حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے حسین بن واقد نے ، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا ، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ” جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی ( نسبی ) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
واللہ أعلم۔
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی ایسی چیز کادعویٰ کرنا حرام ہے جو اس کی نہ ہو، خواہ اس کا تعلق مال ومتاع سے ہو یا علم وفضل سے یا حسب ونسب سے، چنانچہ بعض لوگ اپنی قوم کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں وہ بھی اس وعید کی زد میں آتے ہیں جیسا کہ کچھ لوگ سادات کی طرف اپنی نسبت کرلیتے ہیں تاکہ عوام کی نگاہوں میں محترم ہوں۔
وہ اس حدیث کے مصداق ہیں۔
2۔
اس کفر سے مراد کفرانِ نعمت ہے یا اس کامطلب یہ ہے کہ جو غیر کی نسبت کرنے کو اپنے لیے حلال سمجھتاہے وہ واقعی کافر ہے یا مذکورہ کلمہ ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر ہے۔
اگروہ توبہ کرلے تو یہ گناہ ساقط ہو جائے گا۔
3۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں: جب ثابت ہوا کہ اہل یمن حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد ہیں تو ان کاکسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا صحیح نہیں۔
امام بخاری ؒ کا اس حدیث سے یہی مطلب معلوم ہوتاہے۔
(فتح الباري: 660/6)
: (1)
ادَّعَى: دعویٰ کرنا۔
(2)
عَادَ عليه: بَاءَ اور رَجَعَ کے ہم معنی ہے پلٹنا، لوٹنا، پلٹ آتا ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
اپنے حقیقی نسب کا انکار کرکے کسی اور کا بیٹا بننا انتہائی مجرمانہ حرکت ہے، .....اور یہ کفر دون کفر ہوگا جو مخرج عن الملۃ نہیں ہے اور اس کام کو کفر قرار دیا جائے گا، اگر کسی تاویل اور ضرورت کے تحت ایسا کرتا ہے، تو یہ کفرانِ نعمت ہوگا، جیسا کہ آپ نے عورتوں کے بارے میں فرمایا ہے: "یَکْفُرْنَ الْعَشِیْرَ" وہ خاوند کی نا شکری اور احسان فراموش ہیں، اسی طرح یہ انسان اللہ اور باپ کے حق کا نمک حرام ہے۔
(2)
اگر کوئی دانستہ طور پر کسی ایسی چیز کے اپنی ہونے کا دعوی ٰ کرتا ہے جو اس کی نہیں ہے تو یہ ایک جھوٹ ہے اور دوسرے کے مال پر غاصبانہ قبضہ ہے جو کسی صحیح اور کامل مومن کی شان کے منافی ہے، اس لیے آپ (ﷺ) نے فرمایا: ’’وہ ہم میں سے نہیں۔
‘‘ جیسا کہ نوح علیہ السلام کے بیٹے کے بارے میں فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ ’’وہ آپ کے اہل میں سے نہیں ہے۔
‘‘ یعنی اس کا طور طریقہ اور طرز عمل یا برتاؤ اور معاملہ مسلمانوں والا نہیں ہے اور یہ ایک ایسا قصور اور کھلم کھلا گناہ ہے جس کی سزا جہنم ہے الا یہ کہ انسان اس سے توبہ کرے یا اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے، تو وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2319]
فوائد و مسائل: (1)
ہم میں سے نہیں۔
کا مطلب یہ ہے کہ اس کا یہ عمل مسلمانوں کا عمل نہیں اور اس کا ایمان کامل نہیں۔
(2)
جہنم میں ٹھکانا بنا لینا چاہیے۔
کامطلب یہ ہے کہ اسے یقین ہونا چاہیے کہ وہ جہنم میں جائے گا لہٰذا اس سے بچنے کےلیے اسے اس گناہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اور اگر یہ گناہ ہو گیا ہے تو حق دار کو اس کا حق واپس کرکے توبہ کرکے جہنم سے بچ جانا چاہیے۔
(3)
ارشاد نبوی ہے: جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اللہ اسے (جہنم کی)
آگ پر حرام کر دیتا ہے۔ (صحیح مسلم، الإیمان، باب الدلیل علی أن من مات علی التوحید دخل الجنة قطعا، حدیث: 26)
اس کایہ مطلب نہیں کہ اسے اس گناہوں کی سزا نہیں ملے گی بلکہ یہ مطلب ہے اسے جنہم میں ہمیشہ رہنے کا عذاب نہیں ہو گا۔