صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ وَأَنَّهَا مَخْلُوقَةٌ: باب: جنت کا بیان اور یہ بیان کہ جنت پیدا ہو چکی ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّذِينَ عَلَى آثَارِهِمْ كَأَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً قُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، لَا تَبَاغُضَ بَيْنَهُمْ ، وَلَا تَحَاسُدَ لِكُلِّ امْرِئٍ زَوْجَتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ الْعَظْمِ وَاللَّحْمِ " .´ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے باپ نے بیان کیا ، ان سے ہلال نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` سب سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہو گا ، ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ۔ جو گروہ اس کے بعد داخل ہو گا ان کے چہرے آسمان پر موتی کی طرح چمکنے والے ستاروں میں جو سب سے زیادہ روشن ستارہ ہوتا ہے اس جیسے روشن ہوں گے ، سب کے دل ایک جیسے ہوں گے نہ ان میں بغض و فساد ہو گا اور نہ حسد ، ہر جنتی کی دو حورعین بیویاں ہوں گی ، اتنی حسین کہ ان کی پنڈلی کی ہڈی اور گوشت کے اندر کا گودا بھی دیکھا جا سکے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
کوکب دری بہت بڑا چمکدار ستارہ ہے چمک کی وجہ سے اس کو موتی سے تعبیرکیا گیا ہے وہ ستاروں میں اس طرح نمایاں ہوتا ہے جس طرح جواہرات میں موتی بلند مقام رکھتا ہے۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل جنت میں درجہ بندی ہوگی۔
کچھ اعلیٰ درجے پر فائزہوں گے اور کچھ ان سے نچلے درجے میں ہوں گے۔
3۔
امام بخاری ؒ کا مقصد جنت اور اہل جنت کے اوصاف بیان کرنا ہے جو اس حدیث میں ذکر ہوئے ہیں۔
یہ حدیث اوپر بھی گزرچکی ہے۔
1۔
حضرت آدم ؑ کا پیدائشی قدر ساٹھ ہاتھ تھا۔
ان کی اولاد کا قد آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوا حتی کہ موجودہ صورت حال سامنے آئی لیکن ان کی اولاد جنت میں جائے گی۔
تو اصل قدوقامت پر لوٹا دیا جائے گا۔
ایک روایت میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت ؑ کو اس کی صورت پر پیدا کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الاستيذان، حدیث: 6227)
2۔
اس حدیث سے ڈاردن کے نظریے کی تردید ہوتی ہے کہ انسان پہلے بندر کی شکل میں تھا آہستہ آہستہ اس نے انسانی شکل اختیار کی نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آدم ؑ پیدائش کے وقت اسی شکل و صورت میں تھے۔
چونکہ ان احادیث سے حضرت آدم ؑ اور ان کی اولاد کی پیدا ئش کا ذکر ہے اس لیے امام بخاری ؒ نے انھیں یہاں بیان کیا ہے۔
1۔
’’ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی۔
" اس کا مطلب ہے کہ کم ازکم دو ہوں گی یا حوریں دو ہوں گی۔
2۔
جنت میں صبح و شام سے مراد دوام اور استمرار ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے تمھاراصبح و شام یہی کام ہے یعنی تم ہمیشہ اسی طرح کرتے رہتے ہو۔
3۔
اہل جنت کا تسبیح و تہلیل کرنا اس طرح ہو گا کہ جب سانس لیں گے تو خود بخود ان کی زبان سے تسبیح و تہلیل کی آواز پر آمد ہو گی۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے دل اللہ کی محبت سے لبریز ہوں گے جس کے باعث وہ بکثرت اللہ کا ذکر کریں گے۔
یعنی اہل جنت ہمیشہ اللہ کے ذکر سے لذت و سرور پاتے رہیں گے۔
4۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔
دراصل شفاعت کے بعد جنت میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔
شفاعت سے پہلے جہنم میں ان کی اکثریت ہوگی۔
(عمدة القاري: 604/10)
1۔
امام مسلم ؒ نے حضرت جابر ؒ سے ایک روایت بیان کی ہےکہ اہل جنت میں کھائیں پئیں گے اور بول و براز (پیشاب پاخانہ)
نہیں کریں گے بلکہ ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہو جائے گا اور وہ ڈکار بھی کستوری جیسا ہوگا۔
(صحیح مسلم، الجنة وصفة نعیمها و أھلها، حدیث 7154(2835)
اس کی مزید تفصیل امام احمد ؒنے حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ایک روایت میں ذکر کی ہے کہ اہل کتاب میں سے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سے عرض کی ابو القاسم!آپ کہتے ہیں جنتی کھائیں پئیں گے؟ آپ نے فرمایا: ’’ہاں ایک آدمی کو کھانے پینے اور جماع کرنے میں سو آدمی کی طاقت دی جائے گی۔
‘‘ اس نے کہا جو شخص کھائے پیے گا اسے رفع حاجت کی ضرورت ہوگی حالانکہ جنت میں اس طرح کی آلائشیں نہیں ہوں گی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ان کے جسم سے کستوری کی طرح خوشبو دار پسینہ برآمد ہوگا۔
یہی ان کی قضائے حاجت ہوگی۔
‘‘ (مسند أحمد: 367/4)
دراصل دنیا کے کھانے کثیف ہوتے ہیں اس لیے اہل دنیا کو رفع حاجت کی ضرورت لاحق ہوتی ہے لیکن جنت میں کھانے پینے کا سامان لطافت سے بھر پورہوگا اس لیے ان کی رفع حاجت بھی لطیف انداز سے ہوگی۔
