صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ لاَ تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ: باب: دشمن سے مڈبھیڑ ہونے کی آرزو نہ کرنا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ كُنْتُ كَاتِبًا لَهُ ، قَالَ : كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى حِينَ خَرَجَ إِلَى الْحَرُورِيَّةِ فَقَرَأْتُهُ ، فَإِذَا فِيهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيهَا الْعَدُوَّ انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ .´ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن یوسف یربوعی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسحاق فزاری نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہ مجھ سے عمر بن عبیداللہ کے غلام سالم ابوالنضر نے بیان کیا کہ میں عمر بن عبیداللہ کا منشی تھا ۔ سالم نے بیان کیا کہ` جب وہ خوارج سے لڑنے کے لیے روانہ ہوئے تو انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کا خط ملا ۔ میں نے اسے پڑھا تو اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑائی کے موقع پر انتظار کیا ‘ پھر جب سورج ڈھل گیا ۔