صحيح البخاري
كتاب المناقب— کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
بَابُ قِصَّةُ خُزَاعَةَ: باب: قبیلہ خزاعہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ الْبَحِيرَةُ : الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ وَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ ، وَالسَّائِبَةُ : الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرِ بْنِ لُحَيٍّ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ " .´ہم سے ابولیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` «بحيرة» وہ اونٹنی جس کے دودھ کی ممانعت ہوتی تھی ۔ کیونکہ وہ بتوں کے لیے وقف ہوتی تھی ۔ اس لیے کوئی بھی شخص اس کا دودھ نہیں دوھتا تھا اور «سائبة» اسے کہتے جس کو وہ اپنے معبودوں کے لیے چھوڑ دیتے اور ان پر کوئی بوجھ نہ لادتا اور نہ کوئی سواری کرتا ۔ انہوں نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں نے عمرو بن عامر بن لحیی خزاعی کو دیکھا کہ جہنم میں وہ اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا اور یہی عمرو وہ پہلا شخص ہے جس نے «سائبة» کی رسم نکالی ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
بڑے پیر کے نام کی دیگ۔
پھر ان کے لیے ایسے ہی خاص رسوم مروج ہیں کہ ان کو فلاں کھائے اور فلاں نہ کھائے، یہ سب جہالت اور ضلالت کی باتیں ہیں۔
اللہ پاک ایسے نام نہاد مسلمانوں کو نیک سمجھ عطا کرے کہ وہ کفار کی اس تقلید سے باز آئیں۔
اس حدیث میں چند ایسے جانوروں کا ذکر ہے جنھیں مشرک اپنے معبودان باطلہ کی تعظیم کے لیے چھوڑدیتے تھے اور انھیں اپنے لیے حرام کرلیتے تھے۔
قرآن کریم نے اس رسمِ بد کی خوب تردید کی ہے۔
(المائدة: /103/5)
ہمارے ہاں بھی اس طرح کی بدرسمیں رائج ہیں۔
لوگ اپنے نام نہاد پیروں کے نام پر جانور چھوڑدیتے ہیں کہ یہ خواجہ کا بکرا ہے اور یہ جھولے لعل کی گائیں ہیں، یہ بڑے پیر کی دیگ ہے۔
جب گیارہویں آتی ہے تو لوگ بھینسوں کا دودھ فروخت نہیں کرتے بلکہ بڑے پیر جیلانی کے نام وقف کردیتے ہیں۔
یہ سب جہالت وضلالت اورگمراہی کی باتیں ہیں، اسلام کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اللہ ہمیں سیدھے راستے پر قائم رکھے اور ایسے شرکیہ امور سے بچائے۔
آمین
1۔
عمرو بن خزاعی کے متعلق علامہ عینی ؒ لکھتے ہیں کہ اس کا نام عمرو بن لحی بن قمعہ ہے قبیلہ خزاعہ کے سرداروں سے تھا۔
یہ ان لوگوں سے تھا جو جرہم کےبعد بیت اللہ کے متولی ہوئے تھے۔
یہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت ابراہیم ؑ کے دین کو بدلا اور بتوں کو حجاز میں داخل کیا نیز اس نے چرواہوں کو بتوں کی عبادت کرنے پر ابھارا اور جاہلیت کی رسومات کو ان میں رواج دیا۔
(عمدة القاري: 589/12)
2۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو اس طرح مشروع نہیں کیا تھا بلکہ اس نے ہر قسم کی نذر ونیاز اپنے لیے مخصوص کی ہے بتوں کے لیے نذر و نیاز کے یہ طریقے مشرکین نے ایجاد کیے۔
بتوں اور معبودان باطلہ کے نام پر جانور چھوڑنے اور ان کے لیے نذر و نیاز پیش کرنے کا یہ سلسلہ آج بھی مشرکین بلکہ نام نہاد مسلمانوں میں جاری ہے۔
اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اس کی کوئی سند نہیں اتاری۔
یہ سب جاہلوں کا طور طریقہ ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکا ہے۔
أعاذنا اللہ منه۔
سيوب، سائبة کی جمع ہے۔