صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ: باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
حدیث نمبر: 3307
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أُمَّ شَرِيكٍ أَخْبَرَتْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ " .مولانا داود راز
´ہم سے صدقہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ام شریک رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3307. حضرت ام شریک ؓسے روایت ہے، انھوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے چھپکلی کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3307]
حدیث حاشیہ:
ایک حدیث میں اسے مار ڈالنے کی وجہ بھی بیان ہوئی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی آگ کو پھونکیں مارمار کرتیز کرتی تھی۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3359)
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جب حضرت ابراہیم ؑ آتش نمرود میں ڈالے گئے تو زمین کا ہر جانور اسے بجھانے کی کوشش کرتا تھا،البتہ چھپکلی اسے پھونکیں مار،مار کرتیز کرنے میں کوشاں تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ماردینے کا حکم دیا۔
‘‘ حضرت عائشہ ؓنے ان کا کام تمام کرنے کے لیے ایک نیزہ رکھا ہواتھا۔
(سن ابن ماجة، الصید، حدیث: 3231)
حضرت ام شریک ؓنے انھیں مارنے کی باقاعدہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت حاصل کی تھی۔
(صحیح مسلم السلام حدیث: 5842(2237)
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے پہلی ضرب سے قتل کرنے میں سونیکیاں ملتی ہیں، دوسری ضرب سے ماردینے میں اس سے کم، پھر تیسری ضرب سے ختم کرنے میں اس سے کم نیکیاں ملتی ہیں۔
" (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5847(2240)
ایک حدیث میں اسے مار ڈالنے کی وجہ بھی بیان ہوئی ہے کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی آگ کو پھونکیں مارمار کرتیز کرتی تھی۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3359)
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جب حضرت ابراہیم ؑ آتش نمرود میں ڈالے گئے تو زمین کا ہر جانور اسے بجھانے کی کوشش کرتا تھا،البتہ چھپکلی اسے پھونکیں مار،مار کرتیز کرنے میں کوشاں تھی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ماردینے کا حکم دیا۔
‘‘ حضرت عائشہ ؓنے ان کا کام تمام کرنے کے لیے ایک نیزہ رکھا ہواتھا۔
(سن ابن ماجة، الصید، حدیث: 3231)
حضرت ام شریک ؓنے انھیں مارنے کی باقاعدہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت حاصل کی تھی۔
(صحیح مسلم السلام حدیث: 5842(2237)
واضح رہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے پہلی ضرب سے قتل کرنے میں سونیکیاں ملتی ہیں، دوسری ضرب سے ماردینے میں اس سے کم، پھر تیسری ضرب سے ختم کرنے میں اس سے کم نیکیاں ملتی ہیں۔
" (صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5847(2240)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3307 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3359 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3359. حضرت اُم شریک ؓسے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو مارڈالنے کا حکم دیا تھا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم ؑ پر پھونکیں مار مار کر آگ تیز کرتی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3359]
حدیث حاشیہ: یعنی اس نے پھونکیں مارکر آگ کو اور بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔
یہ گرگٹ ایک مشہور زہریلا جانور ہے جو ہر آن اپنے رنگ بھی بدلتا رہتا ہے۔
جسے مارنے کا حکم خود حدیث شریف میں ہے اور اسے مارنے پر ثواب بھی ہے۔
روایت میں اس کی حرکت بد کا ذکر ہے۔
یہ بھی واقعہ بالکل برحق ہے کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو فرمادیا اس میں شک و شبہ ہو ہی نہیں سکتا۔
یہ گرگٹ ایک مشہور زہریلا جانور ہے جو ہر آن اپنے رنگ بھی بدلتا رہتا ہے۔
جسے مارنے کا حکم خود حدیث شریف میں ہے اور اسے مارنے پر ثواب بھی ہے۔
روایت میں اس کی حرکت بد کا ذکر ہے۔
یہ بھی واقعہ بالکل برحق ہے کیوں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو فرمادیا اس میں شک و شبہ ہو ہی نہیں سکتا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3359 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3359 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3359. حضرت اُم شریک ؓسے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو مارڈالنے کا حکم دیا تھا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم ؑ پر پھونکیں مار مار کر آگ تیز کرتی تھی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3359]
حدیث حاشیہ:
