صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ مَا قِيلَ فِي الْجَرَسِ وَنَحْوِهِ فِي أَعْنَاقِ الإِبِلِ: باب: اونٹوں کی گردن میں گھنٹی وغیرہ جس سے آواز نکلے لٹکانا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : حَسِبْتُ أَنَّهُ ، قَالَ : وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا " أَنْ لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ " .´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں عباد بن تمیم نے اور انہیں ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ` وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ عبداللہ ( عبداللہ بن ابی بکر بن حزم راوی حدیث ) نے کہا کہ میرا خیال ہے ابوبشیر نے کہا کہ لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک قاصد ( زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ) یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ جس شخص کے اونٹ کی گردن میں تانت کا گنڈا ہو یا یوں فرمایا کہ گنڈا ( ہار ) ہو وہ اسے کاٹ ڈالے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قال ابن الجوزي وفي المراد بالأوتار ثلاثة أقوال أحدھم أنھم کانوا یقلدون الإبل أوتار القیسي لئلا یصیبھا العین بزعمھم فأمروا یقطعھا إعلاما بأن الأوتار لا ترد من أمر اللہ شیئا۔
یعنی پہلا قول یہ کہ جہلائے عرب اونٹوں کے گلوں میں کوئی تانت بطور تعویذ لٹکا دیتے تاکہ ان کو نظر بد نہ لگے۔
پس ان کے کاٹ پھینکنے کا حکم دیا گیا‘ تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کے حکم کو یہ لوٹا نہیں سکتی۔
دوسرا قول یہ کہ ایسے تانت وغیرہ جانوروں کے گلوں میں لٹکانے اس خوف سے منع کئے گئے کہ ممکن ہے وہ ان کے گلے میں تنگ ہو کر ان کا گلا گھونٹ دیں یا کسی درخت سے الجھ کر تکلیف کا باعث بن جائیں اور جانوروں کو ایذاء پہنچے۔
تیسرا قول یہ کہ وہ گھنٹے لٹکاتے حالانکہ بجنے والے گھنٹوں کی جگہ میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
حضرت امام بخاریؒ نے دارقطنی ؒ کی روایت کردہ اس حدیث پر اشارہ کیا ہے۔
جس میں صاف یوں ہے: «لاَ يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلاَدَةٌ مِنْ وَتَرٍ، أَوْ قِلاَدَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ» الا قطع یعنی کسی بھی جانور کے گلے میں کوئی تانت ہو یا گھنٹہ وہ باقی نہ رکھے جائیں۔
(فتح الباري)
اس حکم امتناعی کے متعلق محدثین کرام اقوال ذکر کیے ہیں۔
لوگ اونٹ کے گلے میں تانت وغیرہ باندھتے تھے تاکہ انھیں نظر بدنہ لگے۔
رسول اللہ ﷺ نے انھیں کاٹنےکا حکم دیا کہ اس سے عقیدہ خراب ہوتا ہے اور ایسا کرنا اللہ کی تقدیر کو رد نہیں کر سکتا۔
لوگ اس تانت میں گھنٹی باندھتے تھے چنانچہ ایک حدیث میں ہے۔
’’فرشتے اس قافلے کے ساتھ نہیں چلتے جس میں گھٹنیاں بجتی ہوں۔
‘‘ (سنن أبي داود، الجهاد، حدیث: 2554)
ویسے بھی گھنٹی وغیرہ جنگی چال کے منافی ہے۔
اس قسم کی تانت سے گلا کٹنے کا اندیشہ ہے بعض اوقات سانس تنگ ہو جاتا ہے اور چارا چرنے میں تکلیف کا باعث ہے نیز ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ تانت درخت کے ساتھ پھنس جائے اس سے جانور کا گلاکٹ جائے ان وجوہات کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ حکم امتناعی جاری فرمایا۔
امام بخاری ؒکے عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے دوسری توجیہ کو پسند کیا ہے۔
(فتح الباري: 172/6)
واللہ أعلم۔
(عمدۃ القاری ج 7 ص 43)
