صحيح البخاري
کتاب الجزیہ والموادعہ— کتاب: جزیہ وغیرہ کے بیان میں
بَابُ إِثْمِ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ: باب: دغا بازی کرنے والے پر گناہ خواہ وہ کسی نیک آدمی کے ساتھ ہو یا بےعمل کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 3186
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : أَحَدُهُمَا يُنْصَبُ ، وَقَالَ : الْآخَرُ يُرَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ " .مولانا داود راز
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اور ثابت نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا ہو گا ، ان میں سے ایک صاحب نے بیان کیا کہ وہ جھنڈا ( اس کے پیچھے ) گاڑ دیا جائے گا اور دوسرے صاحب نے بیان کیا کہ اسے قیامت کے دن سب دیکھیں گے ، اس کے ذریعہ اسے پہچانا جائے گا ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
3186. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور حضر ت انس ؓ سے روایت ہے، وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن ہر غدار کے لیے ایک جھنڈا ہوگا۔‘‘ ان راویوں میں سے ایک کا بیان ہے: ’’وہ جھنڈا نصب کیا جائے گا۔‘‘ اور دوسرے کا بیان ہے: ’’وہ قیامت کے دن دکھایا جائے گا جس سے دغا باز کی شناخت ہوگی۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3186]
حدیث حاشیہ: ایک روایت میں ہے کہ یہ جھنڈا اس کی مقعد پر لگایا جائے گا۔
غرض یہ ہے کہ اس کی دغابازی سے تمام اہل محشر مطلع ہوں گے۔
اور نفرین کریں گے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو ایسی بری عادتوں سے بچائے۔
آمین۔
غرض یہ ہے کہ اس کی دغابازی سے تمام اہل محشر مطلع ہوں گے۔
اور نفرین کریں گے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو ایسی بری عادتوں سے بچائے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3186 سے ماخوذ ہے۔