حدیث نمبر: 3549
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا وَأَحْسَنَهُ خَلْقًا لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسحٰق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ابواسحٰق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن و جمال میں بھی سب سے بڑھ کر تھے اور جسمانی ساخت میں بھی سب سے بہتر تھے ۔ آپ کا قد نہ بہت لانبا تھا اور نہ چھوٹا ( بلکہ درمیانہ قد تھا ) ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المناقب / حدیث: 3549
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2337

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3549. حضرت ابو اسحاق سبیعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ خوب رو اور جسمانی اعتبار سے نہایت متناسب الاعضاء تھے۔ آپ نہ تو بہت دراز قامت اور نہ پست قد ہی تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3549]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن وجمال کی ایک جھلک بیان ہوئی ہے کہ آپ خوبصورت اور خوب سیرت تھے۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوسرخ جوڑا پہنے رات کی چاندنی میں دیکھ رہا تھا۔
کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی آپ کے رخ انور پر نظر کرتا۔
بالآخر اس فیصلے پر پہنچا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے کہیں زیادہ حسین ہیں۔
(المستدرك للحاکم: 186/4)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح چمک دار اورلمبا تھا؟ انھوں نے فرمایا: نہیں بلکہ سورج اور چاند کی طرح روشن اور گول تھا۔
(مسند أحمد: 104/5)
حضرت ام معبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے حسن وجمال کا نقشہ،ان الفاظ میں کھینچا ہے: میں نے ایک ایساآدمی دیکھا جو رنگت کی چمک ودمک اورچہرے کی تابانی لیے ہوئے تھا۔
دورسے دیکھنے میں سب سے خوبصورت اور وجیہ اورقریب سے دیکھنے سے انتہائی جاذب نظر اور پُرجمال۔

حضرت ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گورے رنگ،پُرملامت چہرے،موزوں ڈیل ڈول اور میانہ قد وقامت کے حامل تھے(صحیح مسلم، الفضائل، حدیث: 6071(2340)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تو آپ کا رخ زیبا(چہرہ مبارک)
ایسے دمک اُٹھتا گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔
(صحیح البخاري، المناقب، حدیث: 3556)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3549 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2337 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا چہرہ مہرہ سب انسانوں سےحسین تھا اور آپ کا ’’خُلُق‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6066]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
خُلق: کردار، اخلاق۔
(2)
خَلق: بناوٹ
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2337 سے ماخوذ ہے۔