صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ: باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ الْقُشَيْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ ثُمَّ نَهَى ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَمَ حَائِطًا لَهُ فَوَجَدَ فِيهِ سِلْخَ حَيَّةٍ ، فَقَالَ : انْظُرُوا أَيْنَ هُوَ فَنَظَرُوا ، فَقَالَ : اقْتُلُوهُ فَكُنْتُ أَقْتُلُهَا لِذَلِكَ .´ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے ابویونس قشیری ( حاتم بن ابی صغیرہ ) نے ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو پہلے مار ڈالا کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں مارنے سے خود ہی منع کرنے لگے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دیوار گروائی تو اس میں سے ایک سانپ کی کینچلی نکلی ، آپ نے فرمایا کہ دیکھو ، وہ سانپ کہاں ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا ( اور وہ مل گیا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو ، میں بھی اسی وجہ سے سانپوں کو مار ڈالا کرتا تھا ۔