صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الْغُلُولِ: باب: مال غنیمت میں سے ذرا سی چوری کر لینا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، يُقَالُ لَهُ : كِرْكِرَةُ فَمَاتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ فِي النَّارِ فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قَدْ غَلَّهَا " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ ابْنُ سَلَامٍ كَرْكَرَةُ : يَعْنِي بِفَتْحِ الْكَافِ وَهُوَ مَضْبُوطٌ كَذَا .´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے ‘ ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان و اسباب پر ایک صاحب مقرر تھے ‘ جن کا نام کرکرہ تھا ۔ ان کا انتقال ہو گیا ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تو جہنم میں گیا ۔ صحابہ انہیں دیکھنے گئے تو ایک عباء جسے خیانت کر کے انہوں نے چھپا لیا تھا ان کے یہاں ملی ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ محمد بن سلام نے ( ابن عیینہ سے نقل کیا اور ) کہا یہ لفظ «كركرة» بفتح کاف ہے اور اسی طرح منقول ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوا جو کہتے ہیں کہ مومن گناہوں کی وجہ سے دوزخ نہیں جائے گا۔
قرآن پاک نے صاف اعلان کیا ہے۔
﴿وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ﴾ (آل عمران: 161)
خیانت کرنے والا خیانت کی چیز کو اپنے سر پر اٹھائے قیامت کے دن حاضر ہو گا۔
یہ وہ جرم ہے کہ اگر کسی مجاہد سے بھی سرزد ہو تو اس کا عمل جہاد اس سے باطل ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث ہذا سے ظاہر ہوا۔
وفي الحدیث تحریم قلیل الغلول وکثیرة وقوله هو في النار أي یعذب علی معصیة أو المراد هو في النار إن لم یعف اللہ عنه۔
(فتح)
1۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مال غنیمت میں سے چوری کرنے والے کا سامان واسباب جلادینا چاہیے جیسا کہ ابوداؤد ؒ کی ایک روایت میں ہے۔
(سنن أبي داود، الجھاد، حدیث: 2713)
لیکن امام بخاری ؒ کا موقف ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؒ نے اس سلسلے میں جو روایت رسول اللہ ﷺ سے نقل کی ہے اس میں سامان کو جلادینے کا ذکر نہیں ہے۔
اس بناپر صحیح تر یہی ہے کہ خیانت کرنے والے کا سامان جلانا جائز نہیں بلکہ اس روایت کے مطابق چوری کرنے والا خود آگ میں جلے گا۔
2۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال غنیمت میں معمولی سی چوری بھی حرام ہے جس کی سزا یقیناً جہنم ہے۔
یہ وہ جرم ہے کہ اگر کسی مجاہد سے بھی سرزد ہوتو اس کا عمل جہاد باطل ہوجاتاہے۔
بہرحال خیانت تھوڑی ہو یا زیادہ جرم میں سب برابر ہیں۔
قیامت کے دن بھرے مجمع میں اس طرح کے خیانت پیشہ لوگوں کو برسرعام ذلیل وخوار کیاجائے گا۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی نگہبانی پر کرکرہ نامی ایک شخص تھا، اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ جہنم میں ہے “، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2849]
فوائد و مسائل:
(1)
مال غنیمت میں خیانت بہت بڑا جرم ہے۔
(2)
چرائی ہوئی چیز معمولی ہو تو بھی جرم کی شناعت میں فرق نہیں پڑتا۔
(3)
اس حدیث سے ان لوگوں کا بھی رد ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ مومن جہنم میں نہیں جا سکتا۔
کتاب وسنت کے دلائل پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے گناہ کی وجہ سے ایک گناہ گار مومن شخص بھی جہنم کا مستحق ہو سکتا ہے، تاہم جہنم کا دائمی عذاب صرف کافروں اور مشرکوں کے لیے ہے۔
واللہ اعلم