صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: باب: پانچ بہت ہی برے (انسان کو تکلیف دینے والے) جانور ہیں، جن کو حرم میں بھی مار ڈالنا درست ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِبَيْتِهَا فَأُحْرِقَ بِالنَّارِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً " .´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” گروہ انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے سائے میں اترے ، وہاں انہیں کسی ایک چیونٹی نے کاٹ لیا ۔ تو انہوں نے حکم دیا ، ان کا سارا سامان درخت کے تلے سے اٹھا لیا گیا ۔ پھر چیونٹیوں کا سارا چھتہ جلوا دیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی کہ تم کو تو ایک ہی چیونٹی نے کاٹا تھا ، فقط اسی کو جلانا تھا ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
مگر ان کے تراجم اور تشریحات میں لفظی اور معنوی بہت سی غلطیاں موجود ہیں۔
حتیٰ کہ بعض جگہ حدیث کا مفہوم کچھ ہوتا ہے اور یہ حضرات اس کے برعکس ترجمہ کرجاتے ہیں۔
اس کی ایک مثال یہاں بھی موجود ہے۔
حدیث کے الفاظ فأمر بجهازہ فأخرج من تحتها کا ترجمہ تفہیم البخاری (دیوبندی)
میں یوں کیاگیا ہے: ’’تو انہوں نے اس کے چھتے کو درخت کے نیچے سے نکالنے کا حکم دیا۔
وہ نکالا گیا۔
“ یہ ترجمہ بالکل غلط ہے، صحیح وہ ہے جو ہم نے کیا ہے، جیسا کہ اہل علم پر روشن ہے۔
1۔
سابقہ شریعتوں میں چیونٹی کو قتل کرنا اور اسے آگ سے جلانا جائز تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’آپ نے صرف ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہ جلایا؟‘‘ یعنی صرف اسی کو عذاب دینا تھا جس نے تکلیف پہنچائی تھی، لیکن ہماری شریعت میں جانداروں کو آگ سے جلانا جائز نہیں۔
اگرچہ موذی جانور کو مارنا جائزہے لیکن آگ سے جلانے کی ممانعت ہے۔
2۔
چیونٹی کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر وہ تھوڑی سی چیز بھی دیکھ لے تو دوسری چیونٹیوں کو بلا لاتی ہے اور اسے کھینچ کر اپنے بل میں لے جاتی ہے اور گرمیوں میں سردیوں کی خوراک جمع کرلیتی ہے اور جب اسے معلوم ہو کہ دانا وغیرہ بدبودار ہوجائے گا تو اس کو باہر نکال پھینکتی ہے۔
واللہ أعلم۔
انہوں نے عرض کیا پروردگار! اس بستی میں تو قصور بے قصور ہر طرح کے لوگ‘ لڑکے‘ بچے‘ جانور سب ہی تھے‘ تو نے سب کو ہلاک کردیا۔
پھر ایک درخت کے تلے اترے‘ ایک چیونٹی نے ان کو کاٹ لیا‘ انہوں نے غصہ ہو کر چیونٹیوں کا سارا بل جلا دیا۔
تب اللہ تعالیٰ نے ان کے معروضہ کا جواب ادا کیا کہ تو نے کیوں بے قصور چیونٹیوں کو ہلاک کردیا۔
حضرت امام بخاریؒ نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ آگ سے عذاب کرنا درست ہے‘ جیسے ان پیغمبر نے کیا۔
قسطلانی ؒنے کہا اس حدیث سے دلیل لی اس نے جو موذی جانور کا جلانا جائز سمجھتا ہے۔
اور ہماری شریعت میں تو چیونٹی اور شہد کی مکھی کو مار ڈالنے سے ممانعت ہے۔
(وحیدی)
1۔
یہ باب بلا عنوان ہے گویا عنوان سابقہ کاتکملہ ہے۔
ان کے درمیان مناسبت اس طرح ہے کہ جلانے میں حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے،صرف مستحق کو سزادی جائے۔
کسی بے گناہ کو سزادینا درست نہیں۔
اس حدیث میں ارشاد ہے: اگرصرف اسی چیونٹی کو جلایاجاتا جس نے کاٹاتھا تو اس نبی کو عتاب نہ ہوتا،لیکن یہ استدلال اس امر پر موقوف ہے کہ ہم سے پہلی شریعتیں ہمارے لیے حجت ہیں۔
(فتح الباری: 186/6)
2۔
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺنے چیونٹی اور شہد کی مکھی کومارڈالنے سے منع فرمایا ہے،البتہ موذی جانور کو مارنا یا جلاناجائز ہے۔
(عون الباری: 565/3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام حیوانات اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔
قرآن کریم میں بھی ہے: ’’ہرچیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔
‘‘ (بنی اسرایل 44/17)
جس کا سر موٹا، پیٹ سفید اور پشت سبز ہوتی ہے، چھوٹے پرندوں کا شکار کرتا ہے کو مارنے سے منع فرمایا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انبیاء میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کی پوری بستی کو جلا ڈالنے کا حکم دے دیا، اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ انہیں تنبیہ فرمائی کہ ایک چیونٹی کے تجھے کاٹ لینے کے بدلے میں تو نے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے والی پوری ایک جماعت کو ہلاک کر ڈالا۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5266]
