صحيح البخاري
كتاب المناقب— کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ اور اخلاق فاضلہ کا بیان۔
وَقَالَ : اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو فُلَانٍ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أُسَبِّحُ فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ " .´اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) پر تمہیں تعجب نہیں ہوا ۔ وہ آئے اور میرے حجرہ کے ایک کونے میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھے سنانے کے لیے بیان کرنے لگے ۔ میں اس وقت نماز پڑھ رہی تھی ۔ پھر وہ میری نماز ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے ۔ اگر وہ مجھے مل جاتے تو میں ان کی خبر لیتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح یوں جلدی جلدی باتیں نہیں کیا کرتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ظاہر میں سوتی تھیں لیکن دل غافل نہیں ہوتا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
گویا اسی طرح آہستہ آہستہ کلام کرنا اور قرآن وحدیث سنانا چاہیے۔
لیکن مجمع عام اور خطبہ میں یہ قید نہیں لگائی جاسکتی کیوں کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم توحید کا بیان کرتے یا عذاب الٰہی سے ڈراتے تو آپ کی آواز بہت بڑھ جاتی اور غصہ زیادہ ہوجاتا وغیرہ۔
یہاں یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت حدیث پر اعتراض کیا، یہ بالکل باطل ہے، اور ''توجیہ القول بما لا یرضی بہ القائل'' میں داخل ہے یعنی کسی کے قول کی ایسی تعبیر کرنا جو خود کہنے والے کے ذہن میں بھی نہ ہو۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جس شخصیت کو ہدف تنقید بنایا وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے،چنانچہ اسماعیلی کی روایت میں صراحت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: تجھے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انداز گفتگو پر تعجب نہیں ہوتا۔
(فتح الباري: 707/6)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی احادیث کے متعلق زور بیانی پر اعتراض کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجے میں حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاحافظہ بہت قوی تھا،اس لیے احادیث جلدی جلدی بیان کردیتے تھے اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت آہستہ آہستہ ہوا کرتی تھی کہ سننے والاآپ کے الفاظ گن لیتاتھا لیکن مجمع عام اور خطبہ دیتے وقت یہ قید نہیں لگائی جاسکتی کیونکہ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطاب فرماتے تو آپ کی آواز بلند ہوجاتی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت حدیث پر اعتراض نہیں کیا تھا۔
لم يكن يسرد الحديث: آپ مسلسل، بلا وقفہ، گفتگو نہیں فرماتے تھے، یعنی آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر بات کرتے تھے، تاکہ سامع کو سننے اور سمجھنے میں سہولت رہے، جلدی جلدی بات کرنے کی صورت میں سننا اور سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تعجب نہیں کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک جانب بیٹھے اور مجھے سنانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے لگے، میں نفل نماز پڑھ رہی تھی، تو وہ قبل اس کے کہ میں اپنی نماز سے فارغ ہوتی اٹھے (اور چلے گئے) اور اگر میں انہیں پاتی تو ان سے کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی باتیں نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3655]
فائدہ: تیزتیز بولناعام طور پر بھی کسی طرح ممدوح نہیں ہے۔
بالخصوص داعی خطیب اور مدرس کی گفتگو میں ٹھرائو کا ہونا بہت ہی عمدہ صفت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ہر لفظ الگ الگ اور واضح ہوتا تھا، جو بھی اسے سنتا سمجھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4839]
جلدی اور تیزی تیزی سے گفتگو کرنا باوقار لوگوں کے ہاں ہمیشہ معیوب سمجھا گیا ہے۔
اور از حد تیز بولنے والا خطیب بھی کامیاب خطیب نہی سمجھا جاتا۔