صحيح البخاري
كتاب المناقب— کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ، يَقُولُ : جَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي فِي مَنْزِلِهِ فَاشْتَرَى مِنْهُ رَحْلًا ، فَقَالَ " لِعَازِبٍ ابْعَثْ ابْنَكَ يَحْمِلْهُ مَعِي ، قَالَ : فَحَمَلْتُهُ مَعَهُ وَخَرَجَ أَبِي يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْنِي كَيْفَ صَنَعْتُمَا حِينَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا وَمِنَ الْغَدِ حَتَّى قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلَا الطَّرِيقُ لَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ فَرُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهُ وَسَوَّيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانًا بِيَدِي يَنَامُ عَلَيْهِ وَبَسَطْتُ فِيهِ فَرْوَةً ، وَقُلْتُ : نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا أَنْفُضُ لَكَ مَا حَوْلَكَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعٍ مُقْبِلٍ بِغَنَمِهِ إِلَى الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا مِثْلَ الَّذِي أَرَدْنَا ، فَقُلْتُ لَهُ : لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ ، فَقَالَ : لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ ، قُلْتُ : أَفِي غَنَمِكَ لَبَنٌ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَفَتَحْلُبُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَخَذَ شَاةً ، فَقُلْتُ : انْفُضْ الضَّرْعَ مِنَ التُّرَابِ وَالشَّعَرِ وَالْقَذَى ، قَالَ : فَرَأَيْتُ الْبَرَاءَ يَضْرِبُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى يَنْفُضُ فَحَلَبَ فِي قَعْبٍ كُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ وَمَعِي إِدَاوَةٌ حَمَلْتُهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَوِي مِنْهَا يَشْرَبُ وَيَتَوَضَّأُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ فَوَافَقْتُهُ حِينَ اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ مِنَ الْمَاءِ عَلَى اللَّبَنِ حَتَّى بَرَدَ أَسْفَلُهُ ، فَقُلْتُ : اشْرَبْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَشَرِبَ حَتَّى رَضِيتُ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ ، قُلْتُ : بَلَى ، قَالَ : فَارْتَحَلْنَا بَعْدَ مَا مَالَتِ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ ، فَقُلْتُ : أُتِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَدَعَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَطَمَتْ بِهِ فَرَسُهُ إِلَى بَطْنِهَا أُرَى فِي جَلَدٍ مِنَ الْأَرْضِ شَكَّ زُهَيْرٌ ، فَقَالَ : إِنِّي أُرَاكُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَيَّ فَادْعُوَا لِي فَاللَّهُ لَكُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْكُمَا الطَّلَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَجَا فَجَعَلَ لَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا ، قَالَ : كَفَيْتُكُمْ مَا هُنَا فَلَا يَلْقَى أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ ، قَالَ : وَوَفَى لَنَا " .´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے احمد بن یزید بن ابراہیم ابوالحسن حرانی نے ، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے ، کہا ہم سے ابواسحٰق نے بیان کیا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک پالان خریدا ۔ پھر انہوں نے میرے والد سے کہا کہ اپنے بیٹے کے ذریعہ اسے میرے ساتھ بھیج دو ۔ براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں اس کجاوے کو اٹھا کر آپ کے ساتھ چلا اور میرے والد اس کی قیمت کے روپے پرکھوانے لگے ۔ میرے والد نے ان سے پوچھا اے ابوبکر ! مجھے وہ واقعہ سنائیے جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور سے ہجرت کی تھی تو آپ دونوں نے وہ وقت کیسے گزارا تھا ؟ اس پر انہوں نے بیان کیا کہ جی ہاں ، رات بھر تو ہم چلتے رہے اور دوسرے دن صبح کو بھی لیکن جب دوپہر کا وقت ہوا اور راستہ بالکل سنسان پڑ گیا کہ کوئی بھی آدمی گزرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی ، اس کے سائے میں دھوپ نہیں تھی ۔ ہم وہاں اتر گئے اور میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ٹھیک کر دی اور ایک چادر وہاں بچھا دی ۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ یہاں آرام فرمائیں میں نگرانی کروں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں چاروں طرف حالات دیکھنے کے لیے نکلا ۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا ۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے تلے میں نے وہاں پڑاؤ ڈالا تھا ۔ وہی اس کا بھی ارادہ تھا ، میں نے اس سے پوچھا کہ تو کس قبیلے سے ہے ؟ اس نے بتایا کہ مدینہ یا ( راوی نے کہا کہ ) مکہ کے فلاں شخص سے ، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں ۔ میں نے پوچھا کیا ہمارے لیے تو دودھ نکال سکتا ہے ؟ اس نے کہا کہ ہاں ۔ چنانچہ وہ ایک بکری پکڑ کے لایا ۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلے تھن کو مٹی ، بال اور دوسری گندگیوں سے صاف کر لے ۔ ابواسحٰق راوی نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر تھن کو جھاڑنے کی صورت بیان کی ۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا ۔ آپ اس سے پانی پیا کرتے تھے اور وضو بھی کر لیتے تھے ۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( آپ سو رہے تھے ) میں آپ کو جگانا پسند نہیں کرتا تھا ۔ لیکن بعد میں جب میں آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے ۔ میں نے پہلے دودھ کے برتن پر پانی بہایا جب اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! دودھ پی لیجئے ، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا جس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی ۔ پھر آپ نے فرمایا کیا ابھی کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا ؟ میں نے عرض کیا کہ آ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا : جب سورج ڈھل گیا تو ہم نے کوچ کیا ۔ بعد میں سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا یہیں پہنچا ۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! اب تو یہ ہمارے قریب ہی پہنچ گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غم نہ کرو ۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔ آپ نے پھر اس کے لیے بددعا کی اور اس کا گھوڑا اسے لیے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا ۔ میرا خیال ہے کہ زمین بڑی سخت تھی ۔ یہ شک ( راوی حدیث ) زہیر کو تھا ۔ سراقہ نے کہا : میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے میرے لیے بددعا کی ہے ۔ اگر اب آپ لوگ میرے لیے ( اس مصیبت سے نجات کی ) دعا کر دیں تو اللہ کی قسم میں آپ لوگوں کی تلاش میں آنے والے تمام لوگوں کو واپس لوٹا دوں گا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا کی تو وہ نجات پا گیا ۔ پھر تو جو بھی اسے راستے میں ملتا اس سے وہ کہتا تھا کہ میں بہت تلاش کر چکا ہوں ۔ قطعی طور پر وہ ادھر نہیں ہیں ۔ اس طرح جو بھی ملتا اسے وہ واپس اپنے ساتھ لے جاتا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہاں بھی آپ کے کچھ معجزات کا ذکر ہے جس سے آپ کی صداقت اور حقانیت پر کافی روشنی پڑتی ہے۔
اہل بصیرت کے لیے آپ کے رسول برحق ہونے میں ایک ذرہ برابر بھی شک وشبہ کرنے کی گنجائش نہیں اور دل کے اندھوں کے لیے ایسے ہزار نشانات بھی ناکافی ہیں۔
1۔
سفر ہجرت میں رسول اللہ ﷺ سے بہت سے معجزات کا ظہور ہوا جن کی تفاصیل مختلف روایات میں بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث میں بھی آپ کے کچھ معجزات کاذکر ہے جن سے آپ کی صداقت اور حقانیت پر کافی روشنی پڑتی ہے۔
