حدیث نمبر: 3060
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ فَكَتَبْنَا لَهُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةِ رَجُلٍ فَقُلْنَا نَخَافُ وَنَحْنُ أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا ابْتُلِينَا حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُصَلِّي وَحْدَهُ وَهُوَ خَائِفٌ " ، حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ فَوَجَدْنَاهُمْ خَمْسَ مِائَةٍ ، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : مَا بَيْنَ سِتِّ مِائَةٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ ۔ “ چنانچہ ہم نے ڈیڑھ ہزار مردوں کے نام لکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ہماری تعداد ڈیڑھ ہزار ہو گئی ہے ۔ اب ہم کو کیا ڈر ہے ۔ لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ) ہم فتنوں میں اس طرح گھر گئے کہ اب مسلمان تنہا نماز پڑھتے ہوئے بھی ڈرنے لگا ہے ۔ ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے اور ان سے اعمش نے ( مذکورہ بالا سند کے ساتھ ) کہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی ( ہزار کا ذکر اس روایت میں نہیں ہوا ) اور ابومعاویہ نے ( اپنی روایت میں ) یوں بیان کیا ‘ کہ چھ سو سے سات سو تک ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 3060
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 149 | سنن ابن ماجه: 4029

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عمران ایوب لاہوری
´خلیفہ اسلام کی طرف سے مردم شماری کرانا`
«. . . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْتُبُوا لِي مَنْ تَلَفَّظَ بِالْإِسْلَامِ مِنَ النَّاسِ . . .»
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ اسلام کا کلمہ پڑھ چکے ہیں ان کے نام لکھ کر میرے پاس لاؤ . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 3060]
فہم الحدیث:
حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ عہد نبوی میں تو ہم ڈیڑھ ہزار ہونے پر بے خوف ہو گئے تھے اور اب ہزاروں لاکھوں ہونے کے باوجود حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں۔ کچھ تو ڈر کے مارے نماز بھی گھر میں ہی پڑھ لیتے ہیں۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اس وقت کہی جب ولید بن عقبہ، عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کا حاکم تھا اور نمازیں اتنی دیر سے پڑھتا کہ معاذ اللہ۔ آخر بعض متقی لوگ اول وقت نماز پڑھ لیتے اور پھر اس کے ڈر سے جماعت میں بھی شریک ہو جاتے۔ [ماخوذ از شرح بخاري، مولانا داود راز تحت الحديث 3060]
درج بالا اقتباس جواہر الایمان شرح الولووالمرجان، حدیث/صفحہ نمبر: 90 سے ماخوذ ہے۔

✍️ مولانا داود راز
3060. حضرت حذیفہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جتنے لوگ بھی کلمہ اسلام پڑھتے ہیں ان کی مردم شماری کر کے میرے سامنے پیش کرو۔‘‘ چنانچہ ہم نے ایک ہزار پانچ صد مردوں کے نام قلم بند کیے۔ پھر ہم نے (اپنے دل میں) کہا’’ کیا ہم اب بھی (کافروں سے) ڈریں، حالانکہ ہم پندرہ سو کی تعدادمیں ہیں؟ پھر ہم نے اپنی جماعت کو دیکھا کہ ہم اس قدر خوف و ہراس میں مبتلا کر دیے گئے کہ ہم میں سے کوئی مارے خوف کے اکیلا ہی نماز پڑھ لیتا۔ امام اعمش کی روایت میں ہےکہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی۔ اور ابو معاویہ کی روایت ہے کہ وہ تعدادچھ سو سے سات سو تک تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3060]
حدیث حاشیہ: ابو معاویہ کی روایت کو امام مسلم اور احمد اور نسائی اور ابن ماجہ نے نکالا ہے۔
وسلك الداودي الشارح طریق الجمع فقال لعلهم کتبوا مرات في مواطن یعنی تعداد میں اختلاف اس لئے ہوا کہ شاید ان لوگوں نے کئی جگہ مردم شماری کی ہو‘ بعض نے یہ بھی کہا کہ ڈیڑھ ہزار سے مراد مرد عورت بچے غلام جو بھی مسلمان ہوئے سب مراد ہیں اور چھ سو سے سات سو تک خاص مرد مراد ہیں اور پانچ سو سے خالص لڑنے والے مراد ہیں۔
وفي الحدیث مشروعیة کتابة دواوین الجیوش وقد یتعین ذالك عند الاحتیاج إلی تمیز من یصلح للمقاتلة بمن لا یصلح (فتح)
حذیفہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ آنحضرتﷺ کے عہد مبارک میں تو ہم ڈیڑھ ہزار کا شمار پورے ہونے پر بے ڈر ہو گئے تھے اور اب ہزاروں لاکھوں مسلمان موجود ہیں‘ یہ حق بات کہتے ہوئے ڈرتے ہیں۔
کوئی کوئی تو ڈر کے مارے اپنی نماز اکیلے پڑھ لیتا ہے اور منہ سے کچھ نہیں نکال سکتا۔
یہ حذیفہ ؓنے اس زمانے میں کہا جب ولید بن عقبہ حضرت عثمان ؓ کی طرف سے کوفہ کا حاکم تھا اور نمازیں اتنی دیر کر کے پڑھتا کہ معاذ اللہ۔
آخر بعض متقی لوگ اوّل وقت نماز پڑھ لیتے پھر جماعت میں بھی اس کے ڈر سے شریک ہو جاتے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3060 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
3060. حضرت حذیفہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جتنے لوگ بھی کلمہ اسلام پڑھتے ہیں ان کی مردم شماری کر کے میرے سامنے پیش کرو۔‘‘ چنانچہ ہم نے ایک ہزار پانچ صد مردوں کے نام قلم بند کیے۔ پھر ہم نے (اپنے دل میں) کہا’’ کیا ہم اب بھی (کافروں سے) ڈریں، حالانکہ ہم پندرہ سو کی تعدادمیں ہیں؟ پھر ہم نے اپنی جماعت کو دیکھا کہ ہم اس قدر خوف و ہراس میں مبتلا کر دیے گئے کہ ہم میں سے کوئی مارے خوف کے اکیلا ہی نماز پڑھ لیتا۔ امام اعمش کی روایت میں ہےکہ ہم نے پانچ سو مسلمانوں کی تعداد لکھی۔ اور ابو معاویہ کی روایت ہے کہ وہ تعدادچھ سو سے سات سو تک تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3060]
حدیث حاشیہ:

