حدیث نمبر: 2994
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا ، وَإِذَا تَصَوَّبْنَا سَبَّحْنَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے حصین نے ، ان سے سالم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب ہم بلندی پر چڑھتے تو «الله اكبر» کہتے اور نشیب میں اترتے تو «سبحان الله» کہتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2994
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2993

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2994. سالم بن عبد اللہ ؓحضرت جابر ؓسے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے تو اللہ أکبر کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2994]
حدیث حاشیہ:
جب انسان کسی بلند جگہ پر چڑھے تو اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تقاضا ہے کہ اللہ أکبر کہا جائے۔
جب بھی کسی بلند چیز پر نظر پڑے تو دل میں اللہ کی بڑائی کا یقین رہےکہ وہی ہر چیز سے بڑا ہے خاص طور سفر جہاد میں اس کا ضرور التزام کیا جائے تاکہ اس کی نصرت و تائید ہمارے شامل حال رہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2994 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2993 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2993. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ أکبر کہتے اور جب کسی بلندی سے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2993]
حدیث حاشیہ: کوئی بھی سفر ہو‘ راستے میں نشیب و فراز اکثر آتے ہی رہتے ہیں۔
لہٰذا اس ہدایت پاک کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہاں سفر جہاد کے لئے اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔
باب جب بلندی پر چڑھے تو اللہ أکبر کہنا
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2993 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2993 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2993. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ أکبر کہتے اور جب کسی بلندی سے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2993]
حدیث حاشیہ:

کوئی بھی سفر ہو راستے میں نشیب و فراز اکثر آتے رہتے ہیں لہٰذا مذکورہ ہدایت نبوی کو مد نظر رکھنا چاہیےاس مقام پر سفر جہاد میں اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔

حضرت یونس ؑ جب مچھلی کے پیٹ میں گئے تو انھوں نے اللہ کی تسبیح کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں نجات دی۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کی پیروی میں فرمایا: ’’جب تم نیچی جگہ اترو تواللہ کی تسبیح کرو۔
‘‘
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2993 سے ماخوذ ہے۔