صحيح البخاري
كتاب المناقب— کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
بَابُ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} : باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الحجرات میں) ارشاد ”اے لوگو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد آدم اور ایک ہی عورت حواء سے پیدا کیا ہے اور تم کو مختلف قومیں اور خاندان بنا دیا ہے تاکہ تم بطور رشتہ داری ایک دوسرے کو پہچان سکو، بیشک تم سب میں سے اللہ کے نزدیک معزز تر وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو“۔
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا كُلَيْبٌ ، حَدَّثَتْنِي رَبِيبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَظُنُّهَا زَيْنَبَ ، قَالَتْ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالمُقيَّرِ وَالْمُزَفَّتِ ، وَقُلْتُ لَهَا : أَخْبِرِينِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ كَانَ مِنْ مُضَرَ كَانَ ، قَالَتْ : فَمِمَّنْ كَانَ إِلَّا مِنْ مُضَرَ كَانَ مِنْ وَلَدِ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ " .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے عبدالواحد نے ، کہا ہم سے کلیب نے بیان کیا ، اور ان سے ربیبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ، میرا خیال ہے کہ ان سے مراد زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء ، حنتم ، نقیر اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا تھا اور میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق کس قبیلہ سے تھا ؟ کیا واقعی آپ کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا ؟ انہوں نے کہا پھر اور کس سے ہو سکتا ہے یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اسی قبیلہ سے تھا ۔ آپ نضر بنی بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
یہ چاروں شراب کے برتن تھے جس میں عرب شراب بنایا کرتے تھے۔
جب شراب کی ممانعت ہوئی تو ان برتنوں کے استعمال سے بھی ان لوگوں کو روک دیا گیا۔
1۔
دباء، کدو کابرتن، حنتم: سبزرنگ کا برتن، مقیر: کےبجائے یہ لفظ نقیر ہے۔
وہ برتن کو لکڑی کو کرید کر بنایا جائے اور مزفت روغنی برتن کو کہتے ہیں۔
دور جاہلیت میں یہ تمام برتن شراب کشید کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
آغاز اسلام میں ان برتنوں کو نبیذ بنانے کے لیے استعمال کرنے کی ممانعت تھی بعد ازاں ان میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دی گئی۔
2۔
مضر، عرب کا ایک بہادر جاں نثارقبیلہ تھا۔
یہ قبیلہ نزار بن سعد بن عدنان سے شروع ہوا کیونکہ مضر اس کے بیٹے کا نام تھا۔
انھیں نضر اس لیے کہا جاتا تھا کہ وہ خوبصورت تھے اور ان کا چہرہ چمکدار تھا، نیز انھوں نے عرب میں سب سے پہلے خوبصورت آواز سے اونٹوں کو چلانے کا طریقہ ایجاد کیا۔
3۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عدنان کے والد، ان کے بیٹے معد، ربیعہ، مضر، قیس، تمیم،اسد،ضبہ،اور وہ خود سب مسلمان حضرت ابراہیم ؑ کے دین پر تھے۔
(فتح الباري: 647/6)
4۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب یہ ہے: ’’محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خذیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔
‘‘ (صحیح البخاري، مناقب الأنصار، باب مبعث النبي صلی اللہ علیه وسلم قبل الحدیث: 3851)
امام بخاری ؒ نے تاریخ الکبیر میں حضرت ابراہیم ؑ تک آپ کا نسب بیان کیا ہے۔