واللہ أعلم۔
2۔
اس حدیث میں کنگھیوں کا ذکر ہے۔
جنت میں اپنے حسن کو دوبالا کرنے کے لیے کنگھی کی جائے گی کیونکہ بالوں میں میل کچیل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔
(اللهم ارزقنا جنة الفردوس بغير حساب وعذاب)
(1)
لايتغوطون: وہ رفع حاجت نہیں کریں گے، (2)
لايمتخطون: ناک کی ریزش نہیں آئے گی۔
(3)
رشحهم المسك: ان کا پسینہ کستوری ہوگا، (4)
مجامرهم: مجمرة، انگیٹھی، (5)
الوة: لکڑی جو انگیٹھی میں سلگائی جاتی ہے۔
فوائد ومسائل: جنت کی ہر غذا، کثیف مادہ سے پاک اور اس قدر لطف اور نورانی ہوگی کہ اس سے پیٹ میں کسی قسم کا فضلہ تیار نہیں ہوگا اور ان کا حسن وجمال چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوگا، ان کی سیرت و کردار اور اخلاق میں ان کی شکل و صورت کی طرح یکسانیت ہوگی۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہو گی، پھر جو لوگ ان کے بعد آئیں گے آسمان میں سب سے زیادہ روشن تارے کی طرح چمکتے ہوں گے، نہ وہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ، نہ وہ ناک صاف کریں گے نہ تھوکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور پسینہ مشک کا ہو گا، ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی، ان کی بیویاں بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی، سارے جنتیوں کی عادت ایک شخص جیسی ہو گی، سب اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ہوں گے، ساٹھ ہاتھ کے لمبے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4333]
فوائد ومسائل: (1)
اہل جنت کو حسن و جمال ان کے اعمال اور درجا ت کے مطابق ملے گا۔
(2)
بلند درجات کے حامل مومن دوسروں سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
(3)
سب سے پہلے داخل ہونے سے مراد انبیائے کرام ؑ کے بعد دوسروں سے پہلے داخلہ ہے۔
یا امت محمدیہ میں سے سب سے پہلے داخل ہونے والے افراد مراد ہیں۔
(4)
پیشاب پاخانہ وغیرہ دنیا کی مادی غذا کا غِیر مفید جزء ہیں۔
جنت کی غذاوں میں کوئی ایسا جزء شامل نہیں ہوگا۔
اس لیے وہ مکمل ہضم ہو کر جزو بدن بن جائے گی۔
اور قضائے حاجت کی ضرورت پیش نہیں آئیگی۔
(5)
خو شبو بھی اللہ کی ایک نعمت ہے۔
دنیا میں اگربتی کی صورت میں اس کے مختلف مظاہر موجود ہے۔
جنت میں بھی یہ نعمت موجود ہو گی۔
چناچہ اس مقصد کے لیے بہترین قسم کی خوشبو دار لکڑی موجود ہوگی جو انگھیٹیوں میں جلائی جائے گی۔
(6)
عربی میں لفظ حور جمع ہے۔
حوراء اس عورت کو کہتے ہیں جس کی آنکھوں کا سفید حصہ خوب سفید اور سیاہ حصہ خوب سیاہ ہو۔
اہل عرب کے نزدیک یہ چیز خوبی اور حسن میں شامل تھی۔
۔
حدیث میں اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اللہ تعالی نے جنت میں مومنوں کے لیے پیدا کی ہیں۔
جو حسن صورت اور حسن سیرت میں بے مثال ہیں۔
(7)
ساتھی اخلاق و عادات پسند و نا پسند میں جسقدر ہم خیال ہوں اتنا ہی انکی دوستی پختہ اور گہری ہوتی ہے۔
اہل جنت ہم خیال اور ہم ذ ہن ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے بہت محبت رکھیں گے ان میں کوئی اختلاف اور جھگڑا نہیں ہوگا۔
(8)
تمام جنتی پورے قد و کاٹھ کے اور حسین اور جمیل ہوں گے۔
(9)
حضرت آدم علیہ سلام کو پیدا کیا گیا تو ان کا قد موجودہ اندازے سے ساٹھ ہاتھ نوے فٹ تھا۔
جنت میں سبھی لوگ اسی قد کے ہوں گے۔
اس حدیث میں اہل جنت کی دواستعمال کردہ چیزوں کا ذکر ہے: ① کنگھیاں سونے سے بنی ہوں گی، سبحان اللہ، اور جو مرد دنیا میں سونا پہنتا ہے، اس کو جنت میں سونا نہیں ملے گا اور اسی طرح دنیا میں جو مرد سونے کے برتن استعمال نہیں کرے گا، جنت میں اس کو سونے کے برتن دیے جائیں گے۔
② جنت میں عود ہندی کس قد رعمدہ ہو گی اور جنتی اس کی خوشبو حاصل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے مقدر میں جنت الفردوس فرمائے اور یہ نعمتیں جنت میں ہمیں میسر فرمائے، آمین۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنت میں بھی درجے ہوں گے، زیادہ تقویٰ والے کو اچھا درجہ اور کم تقویٰ والے کو کم درجہ ملے گا، چونکہ جنت میں نو جوان لوگ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے بیویوں کا بندوبست فرمایا ہوا ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت کا کم سے کم حسن اور نعمتیں دنیا کے زیادہ سے زیادہ حسن اور نعمتوں سے بڑھ کر ہوں گے۔ دنیا میں ہم زیادہ دیر تک سورج یا چاند کونہیں دیکھ سکتے لیکن جنت میں کسی کا حسن سورج سے بڑھ کر اور کسی کا چاند سے بڑھ کر اور کسی کا ستاروں سے بڑھ کر ہو گا
۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ آنکھوں کو بھی جنت میں اس سے کہیں زیادہ طاقت دے گا کہ وہ سورج، چاند و ستارے جیسے حسن کو تا دیر دیکھتی رہیں۔