صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ آمِينَ. وَالْمَلاَئِكَةُ فِي السَّمَاءِ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ: باب: اس حدیث کے بیان میں کہ جب ایک تمہارا (جہری نماز میں سورۃ فاتحہ کے ختم پر باآواز بلند) آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی آسمان پر (زور سے) آمین کہتے ہیں اور اس طرح دونوں کی زبان سے ایک ساتھ (با آواز بلند) آمین نکلتی ہے تو بندے کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ : لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، هَلْ أَتَى عَلَيْكَ يَوْمٌ كَانَ أَشَدَّ مِنْ يَوْمِ أُحُدٍ ؟ ، قَالَ : " لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ قَوْمِكِ مَا لَقِيتُ وَكَانَ أَشَدَّ مَا لَقِيتُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْعَقَبَةِ إِذْ عَرَضْتُ نَفْسِي عَلَى ابْنِ عَبْدِ يَالِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ فَلَمْ يُجِبْنِي إِلَى مَا أَرَدْتُ فَانْطَلَقْتُ ، وَأَنَا مَهْمُومٌ عَلَى وَجْهِي فَلَمْ أَسْتَفِقْ إِلَّا وَأَنَا بِقَرْنِ الثَّعَالِبِ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا بِسَحَابَةٍ قَدْ أَظَلَّتْنِي فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا فِيهَا جِبْرِيلُ فَنَادَانِي ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ قَدْ سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ لَكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ وَقَدْ بَعَثَ إِلَيْكَ مَلَكَ الْجِبَالِ لِتَأْمُرَهُ بِمَا شِئْتَ فِيهِمْ فَنَادَانِي مَلَكُ الْجِبَالِ فَسَلَّمَ عَلَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ : ذَلِكَ فِيمَا شِئْتَ إِنْ شِئْتَ أَنْ أُطْبِقَ عَلَيْهِمُ الْأَخْشَبَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا " .´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، ان سے ابن شہاب نے کہا ، ان سے عروہ نے کہا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، کیا آپ پر کوئی دن احد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم ( قریش ) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا یہ وہ موقع تھا جب میں نے ( طائف کے سردار ) کنانہ بن عبد یا لیل بن عبد کلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا ۔ لیکن اس نے ( اسلام کو قبول نہیں کیا اور ) میری دعوت کو رد کر دیا ۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا ۔ پھر جب میں قرن الثعالب پہنچا ، تب مجھ کو کچھ ہوش آیا ، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اس میں موجود ہیں ، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا اور جو انہوں نے رد کیا ہے وہ بھی سن چکا ۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے ، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اس کا اسے حکم دے دیں ۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی ، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر انہوں نے بھی وہی بات کہی ، آپ جو چاہیں ( اس کا مجھے حکم فرمائیں ) اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں ( جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت امام بخاری ؒ نے اس حدیث کو لاکر اس سے بھی فرشتوں کا وجود ثابت فرمایا۔
اخشبین سے مراد مکہ کے دو مشہور پہاڑ جبل ابوتبیس اور جبل قعیقعان مراد ہیں۔
لفظ عقبہ جو روایت میں آیاہے یہ طائف کی طرف ایک گھاٹی کا نام ہے۔
طائف کی طرف آپ ﷺ شوال10نبوی میں تشریف لے گئے تھے۔
پہلے وہاں کے لوگوں نے خود آپ کو بلا بھیجا تھا بعد میں وہ مخالف ہوگئے اور انہوں نے آپ ﷺ پر پتھر مارے، ایک پتھر آپ کی ایڑی میں لگا اور آپ زخمی ہوگئے۔
اس قدر ستانے کے باوجود آپ ﷺ نے ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔
صلی اللہ علیه وسلم
1۔
یہ واقعہ نبوت کے دسویں سال پیش آیا جب حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ اور جناب ابوطالب فوت ہوچکے تھے اور کفار کی ایذا رسانی میں شدت آگئی تھی۔
آپ اس امید پر طائف تشریف لے گئے کہ وہاں کچھ سہارا ملے گا۔
آپ وہاں قبیلہ ثقیف کے تین سرداروں کے پاس گئے اور اپنی قوم کے مظالم کی ان سے شکایت کی تو انھوں نے آپ کی مدد کرنے کی بجائے آپ سے سخت رویہ اختیار کیا جس سے آپ کو شدید دھچکا لگا۔
آپ وہاں دس روز ٹھہرے۔
2۔
عقبہ، منی کے میدان میں ایک وادی کا نام ہے۔
اسی طرح قرن ثعالب بھی مکہ سے دوسراحل پر واقع ہے۔
طائف میں سرداروں نے آپ سے بدتمیزی کی اور اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگادیا۔
انھوں نے آپ کو پتھر مارے۔
ایک پتھر آپ کی ایڑی پر لگا جس سے آپ زخمی ہوگئے۔
اس قدر ستائے جانے کے باوجود آپ نے ان کے لیے دعائے خیر کی جو اللہ تعالیٰ کے ہوں قبول ہوئی۔
3۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے فرشتوں کا وجود اور ان کی کارکردگی ثابت کی ہے۔
1۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث انتہائی اختصار کے ساتھ بیان کی ہے: اس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا احد کے دن سے زیادہ گراں اور تکلیف دہ دن بھی کبھی آپ پر آیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔
’’ہاں تمھاری قوم سے مجھے جن مصائب کا سامنا کرنا پڑا ان میں سب سے سنگین مصیبت اور شدید تکلیف دہ تھی جو مجھے عقبہ کے دن پہنچی۔
جب میں نےاپنے آپ کو عبد یالیل بن عبد کلال کے صاحبزادے پر پیش کیا مگر اس نے میری بات قبول نہ کی اس غم والم سے نڈھال اپنے رخ پر چل پڑا۔
مجھے قرن ثعالب پہنچ کر کچھ افاقہ ہوا۔
وہاں میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ کیے ہوئے ہے۔
میں نے بغور دیکھا تو اس میں حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے انھوں نے مجھے آواز دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کا کلام اور ان کا جواب سن لیا ہے۔
اب اس نے آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے تاکہ آپ ان کے متعلق اسے جو حکم دیں اس کی تعمیل ہو گی۔
اس کے بعد پہاڑوں کےفرشتے نے آواز دی اور سلام کرنے کے بعد کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! بات یہی ہے۔
اب آپ جو چاہیں میں کرنے کے لیے حاضر ہوں۔
اگر آپ چاہیں تو میں انھیں دو پہاڑوں کے درمیان کچل دوں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہیں! مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی کوشریک نہیں ٹھہرائے گی۔
‘‘ (صحیح البخاري، بدء الخلق: حدیث: 3231)
2۔
اس حدیث میں واضح طور پر اس اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور انھیں دیکھتا ہے۔
اس پر کوئی چیز مخفی نہیں سمع اور بصر اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات ہیں جس کے متعلق ہم ابھی بیان کر آئے ہیں۔
جو شخص ان صفات کا انکار کرتا ہے ا سے ان سے آگاہ کیا جائے۔
اور دلائل و براہین سے اسے قائل کیا جائے اگر وہ اپنے انکار پر جما رہے اور حق کی وضاحت کے باوجود اسے قبول نہ کرے تو اس کے کفر میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ اس نے ایک ایسی چیز کا انکار کیا ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام کے اجماع سے ثابت ہے۔
(شرح کتاب التوحید للغنیمان: 199/1)
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے کرمانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان احادیث سے اللہ تعالیٰ کی دو ذاتی صفات سمع اور بصر کا ثبوت ملتا ہے۔
جب کوئی سنائی اور دیکھائی دینے والی چیز وجود میں آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذاتی قدیم صفات کا تعلق ان سے قائم ہو جاتا ہے جبکہ معتزلہ ان صفات کو حادث کہتے ہیں قرآنی آیات اور احادیث ان کے موقف کی تردید کرتی ہیں۔
بہر حال اس سلسلے میں اسلاف کا موقف ہی صحیح اوردرست ہے۔
واللہ المستعان۔
(فتح الباري: 459/13)
(1)
يوم العقبة: اس سے مراد عقبۂ طائف ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور ابو طالب کی وفات کے بعد دس (10)
نبوت، شوال میں، بنو ثقیف کے سرداروں کو اسلام کی دعوت دینے طائف گئے، لیکن انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدترین سلوک کیا، اوباش لوگ آپ کے پیچھے لگا دئیے۔
(2)
فلم استفق: میں اپنے آپ میں نہیں آیا، مجھے افاقہ نہیں ہوا۔
(3)
قَرنِ الثَّعَالِب: یہی قرن منازل ہے، جو اہل نجد کا میقات ہے اور مکہ سے ایک دن رات کے فاصلہ پر ہے۔
(4)
أُطْبِقُ عَلَيْهِم الأَخْشَبَين: اخشبان سے مراد شارحین نے مکہ کے دو پہاڑ ابوقبيس، قعيقحان لیے ہیں، جو مکہ کے شمال و جنوب میں واقع ہیں اور اس وقت مکہ کی آبادی ان دونوں کے درمیان واقع تھی، لیکن سوال یہ ہے کہ سنگین ترین سلوک جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل طائف نے کیا اور انہیں کے اس بدترین سلوک کے بعد پہاڑوں کا فرشتہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ اگر آپ یہ چاہیں کہ میں ان کو دو پہاڑوں میں پیس کر رکھ دوں تو میں آپ کی خواہش کے مطابق ان کو پیس کر رکھ دوں گا تو پھر اہل مکہ کو مراد لینا کیوں کر درست ہو سکتا ہے، اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ اخشبان مکہ کے دو پہاڑوں کو ان کی مضبوطی اور صلابت کی وجہ سے کہا گیا ہے، اس لیے مراد یہ ہے کہ مکہ کے ان مضبوط و مستحکم پہاڑوں جیسے پہاڑوں میں، اہل طائف کو پیس کر رکھ دوں یا مکہ کے ان دو پہاڑوں کو وہاں لے جا کر ان میں پیس دوں، کیونکہ پہاڑوں کے فرشتہ کے لیے ان پہاڑوں کا وہاں لے جانا مشکل نہ تھا یا پھر یہ مراد لیا جائے کہ بنو ثقیف نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بدسلوکی صرف اس لیے کیا کہ آپ کی قوم اہل مکہ نے آپ کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا، اگر وہ قبول کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مصائب سے دوچار نہ ہونا پڑتا، اس لیے اس کا اصل سبب وہ تھے، اس لیے فرشتہ نے کہا کہ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو میں اہل مکہ کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس ڈالوں۔
‘‘