حدیث نمبر: 3074
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، يُقَالُ لَهُ : كِرْكِرَةُ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ فِي النَّارِ فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ ابْنُ سَلَامٍ كَرْكَرَةُ : يَعْنِي بِفَتْحِ الْكَافِ وَهُوَ مَضْبُوطٌ كَذَا .
مولانا داود راز

´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے ‘ ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان و اسباب پر ایک صاحب مقرر تھے ‘ جن کا نام کرکرہ تھا ۔ ان کا انتقال ہو گیا ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو جہنم میں گیا ۔ صحابہ انہیں دیکھنے گئے تو ایک عباء جسے خیانت کر کے انہوں نے چھپا لیا تھا ان کے یہاں ملی ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ محمد بن سلام نے ( ابن عیینہ سے نقل کیا اور ) کہا یہ لفظ «كركرة» بفتح کاف ہے اور اسی طرح منقول ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 3074
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2849

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
3074. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے سامان پر ایک شخص تعینات تھا جسے کرکره کہاجاتا تھا۔ جب وہ مرگیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’وہ تو جہنم میں گیا۔‘‘ جب صحابہ ؓنے اس کا سامان وغیرہ دیکھنا شروع کیا تو اس میں ایک کوٹ ملا جسے خیانت کرکے اس نے چھپا لیا تھا۔ ابو عبداللہ(امام بخاری ؒ) کہتے ہیں کہ محمد بن سلام نے کرکرہ کو کاف کے فتحہ (زبر) سے بیان کیا ہے اور اسی طرح مضبوط ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3074]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ مال غنیمت میں سے ذرا سی چیز کی چوری بھی حرام ہے جس کی سزا یقیناً دوزخ ہو گی۔
اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوا جو کہتے ہیں کہ مومن گناہوں کی وجہ سے دوزخ نہیں جائے گا۔
قرآن پاک نے صاف اعلان کیا ہے۔
﴿وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ﴾ (آل عمران: 161)
خیانت کرنے والا خیانت کی چیز کو اپنے سر پر اٹھائے قیامت کے دن حاضر ہو گا۔
یہ وہ جرم ہے کہ اگر کسی مجاہد سے بھی سرزد ہو تو اس کا عمل جہاد اس سے باطل ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث ہذا سے ظاہر ہوا۔
وفي الحدیث تحریم قلیل الغلول وکثیرة وقوله هو في النار أي یعذب علی معصیة أو المراد هو في النار إن لم یعف اللہ عنه۔
(فتح)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3074 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3074. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے سامان پر ایک شخص تعینات تھا جسے کرکره کہاجاتا تھا۔ جب وہ مرگیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’وہ تو جہنم میں گیا۔‘‘ جب صحابہ ؓنے اس کا سامان وغیرہ دیکھنا شروع کیا تو اس میں ایک کوٹ ملا جسے خیانت کرکے اس نے چھپا لیا تھا۔ ابو عبداللہ(امام بخاری ؒ) کہتے ہیں کہ محمد بن سلام نے کرکرہ کو کاف کے فتحہ (زبر) سے بیان کیا ہے اور اسی طرح مضبوط ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3074]
حدیث حاشیہ:

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مال غنیمت میں سے چوری کرنے والے کا سامان واسباب جلادینا چاہیے جیسا کہ ابوداؤد ؒ کی ایک روایت میں ہے۔
(سنن أبي داود، الجھاد، حدیث: 2713)
لیکن امام بخاری ؒ کا موقف ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؒ نے اس سلسلے میں جو روایت رسول اللہ ﷺ سے نقل کی ہے اس میں سامان کو جلادینے کا ذکر نہیں ہے۔
اس بناپر صحیح تر یہی ہے کہ خیانت کرنے والے کا سامان جلانا جائز نہیں بلکہ اس روایت کے مطابق چوری کرنے والا خود آگ میں جلے گا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال غنیمت میں معمولی سی چوری بھی حرام ہے جس کی سزا یقیناً جہنم ہے۔
یہ وہ جرم ہے کہ اگر کسی مجاہد سے بھی سرزد ہوتو اس کا عمل جہاد باطل ہوجاتاہے۔
بہرحال خیانت تھوڑی ہو یا زیادہ جرم میں سب برابر ہیں۔
قیامت کے دن بھرے مجمع میں اس طرح کے خیانت پیشہ لوگوں کو برسرعام ذلیل وخوار کیاجائے گا۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3074 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2849 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مال غنیمت میں خیانت اور چوری کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی نگہبانی پر کرکرہ نامی ایک شخص تھا، اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہے ، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2849]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مال غنیمت میں خیانت بہت بڑا جرم ہے۔

(2)
چرائی ہوئی چیز معمولی ہو تو بھی جرم کی شناعت میں فرق نہیں پڑتا۔

(3)
اس حدیث سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ مومن جہنم میں نہیں جا سکتا۔
کتاب وسنت کے دلائل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے گناہ کی وجہ سے ایک گناہ گار مومن شخص بھی جہنم کا مستحق ہو سکتا ہے، تاہم جہنم کا دائمی عذاب صرف کافروں اور مشرکوں کے لیے ہے۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2849 سے ماخوذ ہے۔