صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ الْحَرْبِيِّ إِذَا دَخَلَ دَارَ الإِسْلاَمِ بِغَيْرِ أَمَانٍ: باب: اگر حربی کافر مسلمانوں کے ملک میں بے امان چلا آئے تو اس کا مار ڈالنا درست ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ فَجَلَسَ عِنْدَ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُ ثُمَّ انْفَتَلَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اطْلُبُوهُ وَاقْتُلُوهُ فَقَتَلَهُ ، فَنَفَّلَهُ سَلَبَهُ " .´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ‘ ان سے ان کے باپ ( سلمہ رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفر میں مشرکوں کا ایک جاسوس آیا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ہوازن کے لیے تشریف لے جا رہے تھے ) وہ جاسوس صحابہ کی جماعت میں بیٹھا ‘ باتیں کیں ‘ پھر وہ واپس چلا گیا ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تلاش کر کے مار ڈالو ۔ چنانچہ اسے ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ) قتل کر دیا ‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہتھیار اور اوزار قتل کرنے والے کو دلوا دئیے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت سلمہ بن اکوع ؓنے جس شخص کو قتل کیا تھا وہ جنگجو تھا اور امان لیے بغیر ہی چلا آیا تھا۔
اگرچہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ امان لے کر آیا تھا لیکن جب اس نے اپنا کام کر لیا اور جاسوسی پوری کرلی تو جلدی سے اٹھااور تیزی سے دوڑنے لگا۔
اس سے معلوم ہوا کہ وہ امان لیے بغیر دارالاسلام میں داخل ہوا تھا اس لیے اسے قتل کردیا گیا۔
2۔
اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ جنگ کی جاسوسی کرنے والے کو قتل کردیا جائے۔
یہ جنگ ہوازن کا واقعہ ہے قبل ازیں مال غنیمت کے احکام نازل ہو چکے تھے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہے لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس عام قرآنی حکم کو خاص فرمایا کہ کافر کا ساز و سامان اسے قتل کرنے والے کو ملتا ہے۔
(فتح الباري: 204/6)
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوازن کا غزوہ کیا، وہ کہتے ہیں: ہم چاشت کے وقت کھانا کھا رہے تھے، اور اکثر لوگ ہم میں سے پیدل تھے، ہمارے ساتھ کچھ ناتواں اور ضعیف بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اونٹ کی کمر سے ایک رسی نکال کر اس سے اپنے اونٹ کو باندھا، اور لوگوں کے ساتھ کھانا کھانے لگا، جب اس نے ہمارے کمزوروں اور سواریوں کی کمی کو دیکھا تو اپنے اونٹ کی طرف دوڑتا ہوا نکلا، اس کی رسی کھولی پھر اسے بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اسے ایڑ لگاتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2654]
1۔
کافر جاسوس خواہ مستامن ہی ہو۔
(اجازت لے کر مسلمانوں کے پاس لے کر آیا ہو) قتل کیا جا سکتا ہے۔
کیونکہ وہ حربی کافروں میں شامل ہے۔
2۔
کافر مقتول کا خاص سامان اس کے قاتل مجاہد کو دیا جاتا ہے۔
اسے سلب کہتے ہیں۔
3۔
جہاد میں کامیابی کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تقویٰ ہے۔
دیگر وسائل محض ظاہری اسباب ہوتے ہیں۔
لیکن ان سے صرف نظر کرنا جائز نہیں۔
4۔
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نوعمر جوان تھے۔
اور تیز دوڑنے میں نہایت ممتاز تھے۔
اس لئے اونٹ سوار کو جا پکڑا۔
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقابلہ کے لیے للکارا، اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چھینا ہوا سامان بطور انعام مجھے ہی دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2836]
فوائد و مسائل:
(1)
سلب سے مراد مقتول کا ذاتی سامان ہے مثلاً: لباس، تلوار وغیرہ۔
یہ چیزیں اسی مجاہد کا حق ہیں جو اس کافر کو قتل کرے۔
(2)
سلب کے علاوہ باقی مال غنیمت مجاہدین کی اجتماعی ملکیت ہے۔
اس میں سے ہر مجاہد وہی کچھ لے سکتا ہے۔
جو مال غنیمت کی تقسیم کے وقت اس کے حصے میں آئے۔