صحيح البخاري
كتاب المناقب— کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
بَابُ عَلاَمَاتِ النُّبُوَّةِ فِي الإِسْلاَمِ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "سَتَكُونُ أَثَرَةٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَأْمُرُنَا ، قَالَ : تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ " .´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے ۔ “ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا ۔ ( یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
(أثرة)
سے مراد اموال مشترکہ میں کسی ایک کوترجیح دینا ہے اور حق سے مراد حکمران وقت کی فرمانبرداری اور اطاعت گزاری ہے اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کرنا ہے۔
2۔
یہ حدیث بھی نبوت کی زبردست دلیل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مستقبل میں اس طرح ہو گا کہ تمھارے حقوق پامال ہوں گے اور دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔
چنانچہ آپ کی پیش گوئی کے مطابق ایسا ہوا۔
ایسے دگرگوں حالات میں شریعت کا حکم ہے کہ امراء و سلاطین سے لڑائی نہ کی جائے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب سے ایسی مدد فرمائے گا جس سے پامالی حقوق کی تلافی ہو گی۔
واللہ أعلم۔
جیسے ثوری کی روایت میں ہے یا اللہ ان کے بدل تم پر دوسرے حاکموں جو عادل اور منصف ہوں مقرر کرے۔
مسلم اور طبرانی کی روایت میں یوں ہے کہ یا رسول اللہ! ہم ان سے لڑیں نہیں۔
آپ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھتے رہیں۔
معلوم ہوا کہ جب مسلمان حاکم نماز پڑھنا بھی چھوڑ دے تو پھر اس سے لڑنا اور اس کا خلاف کرنا درست ہوگیا۔
بے نمازی حاکم کی اطاعت ضروری نہیں ہے۔
اس پر تمام اہل حدیث کا اتفاق ہے۔
حافظ نے کہا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کافر ہوجائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ جاہلیت والوں کی طرح مرے گا یعنی جیسے جاہلیت والوں کا کوئی امام نہیں ہوتا۔
اسی طرح اس کا بھی نہ ہوگا۔
دوسری روایت میں یوں ہے جو شخص جماعت سے بالشت برابر جدا ہوگیا اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے نکال ڈالی۔
ابن بطال نے کہا اس حدیث سے یہ نکلا حاکم گو ظالم یا فاسق ہو اس سے بغاوت کرنا درست نہیں البتہ اگر صریح کفر اختیار کرے تب اس کی اطاعت جائز نہیں بلکہ جس کو قدرت ہو اس کو اس پر جہاد کرنا واجب ہے۔
آج کل کے بعض ائمہ مساجد لوگوں سے اپنی امامت کی بیعت لے کر بیعت نہ کرنے والوں کو جاہلیت کی موت کا فتویٰ سناتے ہیں اور لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرتے ہیں۔
یہ سب فریب خوردہ ہیں۔
یہاں مراد خلیفہ اسلام ہے، جو صحیح معنوں میں اسلامی طور پر صاحب اقتدار ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے جو حقوق کے معاملے میں اقرباء پروری کریں گے۔
اور انھیں دوسروں پر ترجیح دیں گے اور ان کے حقوق پامال کریں گے۔
اور امور دین کے متعلق ان کا یہ حال ہو گا کہ وہ ایسے کام کریں گے جنھیں دیندار طبقہ پسند نہیں کرے گا۔
ایسے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے کہ ہم لوگ شرعی واجبات زکاۃ کی ادائیگی اور جہاد کے وقت ان کے ساتھ شمولیت کریں اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کریں اور جہاں تک اپنے حقوق کا تعلق ہے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ انھیں عدل و انصاف کی توفیق دے۔
بہر حال حکومتی سطح پر مالی حقوق کے متعلق یہ بہت بڑا فتنہ ہے جس میں آ ج ہم سب مبتلا ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم کا معاملہ کرے اور ہمیں صبر کی توفیق دے۔
آمین یا رب العالمین۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میرے بعد عنقریب (غلط) ترجیح اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم برا جانو گے “، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ” تم حکام کا حق ادا کرنا (ان کی اطاعت کرنا) اور اللہ سے اپنا حق مانگو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2190]
وضاحت:
1؎:
یعنی حکام اگر ایسے لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دیں جوقابل ترجیح نہیں ہیں تو تم صبر سے کام لیتے ہوئے ان کی اطاعت کرو اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو، کیوں کہ اللہ نیکوکاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