی تھا بالآخر اپنے حواریوں میں رہتے ہوئے اچانک گردن ٹوٹنے سے اس کی موت واقع ہوئی تو اس کے ساتھ مذکورہ واقعہ پیش آیا کہ اسے زمین نے قبول نہ کیا۔
(صحیح مسلم، صفات المنافقین، حدیث: 7040(2781)
3۔
بعض شارحین نے صحیح مسلم کے حوالے سے اس مرتد کا نام عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح لکھا ہے لیکن صحیح مسلم میں مجھے اس کی صراحت نہیں مل سکی۔
واللہ أعلم۔