رسول اللہ ﷺنے اسے مارنے کا حکم دیا ہے بلکہ اسے پہلی ضرب سے مارنے میں سونیکیاں ملتی ہیں، دوسری ضرب سے مارنے میں اس سے کم، پھر تیسری ضرب سے اسے ختم کرنے سے اس سے بھی کم نیکیاں ملتی ہیں، بہرحال اسے مارنا کارثواب ہے۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5846(2240)
حضرت ام شریک ؓ نے انھیں مار نے کے لیے باضابطہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لی تھی جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5843(2237)
رسول اللہ ﷺنے اسے مارنے کا حکم دیا ہے بلکہ اسے پہلی ضرب سے مارنے میں سونیکیاں ملتی ہیں، دوسری ضرب سے مارنے میں اس سے کم، پھر تیسری ضرب سے اسے ختم کرنے سے اس سے بھی کم نیکیاں ملتی ہیں، بہرحال اسے مارنا کارثواب ہے۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5846(2240)
حضرت ام شریک ؓ نے انھیں مار نے کے لیے باضابطہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لی تھی جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(صحیح مسلم، السلام، حدیث: 5843(2237)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3359 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2237 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ام شریک رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گرگٹ مارنے کا حکم دیا اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے، آپ نے حکم دیا، مارنے کا لفظ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5842]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
الاوزاغ: وزغة کی جمع ہے، یہ سام ابرص(چھپکلی)
کی جنس سے ہے اور بقول علامہ دمیری سانپ کی طرح انڈے دیتا ہے اور سردی کے چار ماہ اپنی بل میں رہتا ہے، کچھ کھاتا پیتا نہیں ہے۔
یہ انتہائی موذی جاندار ہے، اس لیے آپ نے اسے کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہاں گرگٹ سے مراد چھپکلی ہے۔
الاوزاغ: وزغة کی جمع ہے، یہ سام ابرص(چھپکلی)
کی جنس سے ہے اور بقول علامہ دمیری سانپ کی طرح انڈے دیتا ہے اور سردی کے چار ماہ اپنی بل میں رہتا ہے، کچھ کھاتا پیتا نہیں ہے۔
یہ انتہائی موذی جاندار ہے، اس لیے آپ نے اسے کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہاں گرگٹ سے مراد چھپکلی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2237 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3228 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´چھپکلی مارنے کا حکم۔`
ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3228]
ام شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيد/حدیث: 3228]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
وزع کا ترجمہ علماء نے گرگٹ اور بعض نے چھپکلی کیا ہے۔
دوسرا ترجمہ زیادہ صحیح ہے۔
فوائد و مسائل:
وزع کا ترجمہ علماء نے گرگٹ اور بعض نے چھپکلی کیا ہے۔
دوسرا ترجمہ زیادہ صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3228 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 353 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
353- سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرگٹ (یا چھپکلی) کو مارنے کی ہدایت کی تھی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:353]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ چھپکلی مارنا فرض ہے، نیز اس کو پہلی ضرب سے مارنے کے بدلے میں 100 نیکیاں بھی ملتی ہیں۔ (صحیح مسلم: 5847 / 2240) اس کو مارنے کی وجہ بھی حدیث میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام آتش نمرود میں ڈالے گئے تو زمین کا ہر جانور اسے بجھانے کی کوشش کرتا تھا، البتہ چھپکلی اسے پھونکیں مار، مار کر تیز کرنے میں کوشاں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار دینے کا حکم دیا۔ “ (سنن ابن ماجہ: 3231۔ حسن) یاد رہے کہ قواعد فقہیہ میں سے ہے کہ جس جانور کو قتل کر نے کا حکم دیا گیا ہو، یا جس جانور کوقتل کرنے سے منع کیا گیا ہو، اس کا کھانا حرام ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ چھپکلی مارنا فرض ہے، نیز اس کو پہلی ضرب سے مارنے کے بدلے میں 100 نیکیاں بھی ملتی ہیں۔ (صحیح مسلم: 5847 / 2240) اس کو مارنے کی وجہ بھی حدیث میں موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام آتش نمرود میں ڈالے گئے تو زمین کا ہر جانور اسے بجھانے کی کوشش کرتا تھا، البتہ چھپکلی اسے پھونکیں مار، مار کر تیز کرنے میں کوشاں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار دینے کا حکم دیا۔ “ (سنن ابن ماجہ: 3231۔ حسن) یاد رہے کہ قواعد فقہیہ میں سے ہے کہ جس جانور کو قتل کر نے کا حکم دیا گیا ہو، یا جس جانور کوقتل کرنے سے منع کیا گیا ہو، اس کا کھانا حرام ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 353 سے ماخوذ ہے۔