صحيح البخاري
كتاب أحاديث الأنبياء— کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں
بَابُ: {وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُدَ ذَا الأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ} إِلَى قَوْلِهِ: {وَفَصْلَ الْخِطَابِ} : باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ ص میں) فرمان ”ہمارے زوردار بندے داؤد کا ذکر کر، وہ اللہ کی طرف رجوع ہونے والا تھا“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وفصل الخطاب» تک (یعنی فیصلہ کرنے والی تقریر ہم نے انہیں عطا کی تھی)۔
حدیث نمبر: 3421
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَوَّامَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : لِابْنِ عَبَّاسٍ أَسْجُدُ فِي ص فَقَرَأَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ حَتَّى أَتَى فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ سورة الأنعام آية 84 - 90 فَقَالَ : ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ أُمِرَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِمْ .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا ، کہا میں نے عوام سے سنا ، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ` میں نے عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا میں سورۃ ص میں سجدہ کیا کروں ؟ تو انہوں نے آیت «ومن ذريته داود وسليمان» تلاوت کی «فبهداهم اقتده» تک نیز انہوں نے کہا کہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں میں سے تھے جنہیں انبیاء علیہم السلام کی اقتداء کا حکم تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أحاديث الأنبياء / حدیث: 3421
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4632
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
3421. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ ان سے حضرت مجاہد ؓ نے پوچھا: کیا ہم سورہ ص میں سجدہ تلاوت کریں؟ تو انھوں نے ﴿وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ﴾ سے لے کر ﴿فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ تک آیات تلاوت کیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے پھر فرمایا: تمہارے نبی کریم ﷺ ان لوگوں میں سے ہیں جنھیں پہلے انبیاء ؑ کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3421]
حدیث حاشیہ: حضرت امام بخاری نےاس حدیث کوکتاب التفسیر میں بھی نکالا ہے۔
اس میں یہ ہےکہ آپ نےسورۂ ص میں سجدہ کیا۔
ہمارے رسول کریم ﷺ کوجو اگلے رسولوں کی اقتداء کرنے کاحکم ہوا، اس کامطلب یہ ہے کہ عقائد و اصول سب پیغمبروں کے ایک ہیں گو فروعات میں کسی قدر اختلاف ہے۔
اس میں یہ ہےکہ آپ نےسورۂ ص میں سجدہ کیا۔
ہمارے رسول کریم ﷺ کوجو اگلے رسولوں کی اقتداء کرنے کاحکم ہوا، اس کامطلب یہ ہے کہ عقائد و اصول سب پیغمبروں کے ایک ہیں گو فروعات میں کسی قدر اختلاف ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3421 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3421. حضرت ابن عباس ؓسے روایت ہے کہ ان سے حضرت مجاہد ؓ نے پوچھا: کیا ہم سورہ ص میں سجدہ تلاوت کریں؟ تو انھوں نے ﴿وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ﴾ سے لے کر ﴿فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ﴾ تک آیات تلاوت کیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے پھر فرمایا: تمہارے نبی کریم ﷺ ان لوگوں میں سے ہیں جنھیں پہلے انبیاء ؑ کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3421]
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اس وقت سجدہ کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سورت میں سجدہ کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4807)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓنے خود اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4806)
یعنی رسول اللہ ﷺنے حضرت داؤد ؑ کی موافقت کے لیے سجدہ کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کی توبہ قبول کی تو انھوں نےشکرانے کے طور پر سجدہ کیا اور ہم بھی شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں۔
2۔
واضح رہے کہ رسولوں کی اقتدا کرنے کامطلب یہ ہے کہ عقائد و اصول میں تمام انبیائے کرام ؑ برابرہیں، البتہ فروعات میں قدرے اختلاف ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے اس وقت سجدہ کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سورت میں سجدہ کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4807)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓنے خود اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4806)
یعنی رسول اللہ ﷺنے حضرت داؤد ؑ کی موافقت کے لیے سجدہ کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کی توبہ قبول کی تو انھوں نےشکرانے کے طور پر سجدہ کیا اور ہم بھی شکر کے طور پر سجدہ کرتے ہیں۔
2۔
واضح رہے کہ رسولوں کی اقتدا کرنے کامطلب یہ ہے کہ عقائد و اصول میں تمام انبیائے کرام ؑ برابرہیں، البتہ فروعات میں قدرے اختلاف ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3421 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4632 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4632. حضرت مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے پوچھا: آیا سورہ ص میں سجدہ ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: "ہم نے (ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب) عطا کیے۔۔ آپ بھی انہی کا راستہ اختیار کریں۔" پھر فرمایا: وہ (حضرت داود ؑ) بھی انہی انبیاء میں سے ہیں (جن کی اقتدا کا حکم دیا گیا ہے)۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ مجاہد نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: تمہارے نبی ﷺ بھی ان میں سے ہیں جنہیں ان (مذکور انبیاء ؑ) کی اقتدا کا حکم دیا گیا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4632]
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں صراحت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے پڑھا ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ﴾ "اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان ؑ تھے۔
" حضرت داؤد ؑ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی اقتدا کا رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے تو حضرت داود ؑ نے سجدہ کیا تھا ان کی اقتدا میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی سجدہ کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4807)
2۔
وہ مقام حسب ذیل ہے جس میں حضرت داؤد ؑ کے سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔
"اور حضرت داؤد ؑ سمجھ گئے کہ ہم نے انھیں آزمایا ہے پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے (سجدے میں)
گر پڑے اور اللہ کے حضور رجوع کیا۔
" (ص: 38۔
24)
اس کی مزید وضاحت ہم حدیث 4807 میں کریں گے۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
1۔
ایک روایت میں صراحت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے پڑھا ﴿وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ﴾ "اس کی اولاد میں سے داود اور سلیمان ؑ تھے۔
" حضرت داؤد ؑ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی اقتدا کا رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے تو حضرت داود ؑ نے سجدہ کیا تھا ان کی اقتدا میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی سجدہ کیا ہے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4807)
2۔
وہ مقام حسب ذیل ہے جس میں حضرت داؤد ؑ کے سجدہ کرنے کا ذکر ہے۔
"اور حضرت داؤد ؑ سمجھ گئے کہ ہم نے انھیں آزمایا ہے پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے (سجدے میں)
گر پڑے اور اللہ کے حضور رجوع کیا۔
" (ص: 38۔
24)
اس کی مزید وضاحت ہم حدیث 4807 میں کریں گے۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4632 سے ماخوذ ہے۔