1: چیونٹیوں کو اللہ کی تسبیح کرنے والی امت کہا گیا ہے، ویسے اللہ کی سب مخلوق اس کی تسبیح کرتی ہے، مگر ان کا تسبیح کرنا ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔
اللہ تعالی فرماتا: (وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا) (بنی اسرائیل:44)
2: کاٹنے والی چیونٹی کو اگر انسان بطور سزا مارڈالے تو کچھ اجازت ہے ورنہ عمومی طور پر اجازت نہیں ہے۔
3: جب ایک چیونٹی کو بلا وجہ قتل کرنا ناجائز ہے تو کسی صاحب ایمان آدمی کا قتل کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔
4: جب چیونٹیاں کسی گھرمیں بہت زیادہ ہو جائیں اور اذیت کا باعث ہوں تو کسی دوا وغیرہ سے ہلاک کرنا جائز ہے۔
5: حدیث میں مذکور جس کسی نبی کا ذکر آیا ہے، وہ غالبا اس مسئلے سے آگاہ نہیں تھے، اس لئے انہوں نے یہ کام کیا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے ایک نبی کو کاٹ لیا تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر کو جلا دینے کا حکم دیا اور وہ جلا دیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل کی: اگر تمہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا تھا تو (ایک ہی کو مارتے مگر) تم نے ایک ایسی امت (مخلوق) کو مار ڈالا جو (ہماری) تسبیح (پاکی بیان) کر رہی تھی “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4363]
(2) معلوم ہوا حیوان بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے تو اس حد تک تصریح فرمائی ہے کہ ساتویں آسمان وزمین اور جو مخلوق ان (آسمانوں اور زمین) میں ہے، وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہیں۔ مطلب بالکل واضح ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد سمیت اس کی تسبیح کرتی ہے۔ ارشاد باری ہے: ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالأرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ﴾ (بنی اسرائیل: 17: 44) اور یہ حقیقت ہے کہ ہر مخلوق ہی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ بعض لوگوں نے حیوانات وغیرہ کی تسبیح کو مجازی معنیٰ پر محمول کرنے کی کوشش کی ہے، یہ قطعاً درست نہیں۔
(3) حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیائے کرامؓ کو بھی عام انسانوں کی طرح درد اور موذی چیزوں کے کاٹنے سے تکلیف محسوس ہوتی تھی۔
(4) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صرف ذوی العقول، یعنی صاحب شعور مخلوق ہی سے ظلم کا بدلا نہیں لیا جائے گا بلکہ غیر ذوی العقول، سے بھی اس کے ظلم وزیادتی کا بدلہ لیا جا سکتا ہے۔ واللہ أعلم
(5) شاید آگ سے جلانا ان کی شریعت میں جائز ہوگا، ہماری شریعت میں منع ہے۔
(6) چیونٹی کے قتل سے نہی اس کے حرام ہونے کی دلیل ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” انبیاء میں سے ایک نبی کو چیونٹی نے کاٹ لیا، تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر جلا دینے کا حکم دیا، تو وہ جلا دیئے گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی نازل کی کہ آپ نے ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے امتوں (مخلوقات) میں سے ایک امت (مخلوق) کو تباہ کر دیا، جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی تھی “؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3225]
فوائد و مسائل:
(1)
حشرات کو قتل کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے البتہ جن سے انسانوں کوزیادہ نقصان پہنچتا ہے اور بظاہر کوئی فائدہ نہیں پہنچتا انہیں قتل کرنا جائز ہے جیسے چوہا وغیرہ۔
(2)
اللہ کی ہر مخلوق اللہ کی تسبیح اورعبادت کرتی ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے سائے میں اترے، وہاں انہیں ایک چیونٹی نے کاٹ لیا، تو انہوں نے حکم دیا، چنانچہ ان کا سارا سامان درخت کے نیچے سے اٹھا لیا گیا، پھر چیونٹیوں کو آگ لگوا کر جلا ڈالا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی کہ تم کو تو ایک ہی چیونٹی نے کاٹا تھا، فقط اسی کو جلانا تھا۔“ [صحيفه همام بن منبه/متفرق/حدیث: 18]
ایک دوسری روایت میں ہے کہ الله تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی: «أَنْ قَرْصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ اللهَ .»
"تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تھا لیکن تم نے ایک ایسی خلقت کو جلا کر راکھ کر دیا جو الله کی تسبیح بیان کرتی تھی۔ " [صحيح بخاري، كتاب الجهاد والسير، رقم: 3019]
امام بخاری رحمة الله علیہ نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ بوقت ضرورت چیونٹیوں کو مارنا درست ہے، جیسے اس پیغمبر نے کیا۔
لیکن یاد رہے کہ یہ عذاب آگ سے نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ الله کی مخلوق کو آگ سے عذاب دینے کی احادیث میں ممانعت آئی ہے۔
یاد رہے کہ بلاوجہ چیونٹی کو مارنا ممنوع ہے۔ چناچہ سیدنا عبدالله بن عباس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے چار جانداروں کو مارنے سے منع فرمایا ہے: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہدہد اور لٹورا۔ [سنن ابو داود، باب فى قتل الذر، رقم: 5267 _ سنن ابن ماجة، رقم: 3224 _ الباني رحمه الله نے اسے صحيح كها هے۔]
ان جانداروں کے قتل کی ممانعت کی حکمت: * چیونٹی کو مارنے سے رسول کریم علیه الصلوة والسلام نے اس لیے منع فرمایا ہے کہ وہ الله کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ [صحيح بخاري، رقم: 3019]
* حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ چونکہ ہدہد نے صرف ایک الله کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور غیر الله کو سجدہ کرنے سے روکا اسی لیے اس کا قتل ممنوع ہے۔ [بحواله تيسير الرحمن: 1075/2]
* شہد کی مکھی قدرت الہی کا نمونہ ہے اور نیز شہد قابل شفا ہے۔ شاید اسی وجہ سے اسے مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
* لٹورا، ممولا کو کہتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹا سا پرندہ ہے جس کا سر بڑا، پیٹ سفید اور پیٹھ سبز ہوتی ہے۔ چھوٹے پرندوں اور حشرات وغیرہ کا شکار کرتا ہے۔
*ابن ماجہ از محمد فواد الباقی بحوالہ المنجد ابن اثیر رحمه الله نے فرمایا: "یہ بڑے سر اور بڑی چونچ والا ایک پرندہ ہے۔ اس کے پر آدھے سفید اور آدھے سیاہ ہوتے ہیں۔ [النهاية، ماده صرد]
* مولانا عطا الله ساجد رقمطراز ہیں: "قتل نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان چیزوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرنا منع ہے۔ «والله اعلم» [سنن ابن ماجه: 360/4، _ مطبوعه دارالسلام، مزيد تفصيل كے ليے ديكهئے: ألارواء: 143/8]
اس سے معلوم ہوا کہ دین اسلام نے جانوروں کے بھی حقوق بتلائے ہیں، لہذا ان کو بلا وجہ مارنا درست نہیں، البتہ موذی جانور، جیسے سانپ اور بچھو وغیرہ کو ہر حال میں مار دینا چاہیے۔