مگر ظاہر ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنی آیات یا اسماء الٰہی کو جانوروں کے گلے میں نہیں ڈالا تو ہمیں بھی اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کے ذریعہ پیغام بھیجا، لوگ اپنی خواب گاہوں میں تھے: ” کسی اونٹ کی گردن میں کوئی تانت کا قلادہ باقی نہ رہے، اور نہ ہی کوئی اور قلادہ ہو مگر اسے کاٹ دیا جائے۔“ مالک کہتے ہیں: میرا خیال ہے لوگ یہ گنڈا نظر بد سے بچنے کے لیے باندھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2552]
علامہ خطابی لکھتے ہیں کہ امام مالک اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ لوگ اسے نظر بد سے بچائو کےلئے بطور تعویذ ڈالتے تھے۔
اور اسے ہی موثر سمجھتے تھے۔
کئی علماء کا خیال ہے کہ لوگ یہ ان کے گلوں میں گھنٹیاں باندھنے کے لئے ڈالتے تھے۔
کچھ نے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ دوڑتے بھاگتے ہوئے جانور کا گلا گھٹ جائے۔
بہر حال وجہ کوئی بھی ہو تانت ڈالنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
اور اسی طرح دیگر جاہلانہ تعویز گنڈے بھی ڈالنا جائز نہیں۔
«. . . 307- وبه: عن عباد بن تميم أن أبا بشير الأنصاري أخبره أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى بعض أسفاره، قال: فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم رسولا، قال عبد الله بن أبى بكر: حسبت أنه قال والناس فى مبيتهم: ”لا تبقين فى رقبة بعير قلادة من وتر أو قلادة إلا قطعت.“ قال مالك: أرى ذلك من العين. . . .»
”. . . سیدنا ابوبشیر الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیغامبر (اعلان کرنے والا) بھیجا۔ عبداللہ بن ابی بکر (رحمہ اللہ، راوی حدیث) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ لوگ اپنی خوابگاہوں میں تھے کہ اس نے اعلان کیا: خبردار! کسی اونٹ کی گردن پر تانت کا پٹا یا کوئی اور پٹا کاٹے بغیر نہ چھوڑنا۔، امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے نظر سے (بچاؤ) کے لیے یہ پٹے (گنڈے) ڈال رکھے تھے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 432]
تفقه:
➊ دھاگے منکے وغیرہ لٹکا کر یہ سمجھنا کہ بیماری نہیں لگے گی یا نظر بد سے بچاؤ ہوجائے گا، جائز نہیں ہے مگر قرآنی اور غیر شرکیہ عبارات لکھ کر لٹکانے کے بارے میں سلف صالحین کے درمیان اختلاف ہے۔ سیدنا سعید بن المسیب رحمہ اللہ اسے جائز سمجھتے تھے۔ دیکھئے [السنن الكبريٰ للبيهقي 351/9 وسنده صحيح] لیکن بہتر یہی ہے کہ ان سے بھی اجتناب کیا جائے۔
◄ ابرہیم نخعی رحمہ اللہ بچوں کے لئے بیت الخلاء میں داخل ہونے کی وجہ سے تعویذ مکروہ سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 376/7 ح 23466 وسنده صحيح، دوسرا نسخه 16/8 ح 23823،]
➋ اسحاق بن منصور الکوسج رحمہ اللہ نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے قرآن لٹکانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہر شئے (علاج کے لئے لکھ کر) لٹکانا مکروہ ہے۔ [ديكهئے مسائل اسحاق و احمد ج 1 ص 193 فقره 382، التمهيد 164/17]۔ راجح یہی ہے کہ قرآنی و غیر شرکیہ تعویذ شرک یا بدعت نہیں ہے لیکن سدِ ذرائع کے طور پر یہ تعویذ بھی نہیں پہننے چاہئیں۔
➌ شبہات والی اور مشکوک چیزوں سے بچنا ضروری ہے۔
➍ نظر کا لگ جانا برحق ہے۔ دیکھئے [صحيح بخاري 5740 و صحيح مسلم 2187] لیکن اس کا علاج تعویذ گنڈے نہیں بلکہ مسنون دعائیں ہیں۔ مثلاً«أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» والی دعا۔ دیکھئے [صحيح بخاري 3371]