حضرت حذیفہ ؓنے یہ بات اس وقت کہی جب حضرت عثمان ؓ کی طرف سے ولید بن عقبہ ؓ کو کوفہ گورنر مقرر کیا گیا اور وہ نماز پڑھنے میں بہت تاخیر کرتے تو تقوی شعار لوگ اول وقت اکیلے ہی نماز ادا کر لیتے۔
لیکن ہمارے دور میں تو حکمران نماز کا نام ہی نہیں لیتے۔
حضرت حذیفہ ؓ کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں تو ہم ڈیڑھ ہزار ہونے پر نڈر اور بے خوف ہو گئے تھے اب ہزاروں کی تعداد میں ہیں اس کے باوجود حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں اور بعض توڈر کے مارے اکیلے ہی نماز پڑھ لیتے ہیں۔
اور منہ سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
واللہ المستعان۔

تعداد میں اختلاف کی وجہ اس لیے ہے کہ شاید کئی ایک مقامات پر مردم شماری کی گئی ہو۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سے مراد مرد عورتیں اور بچے سب مسلمان ہیں اور چھ سو سے سات سو تک صرف مرد مراد ہیں۔
اور پانچ سو سے مراد وہ فوجی جوان ہیں جو میدان میں لڑنے والے تھے واللہ اعلم۔
امام بخاری ؒنے اس کو مردم شماری کے جواز کی دلیل بنایا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3060 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 149 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں تھے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے اسلام کے نام لیوا لوگوں کی تعداد گن کر بتاؤ۔‘‘ تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ! کیا آپ کو ہمارے بارے میں اندیشہ ہے؟ اور ہماری تعداد چھ سات سو کے درمیان ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمھیں پتہ نہیں شاید تم آزمائش میں ڈال دیے جاؤ۔‘‘ پھر ہم آزمائش میں مبتلا ہو گئے، یہاں تک کہ ہم میں بعض لوگ نماز بھی چھپ کر پڑھتے تھے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:377]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل:
آپ کی پیش گوئی کے مطابق آپ کی وفات کے بعد ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ بعض لوگوں کو نماز بھی (جو ایمان کی ظاہری اور محسوس علامت ہے)
چھپ کر پڑھنا پڑتی تھی، کیونکہ نماز کو امن وجنگ کسی حالت میں بھی چھوڑا نہیں جاسکتا، اور نماز ہی اسلام وایمان کی دائمی نشانی اور علامت ہے، جو روزانہ پانچ بار ادا کی جاتی ہے۔
کیونکہ بعض گورنر نماز بہت دیر کرکے پڑھاتے تھے، اس لیے بعض لوگ اپنے طور پر پہلے نماز پڑھ لیتے تھے، پھر جماعت میں بھی شریک ہوجاتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 149 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4029 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´آفات و مصائب پر صبر کرنے کا بیان۔`
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کی تعداد شمار کر کے مجھے بتاؤ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ ہم پر (اب بھی دشمن کی طرف سے) خطرہ محسوس کرتے ہیں، جب کہ اب ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہیں جانتے شاید کہ تم آزمائے جاؤ۔‏‏‏‏ حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو واقعی ہم آزمائے گئے، یہاں تک کہ ہم میں سے اگر کوئی نماز بھی پڑھتا تو چھپ کر پڑھتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4029]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مردم شماری کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ افرادی قوت کا صحیح اندازہ ہوجاتا ہے۔

(2)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالی پر اس قدر توکل تھا کہ چھ سات سو کی تعداد ہوتے ہوئے خود کو ناقابل شکست سمجھتے تھے۔

(3)
زیادہ تعداد کے باوجود آزمائش آ سکتی ہے۔
اس لیے اللہ سے مدد مانگتے رہنا چاہیے اور آزمائش میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4029 سے ماخوذ ہے۔