صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ إِذَا غَنِمَ الْمُشْرِكُونَ مَالَ الْمُسْلِمِ ثُمَّ وَجَدَهُ الْمُسْلِمُ: باب: کسی مسلمان کا مال مشرکین لوٹ کر لے جائیں پھر (مسلمانوں کے غلبہ کے بعد) وہ مال اس مسلمان کو مل گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ : أَنَّ " عَبْدًا لِابْنِ عُمَرَ أَبَقَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَرَدَّهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَّ فَرَسًا لِابْنِ عُمَرَ عَارَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِ ، فَرَدُّوهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : عَارَ مُشْتَقٌّ مِنَ الْعَيْرِ وَهُوَ حِمَارُ وَحْشٍ أَيْ هَرَبَ .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے خبر دی کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک غلام بھاگ کر روم کے کافروں میں مل گیا تھا ۔ پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ( اسلامی لشکر نے ) اس پر فتح پائی اور خالد رضی اللہ عنہ نے وہ غلام انکو واپس کر دیا ۔ اور یہ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گھوڑا بھاگ کر روم پہنچ گیا تھا ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو جب روم پر فتح ہوئی ‘ تو انہوں نے یہ گھوڑا بھی عبداللہ کو واپس کر دیا تھا ۔