صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ ذِكْرِ الْمَلاَئِكَةِ: باب: فرشتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ ، فَتَسْمَعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الْكُهَّانِ فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ " .´ہم سے محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں لیث نے خبر دی ، ان سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” فرشتے «عنان» میں اترتے ہیں ۔ اور «عنان» سے مراد بادل ہیں ۔ یہاں فرشتے ان کاموں کا ذکر کرتے ہیں جن کا فیصلہ آسمان میں ہو چکا ہوتا ہے ۔ اور یہیں سے شیاطین کچھ چوری چھپے باتیں اڑا لیتے ہیں ۔ پھر کاہنوں کو اس کی خبر کر دیتے ہیں اور یہ کاہن سو جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اسے بیان کرتے ہیں ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
کاہن وہ ہوتا ہے جو کائنات کے اسرار و رموز کا دعویٰ کرے اور مستقبل کی خبریں دے۔
جب سے رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے ہیں آسمانوں پر سخت پہرا بٹھا دیاگیا ہے۔
اس بنا پر کہانت باطل ہے۔
2۔
اس حدیث میں ان فنکاروں کی شعبدہ بازی سے پردہ اٹھاگیا گیا ہے جوآئے روز ضعیف الاعتقاد لوگوں کی گمراہی کا باعث بنتے ہیں، نیز اس میں قضا و قدر کے فرشتوں کا ذکر ہے جو کائنات میں اوامر الٰہیہ کو نافذ کرنے کے لیے زمین پر اترتے ہیں۔
اس سے صرف فرشتوں کا وجود ثابت کرنا مقصود ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاہنوں کے متعلق فرمایا: وہ کچھ بھی نہیں ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی باتیں قابل اعتماد نہیں ہیں جیسا کہ ہم کسی بدکردار شخص کو کہتے ہیں کہ وہ انسان نہیں ہے۔
اس کے انسان ہونے کی نفی سے مراد ذات کی نفی نہیں بلکہ کردار کی نفی ہے، یعنی اس میں انسانیت نہیں ہے۔
اسی طرح ہم اس شخص کو کہتے ہیں جس نے مضبوط کام نہ کیا ہو، تو نے کچھ نہیں کیا، حالانکہ اس نے کچھ نہ کچھ تو کیا ہوتا ہے۔
کام کی نفی سے مراد قابل اعتماد اور مضبوط کام کی نفی ہے۔
واللہ أعلم
پہلے شیاطین آسمان پر جا کر فرشتوں کی بات اڑا لیتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد کہانت کی یہ قسم موقوف ہو گئی۔
اب آسمان پر اتنا شدید پہرہ ہے کہ شیطان وہاں پھٹکنے نہیں پاتے۔
اب ایسے کاہن بھی موجود نہیں جو شیطان سے اس قسم کا تعلق رکھتے ہوں کہ وہ انہیں غیب کی خبریں بتائیں۔
اس دور کے نجومی اور کاہن محض اٹکل اور اندازے سے بات کرتے ہیں۔
اگر ان کی کوئی بات اتفاق سے صحیح نکل آئے تو اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے بلکہ اس کی پرزور تردید کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام الناس ان کے جال میں نہ پھنسیں اور غلط عقائد کا شکار نہ ہوں، ان کے علم کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی بلکہ یہ لوگ گندے اور پلید رہنے کی وجہ سے جہالت میں غرق رہتے ہیں۔
واللہ اعلم
1۔
کاہن زمانہ مستقبل کی خبریں دینے کا دعوی کرتے ہیں اور غیب جاننے کے مدعی ہوتے ہیں حدیث میں اس کی نفی مقصود ہے۔
اس حدیث کی عنوان سے مناسبت اس طرح ہے کہ کاہن کبھی شیطان نے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا کلام اڑا لیتا ہے لیکن اس کا بیان کرنا یعنی اسے تلاوت کرنا منافق کی طرح بہت برا ہے۔
اسی طرح شیاطین جب اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر کاہن کے کان میں ڈالتے ہیں تو ان کا کردار انتہائی گھناؤنا ہوتا ہے جبکہ فرشتوں کی تلاوت بہت اچھی اور قابل تعریف ہے اس سے معلوم ہوا کہ تلاوت بندوں کا فعل ہے اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور تلاوت قرآن سے مختلف ہے۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ منافق کی تلاوت بھی مومن کی تلاوت کی طرح ہے لیکن نتائج کے اعتبار سے دونوں میں بہت فرق ہے حالانکہ متلو یعنی قرآن کریم تو ایک ہے۔
اگر تلاوت اور متلو، یعنی قرآن پاک ایک ہوتا تو اس قدر فرق نہ ہوتا۔
اسی طرح کاہن کا معاملہ ہے کہ شیاطین فرشتے سے اللہ تعالیٰ کا کلام چھین کر اسے سناتے ہیں اب فرشتے کے پڑھنے میں بہت فرق ہے اس اعتبار سے بھی تلاوت اور قرآن دو مختلف حقیقتیں ہیں۔
(فتح الباري: 668/13، 669)
ہم اس بات کو ذرا آگے بڑھاتے ہیں کہ مذکورہ فرق اس امر کی دلیل ہے کہ تلاوت کرنا ان کا ایک عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