اہل بصیرت کے لیے ایک ذرہ بھر بھی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں البتہ عقل کے اندھوں کے لیے ایے ہزاروں،لاکھوں نشانات بھی ناکافی ہیں۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تابع کو اپنے متبوع کی خد مت کرنی چاہیے۔
3۔
دوران میں سفر چھاگل یا کوزہ وغیرہ پاس رکھنا چاہیے تاکہ پانی پینے اور وضو کرنے میں آسانی رہے نیز اس میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی فضیلت ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی عظیم شخصیت محو استرحت ہو تو اس کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔
4۔
اس حدیث میں بکریوں کے چرواہے کے متعلق شک ہے کہ مدینے یا مکے کا رہنے والا تھا۔
درحقیقت وہ مکہ مکرمہ کے ایک قریشی کا غلام تھا کیونکہ اس وقت مدینہ طیبہ یثرب کے نام سے مشہور تھا۔
رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد اسے مدینہ کا نام دیا گیا نیز اتنی دور سے مسافت طے کر کے بکریاں چرانے کے لیے جانا بہت مشکل ہے ایک روایت میں صراحت ہے کہ وہ کسی قریشی کا غلام تھا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ مدینہ طیبہ کا نہیں تھا کیونکہ اس وقت مدینہ طیبہ میں کوئی قریشی رہائش پذیر نہیں تھا۔
(عمدة القاري: 351/11)
ہجرت سے متعلقہ دیگر واقعات کی تفصیل ہم حدیث 3906کے تحت بیان کریں گے۔
إن شاء اللہ۔
1۔
امام بخاری ؒ نے حدیث ہجرت بیان کرنے کے بعد اس دوران میں پیش آنے والے چیدہ چیدہ واقعات بیان کرنا شروع کیے ہیں۔
ان واقعات میں ایک واقعہ حضرت سراقہ بن مالک ؓ کا ہے۔
جب انھوں نے انعام کے لالچ میں رسول اللہ ﷺکا تعاقب کیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس پر بددعا کی: ’’اےاللہ! تو اپنی مرضی کے مطابق اس کی طرف سے ہمارے لیے کافی ہے۔
‘‘ (فتح الباري: 301/7)
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے بددعا کی: ’’اے اللہ! اسے زمین پر گرادے۔
‘‘ تو اس کے گھوڑے نے اسی وقت اسے زمین پر پٹخ دیا۔
(صحیح البخاري، مناقب الأنصار، حدیث: 3911۔
)
2۔
دوسرا واقعہ چرواہے کی ایک بکری سے دودھ دوہنے کا ہے جس کی تفصیل پہلے گزرچکی ہے۔
بعض نے یہ کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی باغ پر سے گزرے یا جانوروں کے گلے پر سے تو باغ کا پھل یا جانور کا دودھ کھا پی سکتا ہے۔
گو مالک سے اجازت نہ لے، مگر جمہور علماءاس کے خلاف ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ بے ضرورت ایسا کرنا جائز نہیں۔
اور ضرورت کے وقت اگرکر گزرے تو مالک کو تاوان دے۔
امام احمد نے کہا اگر باغ پر حصار نہ ہو تو تر میوہ کھا سکتا ہے۔
گو ضرورت نہ ہو۔
ایک روایت یہ ہے کہ جب اس کی ضرورت اور احتیاج ہو، لیکن دونوں حالتوں میں اس پر تاوان نہ ہوگا۔
اور دلیل ان کی امام بیہقی کی حدیث ہے ابن عمر ؓ سے مرفوعاً جب تم میں سے کوئی کسی باغ پر سے گزرے تو کھا لے۔
لیکن جمع کرکے نہ لے جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ آج کل کے حالات میں بغیر اجازت کسی بھی باغ کا پھل کھانا خواہ حاجت ہو یا نہ ہو مناسب نہیں ہے۔
اسی طرح کسی جانور کا دودھ نکال کر از خود پی لینا اور مالک سے اجازت نہ لینا، یہ بھی اس دور میں ٹھیک نہیں ہے۔
کسی شخص کی اضطراری حالت ہو، وہ پیاس اور بھوک سے قریب المرگ ہو اور اس حالت میں وہ کسی باغ پر سے گزرے یا کسی ریوڑ پر سے، تو اس کے لیے ایسی مجبوری میں اجازت دی گئی ہے۔
یہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ بعد میں مالک اگر تاوان طلب کرے تو اسے دینا چاہئے۔
(1)
ابواب لقطہ میں اس حدیث کو اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ یہ حدیث بھی احکام لقطہ پر مشتمل ہے۔
اس میں ایک ایسی چیز کا ذکر ہے جس کا حال لقطہ کے حال سے ملتا جلتا ہے، یعنی ایسی بکری کا دودھ پینا جس کا چرواہا تنہا جنگل میں ہے اور اس سے زائد دودھ یقینا بیکار ہو جائے گا، اس لیے یہ بھی ضائع ہونے والی چیز کے حکم میں ہے۔
