صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ ذِكْرِ الْمَلاَئِكَةِ: باب: فرشتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِي جِبْرِيلُ : " مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، أَوْ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ " .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے ، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جبرائیل علیہ السلام کہہ گئے ہیں کہ تمہاری امت کا جو آدمی اس حالت میں مرے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا ہو گا ، تو وہ جنت میں داخل ہو گا یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) جہنم میں داخل نہیں ہو گا ۔ خواہ اس نے اپنی زندگی میں زنا کیا ہو ، خواہ چوری کی ہو ، اور خواہ زنا اور چوری کرتا ہو ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
بشرطیکہ وہ دنیا میں کبھی شرک کے مرتکب نہ ہوئے ہوں کیوں کہ مشرک کے لیے اللہ نے جنت کو قطعاً حرام کردیا ہے۔
وہ نام نہاد مسلمان غور کریں جو بزرگوں کے مزارات پر جاکر شرکیہ افعال کا ارتکاب کرتے ہیں، قبروں پر سجدہ اور طواف کرتے ہیں۔
ان کے مشرک ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، ایسے لوگ ہرگز جنت میں نہ جائیں گے خواہ کتنے ہی نیک کام کرتے ہوں، اللہ نے اپنے نبی کریم ﷺ کے بارے میں خود فرمادیا ہے۔
﴿لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ (الزمر: 65)
”اے رسول! اگر آپ بھی شرک کربیٹھیں تو آپ کی ساری نیکیاں برباد ہوجائیں گی اور آپ خسارہ پانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
“ کرمانی نے کہا کہ روایت میں ایسے گنہگاروں کے دوزخ میں نہ داخل ہونے سے مراد ان کا ہمیشگی کا دخول مراد ہے۔
ویجب التأویل بمثله جمعابین الآیات و الأحادیث۔
(کرمانی)
1۔
مشرک کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت حرام کردی ہے۔
اس کے برعکس جس شخص نے شرک کا ارتکاب نہ کیا ہو وہ بہرحال جنت میں ضرورجائے گا، خواہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرکے پہلے ہی مرحلے میں اسے جنت میں داخل کردے یا وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کربالآخر جنت میں پہنچ جائے۔
بہرحال ایسا شخص جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا۔
2۔
امام بخاری ؒنے اس حدیث سے حضرت جبریل ؑ کے وجود کو ثابت کیا ہے اور ان کی کارکردگی بیان کی ہے۔
واللہ أعلم۔
چاہے سزا کے بعد ہی ہو کیونکہ اصل بنیاد نجات کلمہ لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنا اوراس کے مطابق عمل وعقیدہ درست کرنا ہے۔
محض طوطے کی طرح کلمہ پڑھ لینا بھی کافی نہیں ہے۔
(1)
محض طوطے کی طرح لا إله إلا اللہ پڑھ لینا کافی نہیں جب تک دل و جان سے لا إله إلا اللہ نہ پڑھے اور اس کے مطابق اپنے عقیدہ و عمل کو درست نہ کرے نجات نہیں ہو گی۔
(2)
چونکہ اس حدیث میں سفید کپڑوں کے زیب تن کرنے کا ذکر ہے، اس لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے ثابت کیا ہے کہ سفید لباس کا استعمال مشروع ہے بلکہ دیگر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید لباس کی ترغیب بھی دی ہے، چنانچہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سفید لباس پہنا کرو، وہ زیادہ پاک اور زیادہ عمدہ ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3567)
سفید رنگ افضل ہے، اس لیے اہم مواقع پر اسے پہننا بہتر ہے۔
سفید لباس خوبصورت بھی ہوتا ہے اور باوقار بھی۔
اس میں میل کچیل کا جلدی پتا چل جاتا ہے، اس لیے اسے جلدی دھو لیا جاتا ہے اور زیادہ توجہ سے دھویا جاتا ہے، اس بنا پر وہ زیادہ پاک اور صاف ستھرا رہتا ہے۔
واللہ أعلم
ایک توحضرت جبریل ؑ اس وقت اترتے تھے جب اللہ کا حکم ہوتا اس لیے یہ بشارت جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کو دی بامرالہی تھی گویا اللہ نے حضرت جبریل سے فرمایا کہ جا کر حضرت محمدﷺ کو بشارت دے دو پس باب کی مطابقت حاصل ہوگئی۔
فرشتوں کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہم تیرے رب کے حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتے۔
‘‘ (مریم 64)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام اس وقت اترتے تھے جب انھیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا، اس بنا پر حدیث میں مذکورہ بشارت بامرالٰہی تھی۔
گویا اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا کہ جاؤ اور میرے پیغمبر کو بشارت دے دو۔
اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ہم کلام ہو کر یہ پیغام دیا اور پیغام ہمیشہ کلام سے دیا جاتا ہے اور اس میں ندا بھی داخل ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ موحد اگرچہ گناہ گار ہو آخر کار جنت کا حق دار ہوگا، خواہ اللہ تعالیٰ اسے گناہوں کی سزا دے یا معاف کر دے۔
: عَلَى رَغْمِ أَنْف: رَغِمَ، رَغَام: (مٹی، خاک)
سے ماخوذ ہے، جس کا ظاہری معنی ہے اس کی ناک خاک آلود ہو، وہ ذلت و رسوائی سے دوچار ہو، لیکن یہ عربی محاورہ ہے جس سے بد دعا دینا مقصود نہیں ہوتا، صرف یہ مقصد ہوتا ہے کہ اس کی خواہش کے برعکس یہ کام ہو کر رہے گا۔
فوائد ومسائل:
(1)
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، توحید سے کنایہ ہے اور توحید جیسا کہ ہم بیان کر آئےہیں پورے دین کا عنوان ہے۔
