صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ صِفَةِ إِبْلِيسَ وَجُنُودِهِ: باب: ابلیس اور اس کی فوج کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَجْنَحَ اللَّيْلُ ، أَوْ قَالَ جُنْحُ اللَّيْلِ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ الْعِشَاءِ فَخَلُّوهُمْ وَأَغْلِقْ بَابَكَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَأَطْفِئْ مِصْبَاحَكَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَأَوْكِ سِقَاءَكَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَخَمِّرْ إِنَاءَكَ ، وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ، وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ شَيْئًا " .´ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” رات کا اندھیرا شروع ہونے پر یا رات شروع ہونے پر اپنے بچوں کو اپنے پاس (گھر میں) روک لو، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلنا شروع کرتے ہیں۔ پھر جب عشاء کے وقت میں سے ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو (چلیں پھریں) پھر اللہ کا نام لے کر اپنا دروازہ بند کرو، اللہ کا نام لے کر اپنا چراغ بجھا دو، پانی کے برتن اللہ کا نام لے کر ڈھک دو، اور دوسرے برتن بھی اللہ کا نام لے کر ڈھک دو (اور اگر ڈھکن نہ ہو) تو درمیان میں ہی کوئی چیز رکھ دو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
بعض نے کہا سانپ مراد ہیں۔
اکثر سانپ اس وقت اپنے بلوں سے ہوا کھانے کے لیے نکلتے ہیں۔
ظاہر حدیث کی بنا پر شیاطین نکلتے، زمین پر پھیلتے اور بنی آدم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
(آمنا و صدقنا واللہ أعلم بحقیقة الحال)
1۔
رات کے وقت شیاطین کے پھیلنے کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ روشنی کی نسبت اندھیرے میں ان کی حرکات زیادہ ہوتی ہیں وہ اندھیرے میں فائدہ اٹھاتے ہیں اور روشنی کو مکروہ جانتے ہیں اسی طرح ہر سیاہ چیز کو وہ اچھا جانتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے سیاہ کتے کو شیطان کہا ہے اس کی وجہ بھی ان کا سیاہ چیز سے مانوس ہونا ہے۔
2۔
اس وقت بچوں پر خوف کا سبب یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ نجاست وغیرہ لگی ہوتی ہے جس سے شیاطین کو بڑی دلچسپی ہے ان سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذریعے سے بچاجا سکتا ہے جس کی صلاحیت بچوں میں نہیں ہوتی۔
اس بنا پر شیاطین جب پھیلتے ہیں تو جو چیز ان کے مناسب ہوتی ہے اس کے ساتھ متعلق ہو جاتے ہیں رات کو سوتے وقت اگر نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔
مثلاً: قندیل چھت سے لٹک رہی ہے یا بجلی کا بلب جل رہا ہے تو ضرورت کے پیش نظر رات کے وقت ان کو جلانا جائز ہے۔
بہر حال انسان کو چاہیے کہ ان احکام پر عمل پیرا رہے کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے اور انسان تکلیف سے محفوظ رہتا ہے۔
واللہ المستعان۔
1۔
ایک دوسری روایت میں ہے: ’’رات کے وقت اللہ کا نا م لے کر بتیاں گل کردو اور اللہ کا نام لے کر مشکیزے کا منہ بند کرو۔
اللہ کا نام لے کر برتن پرڈھکن دے دو۔
اگرڈھکن نہ ملے تو کوئی بھی چیز رکھ دو۔
‘‘ (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3280)
2۔
بچوں کو روک لینے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بچے نجاست آلود ہوتے ہیں اور اللہ کے ذکر کے ذریعے سے بچاؤ کی صلاحیت ان میں انہیں ہوتی۔
جب شیاطین ایسی حالت میں بچے کو دیکھتے ہیں توان کے چمٹ جانے کا اندیشہ ہے کیونکہ شیطان گندگی سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں۔
رات کے وقت ان کے پھیلنے کا سبب یہ ہے کہ روشنی کی نسبت اندھیرے میں ان کی حرکات زیادہ ہوتی ہیں اور وہ اندھیرے سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، نیز وہ ہر سیاہ چیز سے مانوس ہوتے ہیں جیسا کہ سیاہ کتے کو شیطان کہا گیا ہے۔
3۔
امام بخاری ؒنے اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں ہے: ’’رات کو چراغ بجھادو کیونکہ سوتے وقت چوہابتی نکال لیتا ہے جس سے گھر جل کر راکھ ہوجاتا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3316)
اس میں چوہے کا ذکر ہے، اس لیے مذکورہ عنوان کے تحت اسے ذکر کیا ہے۔
واللہ أعلم۔
طبی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ رات کی روشنی گل کر کے سونا بہت آرام کا باعث ہوتا ہے۔
چراغ جلتا چھوڑنے کا حدیث میں یہ نقصان بیان ہوا ہے: ’’چوہیا لوگوں کے گھروں کو جلا ڈالتی ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الأشربة، حدیث: 3732)
یعنی وہ جلتی بتی کو گھسیٹ لے جاتی ہے، جس سے گھر جل کر راکھ ہو جاتا ہے۔
معلوم ہوا کہ بجلی، گیس اور کوئلے کی انگیٹھی جلتی چھوڑ کر سونا بہت مضر صحت ہے، اس سے بھی آگ لگ جاتی ہے، بجلی کا سرکٹ شارٹ ہو جاتا ہے۔
گیس کی وجہ سے لوگوں کی اموات واقع ہو جاتی ہیں۔
اگر ضرورت ہو تو بجلی کا ہلکی روشنی والا بلب روشن رکھا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں یہ خطرہ نہیں ہوتا۔
واللہ أعلم
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے " ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فواشی» ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2604]
مستحب ہے کہ مغرب کے وقت سفرقدرے موقوف کرلیا جائے۔
اور پھر اندھیرا چھانے پر باقی سفر کیا جائے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " عشاء کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس ہی رکھو (اور مسدد کی روایت میں ہے: شام کے وقت اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھو) کیونکہ یہ جنوں کے پھیلنے اور (بچوں کو) اچک لینے کا وقت ہے۔" [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3733]
فائدہ: شیطانی اثرات اور ان کے حملوں سے بچنے کےلئے مسنون اذکار کے ساتھ ساتھ اس مذکورہ حفاظتی تدبیر کا اہتمام کرنا بھی لازمی ہے۔
اس حدیث میں رات کے بعض آداب بیان کیے گئے ہیں کہ ان کا لحاظ رکھتے ہوئے رات گزارنی چا ہیے۔