جس طرح کوڑے اور رسی کو اٹھانا جائز ہے اسی طرح دودھ کا پینا بھی مباح اور جائز ہے کیونکہ اگر وہ پیا نہ جاتا تو وہ ضائع ہو جاتا۔
(عمدة القاري: 180/9)
لیکن ہمارے رجحان کے مطابق اس کی توجیہ یہ ہے کہ امام بخاری ؒ بعض دفعہ تفہیم مسئلہ کے لیے کسی چیز کی ضد ذکر کر دیتے ہیں جس طرح انہوں نے کتاب الایمان میں کفرونفاق کے مسائل بیان کیے ہیں اور کتاب العلم میں جہالت کا تذکرہ کیا ہے، اسی طرح اس مقام پر باب بلا عنوان کے تحت اس حدیث کو بطور ضد لائے ہیں کہ وہ مال جس کا مالک معلوم ہو وہ لقطہ میں شامل نہیں۔
لیکن اس پر ایک اعتراض ہوتا ہے کہ چرواہا بکریوں کا مالک تو نہ تھا ان کا مالک تو وہ قریشی تھا جسے ابوبکر صدیق ؓ جانتے تھے، تو ان کے لیے اجازت کے بغیر دودھ دوہنا کیسے جائز ہوا؟ اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ آپ نے عرب کے ہاں دستور کے مطابق دودھ استعمال کیا کیونکہ مالک کی طرف سے چرواہوں کو اجازت ہوتی تھی کہ اگر کوئی ضرورت مند ہو تو وہ ضرورت کے مطابق اسے دودھ دے دیا کریں جیسا کہ ہمارے معاشرے میں شوہر کی طرف سے بیوی کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ دروازے پر آنے والے سائل کو مٹھی یا دو مٹھی آٹا دے دیا کریں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے اسے پہچان لیا ہو کہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو دودھ پینے سے منع نہیں کرے گا۔
واللہ أعلم (2)
ہمارے ہاں گمشدہ بچوں اور دیگر چیزوں کے متعلق مساجد میں اعلان کیا جاتا ہے، اس اعلان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ واضح رہے کہ گمشدہ چیز یا بچے یا جانور کا مسجد میں اعلان کرنا شرعاً درست نہیں۔
حدیث میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر کوئی مسجد میں اپنی گمشدہ چیز کو تلاش کرتا ہے یا اس کا اعلان کرتا ہے تو اسے ان الفاظ میں جواب دیا جائے: اللہ وہ چیز تجھے واپس نہ کرے کیونکہ مساجد کی تعمیر اس مقصد کے لیے نہیں ہوئی۔
‘‘ (صحیح مسلم،المساجد، حدیث: 1260(568)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ؤ نے مسجد میں ایک ایسے شخص کو دیکھا جو لوگوں سے اپنے گمشدہ سرخ اونٹ کے متعلق دریافت کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ کرے تو اپنے اونٹ کو نہ پائے کیونکہ مساجد تعمیر کرنے کا مقصد عبادت الٰہی ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1262(569)
ایک دوسری حدیث میں ان مقاصد کی وضاحت بھی کر دی گئی ہے جن کے پیش نظر مساجد تعمیر کی جاتی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مساجد اللہ کے ذکر، نمازوں کی ادائیگی اور تلاوت قرآن کے لیے بنائی جاتی ہیں۔
‘‘ (صحیح مسلم، الطھاة، حدیث: 661(285)
رسول اللہ ﷺ نے گمشدہ اشیاء (حیوانات وغیرہ)
کو مساجد میں تلاش کرنے اور ان کے متعلق دریافت کرنے سے منع فرمایا ہے، (سنن ابن ماجة، المساجد: 766)
نیز ایسے شخص کے لیے اس کی گمشدہ چیز نہ ملنے کے متعلق بددعا دینے کی تلقین کی ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ لفظ ضاله کا اطلاق گمشدہ حیوان پر ہوتا ہے، اس لیے بچوں وغیرہ کی گمشدگی کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
ہمیں اس سے اتفاق نہیں کیونکہ حیوانات کے علاوہ دوسری چیزوں کے لیے بھی اس لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے۔
بعض اہل علم نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ بقائے نفس اور احترام آدمیت کے پیش نظر گمشدہ بچوں کا اعلان مساجد میں جائز ہونا چاہیے، پھر ضروریات، ممنوع احکام کو جائز قرار دے دیتی ہیں، کے تحت لانے کی کوشش کی ہے، یقیناً یہ ضابطہ اور اصول صحیح ہے لیکن یہ اس صورت میں جب اس کا کوئی متبادل انتظام نہ ہو سکتا ہو، اگر اس کے متبادل ممکن ہو تو مساجد میں اعلان کی گنجائش نہیں۔