یعنی دین اسلام پر ایمان لانا اور اس کی پابندی کرنا، ظاہر ہے جو انسان دین کامل کی پابندی کرے گا، اس کےکسی حکم کی مخالفت نہیں کرے گا تو وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔
اگر اس نے توحید کے اقرار کے باوجود گناہ بھی کیے ہوں گے تو اگر وہ اپنے دوسرے اعمال حسنہ کی بنا پر معافی کا مستحق ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرکے بغیر کسی عذاب کے اس کو جنت میں داخل کردے گا، اور اگر وہ معافی کا حقدار نہیں ہوگا تو گناہوں کی سزا پانے کے بعد جنت میں جا سکے گا اور اس کی وجہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔
(1/40/150/92) (2)
حضرت ابو ذرؓ نے اپنا سوال بار بار دہرایا، کیونکہ وہ زنا اور چوری کو انتہائی ناپاک گناہ تصور کرتے تھے، اس وجہ سے انہیں تعجب ہوا کہ ایسے نازیبا اور گندے گناہ کرنے والے بھی جنت میں جاسکیں گے۔
(3)
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ آگ میں نہیں رہے گا جیسا کہ خوارج اور معتزلہ کا نظریہ ہے۔
لیکن اس سے یہ بات کشید کرنا کہ جنت میں داخلہ کے لیے محض لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار ہی کافی ہے، نیک اعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ بد اعمالیوں کا کوئی نقصان ہے جیسا کہ مرجئہ کا نظریہ ہے درست نہیں ہے۔
قرآن وسنت کی نصوص کے معنی کی تشریح وتوضیح کے لیے ضروری ہے کہ اس موضوع کے بارے میں جتنی نصوص موجود ہوں، سب کوپیش نظر رکھاجائے، وگرنہ نصوص میں تعارض پیدا ہوگا اور ان کا صحیح معنی بھی سمجھ میں نہیں آئے گا، اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ خوارج ومعتزلہ نے ایک قسم کی نصوص کو لے کر (جن کا تعلق ترہیب وتخویف سے تھا)
کبیرہ گناہ کے مرتکب کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے دوزخی قرار دیا، اور مرجیہ نے دوسری قسم کی نصوص کر لے کر (جن کا تعلق ترغیب وتشویق اور بشارت سے تھا)
گناہوں کو بے حیثیت قرار دیا اور کہا محض لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہہ دینا جنت کے داخلہ کےلیے کافی ہے اسی طرح دونوں گروہ حق وصواب کی راہ سے دور ہٹ گئے، اہل سنت نے دونوں قسم کی نصوص کو جمع کیا، جس سے تضاد بھی ختم ہوا اور راہ حق وصواب بھی مل گئی۔
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مر گیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا “، میں نے کہا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ نے فرمایا: ” ہاں “، (اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو) ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2644]
وضاحت:
1؎:
اس کی صورت یہ ہوگی کہ وہ زنا اورچوری کی اپنی سزا کاٹ کر اپنے موحد ہونے کے صلہ میں لامحالہ جنت میں جائے گا، یا ممکن ہے رب العالمین اپنی رحمت سے اسے معاف کر دے۔
«. . . وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ وَهُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدِ اسْتَيْقَظَ فَقَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ وَكَانَ أَبُو ذَرٍّ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا قَالَ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَر» . . .»
”. . . سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر سفید کپڑا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے۔ (میں سوتا ہوا دیکھ کر واپس چلا گیا) پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے لا الہ الا اللہ کہا یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور پھر وہ اسی عقیدے پر مر گیا تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔“ میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اس نے چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اگرچہ اس نے زنا کیا اگرچہ اس نے چوری کی ہو۔“ پھر میں نے عرض کیا اگرچہ زنا کیا اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی ہو۔“ پھر میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی ہو۔ “ پھر میں نے عرض کیا: اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو، ابوذر کی ناک پر مٹی ہو۔ “ (یعنی اگرچہ تمہیں ناگوار اور برا معلوم ہو مگر ایسا شخص صرف بخشا جائے گا۔) ابوذر رضی اللہ عنہ جب یہ حدیث بیان کرتے تو «وان رغم انف ابي ذر» کہتے اگرچہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ: 26]
[صحیح بخاری 5827]، [صحیح مسلم 272،273]
فقہ الحدیث
➊ معلوم ہوا کہ گناہ گار مؤمن آخر کار رب کریم کی مغفرت سے ضرور جنت میں جائے گا۔ جنت جانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ گناہ کا کوئی نقصان نہیں ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے تو گناہ معاف فرما دے اور اگر چاہے تو سزا دینے کے بعد جنت میں داخل کر دے، لہٰذا گناہ گار ابدی جہنمی نہیں ہے۔
➋ یہ حدیث خوارج و معتزلہ کا رد ہے، کیونکہ وہ زنا اور چوری کرنے والے کو ابدی جہنمی سمجھتے ہیں۔
➌ ایک حدیث میں آیا ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زانی زنا کرتا ہے تو وہ (اس وقت) مومن نہیں ہوتا، اور جب چوری کرتا ہے تو (اس وقت) وہ مومن نہیں ہوتا۔“ الخ [صحيح البخاري: 2475، صحيح مسلم: 57/10، واضواءالمصابيح: 53]
لہٰذا ہر مومن پر لازم ہے کہ تمام کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے ہمیشہ اجتناب کرے۔
➍ تصدیق کے لئے بات دہرانا جائز ہے۔