صحيح البخاري
كتاب بدء الخلق— کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی
بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ: باب: سات زمینوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3196
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ " .مولانا داود راز
´ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے ، انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس نے کسی کی زمین میں سے کچھ ناحق لے لیا تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
3196. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص کسی دوسرے کی تھوڑی سی بھی زمین ناحق لے لے تو وہ قیامت کے دن سات زمینوں میں دھنستا چلا جائے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3196]
حدیث حاشیہ: ان احادیث سے سات زمینوں کا ثبوت حاصل ہوا۔
جس سے ظاہر ہوا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں آسمانوں اور زمینوں کا سات سات ہونا ایک اٹل حقیقت ہے۔
جس سے ظاہر ہوا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں آسمانوں اور زمینوں کا سات سات ہونا ایک اٹل حقیقت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3196 سے ماخوذ ہے۔