بہتر اور افضل یہی ہے کہ اس طرح کے اعلانات کے لیے الگ سے کوئی انتظام کیا جائے۔
یہی باب اور حدیث کا تعلق ہے۔
”. . . میں مدینہ والوں میں سے ایک شخص کا غلام ہوں (مراد مدینہ سے شہر ہے یعنی مکہ والوں میں سے) میں نے کہا: تیری بکریوں میں دودھ ہے؟ وہ بولا: ہاں ہے۔ میں نے کہا: تو دودھ دوہئے گا ہم کو؟ وہ بولا: ہاں۔ پھر اس نے ایک بکری کو پکڑا، میں نے کہا: اس کا تھن صاف کر لے بالوں اور مٹی اور کوڑے سے تا کہ دودھ میں یہ چیزیں نہ پڑیں۔ (راوی نے کہا:) میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتے تھے، جھاڑتے تھے۔ خیر اس لڑکے نے دودھ دوھا لکڑی کے ایک پیالہ میں تھوڑا دودھ اور میرے ساتھ ایک ڈول تھا جس میں پانی رکھتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے اور وضو کرنے کے لیے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں رسول اللہ کے پاس آیا اور مجھے برا معلوم ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند سے جگانا لیکن میں نے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بخود جاگ اٹھے ہیں۔ میں نے دودھ پر پانی ڈالا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ دودھ پیجئیے . . .“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ: 7521]
نووی رحمہ اللہ نے کہا: یہ جو آپ نے اس لڑکے کے ہاتھ سے دودھ پیا حالانکہ وہ اس دودھ کا مالک نہ تھا اس کی چار توجیہیں کی ہیں ایک یہ کہ مالک کی طرف سے مسافروں اور مہمانوں کو پلانے کی اجازت تھی۔ دوسرے یہ کہ وہ جانور کسی دوست کے ہوں گے جس کے مال میں تصرف کر سکتے ہوں گے۔ تیسرے یہ کہ وہ حربی کا مال تھا جس کو امان نہیں ملی اور ایسا مال لینا جائز ہے۔ چوتھے یہ کہ وہ مضطر تھے۔ اول کی دو توجیہیں عمدہ ہیں۔
(1)
قام قائم الظهره: سورج سرپرکھڑا ہوگیا، عین دوپہر ہوگئی، (2)
رفعت لنا صخرة، ہمیں ایک چٹان نظرآئی، (3)
فروة: بالوں یا اون کا کمبل، پوستین جس کا اندرونی حصہ جانوروں کی کھال سے تیار کیا جاتا ہے۔
(4)
انفض لك: میں آپ کے لیے پہرہ دیتا ہوں، اردگرد کا دیہان رکھتا ہوں۔
(5)
اهل المدينه، اہل شہر، مدينه سے یہاں شہر مراد ہے، یعنی مکہ، کیونکہ مدينه النبي تو آپ کی ہجرت کے بعد نام پڑاہے، پہلے تو اس کو یثرب کہتے تھے اور بخاری شریف کی روایت لرجل من قريش ہے اور قریشی مکہ ہی میں آبادتھے، قعب: لکڑی کا پیالہ، (6)
كثبة: کچھ، تھوڑاسا، ایک وقت نکلنےوالادودھ۔
(7)
ارتوي: میں اس میں پانی رکھتا تھا۔
(8)
ارتطمت فرسه: اس کا گھوڑا دھنس گیا۔
فوائد ومسائل: قریش نے آپ کے پکڑنے والے کے لیے سواونٹ بطور انعام دینے کا اعلان کیا تھا، اس لیے آپ کے تعاقب میں نکلا اور یہ واقعہ پیش آیا۔
ساخت فرسه: اس کی گھوڑی کی ٹانگیں سخت زمین میں دھنس گئیں۔
فوائد ومسائل: یہ سفر ہجرت کا واقعہ ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے اللہ اپنے بندوں کی دشمنوں سے کس طرح حفاظت فرماتا ہے اور ان سے کسی قسم کے حیرت انگیز امور کا صدور ہوتا ہے، لیکن اس سے یہ استدلال کرنا کہ اب بھی مصیبت و تکلیف کے وقت ان سے دعا اور امداد کی درخواست کی جا سکتی ہے، غلط بات ہے، کیونکہ اس وقت آپ اس کے سامنے موجود تھے اور وہ آپ کو دیکھ رہا تھا اور اب یہ صورتحال ہے، ہاں کسی زندہ نیک آدمی کے پاس جا کر اس سے دعا کی درخواست کی جا سکتی ہے، نیز اگر زمین آپﷺ کے تابع فرمان تھی تو پھر اللہ سے دعا کرنے کی ضرورت کیا تھی، آپ براہ راست زمین کو حکم صادر فرماتے۔
كثبة: تھوڑی سی چیز کو کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل: عربوں کا یہ دستور تھا کہ اگر کسی مسافر کو دودھ کی ضرورت ہوتی تو چرواہا اس کو دے سکتا تھا اور اس حدیث سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آپ سے محبت و عقیدت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے کہ وہ آپ کی پیاس سے بے قرار اور پریشان تھے، جب انہوں نے آپ کو دودھ پیش کیا اور آپ نے پی کر اپنی پیاس بجھائی تو ان کی بے قراری کو قرار آ گیا اور وہ راضی خوش ہو گئے۔