صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ خَيْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ: باب: مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں جن کو چرانے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھرتا رہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَتْ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَحَلُّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا " ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ نَحْوَ مَا أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ وَلَمْ يَذْكُرْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ .´ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی ، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب رات کا اندھیرا شروع ہو یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) جب شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لیا کرو ، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلتے ہیں ۔ البتہ جب ایک گھڑی رات گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو ، اور اللہ کا نام لے کر دروازے بند کر لو ، کیونکہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھول سکتا ، ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بالکل اسی طرح حدیث سنی تھی جس طرح مجھے عطاء نے خبر دی تھی ، البتہ انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ ” اللہ کا نام لو ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
ایک دوسری روایت میں ہے: ’’رات کے وقت اللہ کا نا م لے کر بتیاں گل کردو اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ بند کرو۔
اللہ کا نام لے کر برتن پرڈھکن دے دو۔
اگرڈھکن نہ ملے تو کوئی بھی چیز رکھ دو۔
‘‘ (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3280)
2۔
بچوں کو روک لینے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بچے نجاست آلود ہوتے ہیں اور اللہ کے ذکر کے ذریعے سے بچاؤ کی صلاحیت ان میں انہیں ہوتی۔
جب شیاطین ایسی حالت میں بچے کو دیکھتے ہیں توان کے چمٹ جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ شیطان گندگی سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں۔
رات کے وقت ان کے پھیلنے کا سبب یہ ہے کہ روشنی کی نسبت اندھیرے میں ان کی حرکات زیادہ ہوتی ہیں اور وہ اندھیرے سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، نیز وہ ہر سیاہ چیز سے مانوس ہوتے ہیں جیسا کہ سیاہ کتے کو شیطان کہا گیا ہے۔
3۔
امام بخاری ؒنے اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ہے: ’’رات کو چراغ بجھادو کیونکہ سوتے وقت چوہابتی نکال لیتا ہے جس سے گھر جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3316)
اس میں چوہے کا ذکر ہے، اس لیے مذکورہ عنوان کے تحت اسے ذکر کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
بعض نے کہا سانپ مراد ہیں۔
اکثر سانپ اس وقت اپنے بلوں سے ہوا کھانے کے لیے نکلتے ہیں۔
ظاہر حدیث کی بنا پر شیاطین نکلتے، زمین پر پھیلتے اور بنی آدم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
(آمنا و صدقنا واللہ أعلم بحقیقة الحال)
1۔
رات کے وقت شیاطین کے پھیلنے کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ روشنی کی نسبت اندھیرے میں ان کی حرکات زیادہ ہوتی ہیں وہ اندھیرے میں فائدہ اٹھاتے ہیں اور روشنی کو مکروہ جانتے ہیں اسی طرح ہر سیاہ چیز کو وہ اچھا جانتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے سیاہ کتے کو شیطان کہا ہے اس کی وجہ بھی ان کا سیاہ چیز سے مانوس ہونا ہے۔
2۔
اس وقت بچوں پر خوف کا سبب یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ نجاست وغیرہ لگی ہوتی ہے جس سے شیاطین کو بڑی دلچسپی ہے ان سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے سے بچاجا سکتا ہے جس کی صلاحیت بچوں میں نہیں ہوتی۔
اس بنا پر شیاطین جب پھیلتے ہیں تو جو چیز ان کے مناسب ہوتی ہے اس کے ساتھ متعلق ہو جاتے ہیں رات کو سوتے وقت اگر نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔
مثلاً: قندیل چھت سے لٹک رہی ہے یا بجلی کا بلب جل رہا ہے تو ضرورت کے پیش نظر رات کے وقت ان کو جلانا جائز ہے۔
بہر حال انسان کو چاہیے کہ ان احکام پر عمل پیرا رہے کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے اور انسان تکلیف سے محفوظ رہتا ہے۔
واللہ المستعان۔
طبی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ رات کی روشنی گل کر کے سونا بہت آرام کا باعث ہوتا ہے۔
چراغ جلتا چھوڑنے کا حدیث میں یہ نقصان بیان ہوا ہے: ’’چوہیا لوگوں کے گھروں کو جلا ڈالتی ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأشربة، حدیث: 3732)
یعنی وہ جلتی بتی کو گھسیٹ لے جاتی ہے، جس سے گھر جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔
معلوم ہوا کہ بجلی، گیس اور کوئلے کی انگیٹھی جلتی چھوڑ کر سونا بہت مضر صحت ہے، اس سے بھی آگ لگ جاتی ہے، بجلی کا سرکٹ شارٹ ہو جاتا ہے۔
گیس کی وجہ سے لوگوں کی اموات واقع ہو جاتی ہیں۔
اگر ضرورت ہو تو بجلی کا ہلکی روشنی والا بلب روشن رکھا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں یہ خطرہ نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے “ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فواشی» ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2604]
مستحب ہے کہ مغرب کے وقت سفرقدرے موقوف کرلیا جائے۔
اور پھر اندھیرا چھانے پر باقی سفر کیا جائے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو (اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور (بچوں کو) اچک لینے کا وقت ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3733]
فائدہ: شیطانی اثرات اور ان کے حملوں سے بچنے کےلئے مسنون اذکار کے ساتھ ساتھ اس مذکورہ حفاظتی تدبیر کا اہتمام کرنا بھی لازمی ہے۔
اس حدیث میں رات کے بعض آداب بیان کیے گئے ہیں کہ ان کا لحاظ رکھتے ہوئے رات گزارنی چا ہیے۔