صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ التَّسْبِيحِ إِذَا هَبَطَ وَادِيًا: باب: کسی نشیب کی جگہ میں اترتے وقت سبحان اللہ کہنا۔
حدیث نمبر: 2993
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنَّا إِذَا صَعِدْنَا كَبَّرْنَا ، وَإِذَا نَزَلْنَا سَبَّحْنَا " .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جب ہم ( کسی بلندی پر ) چڑھتے ، تو «الله اكبر» کہتے اور جب ( کسی نشیب میں ) اترتے تو «سبحان الله» کہتے تھے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2993
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2994
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
2993. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ أکبر کہتے اور جب کسی بلندی سے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2993]
حدیث حاشیہ: کوئی بھی سفر ہو‘ راستے میں نشیب و فراز اکثر آتے ہی رہتے ہیں۔
لہٰذا اس ہدایت پاک کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہاں سفر جہاد کے لئے اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔
باب جب بلندی پر چڑھے تو اللہ أکبر کہنا
لہٰذا اس ہدایت پاک کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
یہاں سفر جہاد کے لئے اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔
باب جب بلندی پر چڑھے تو اللہ أکبر کہنا
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2993 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2993. حضرت جابر بن عبد اللہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو اللہ أکبر کہتے اور جب کسی بلندی سے اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2993]
حدیث حاشیہ:
1۔
کوئی بھی سفر ہو راستے میں نشیب و فراز اکثر آتے رہتے ہیں لہٰذا مذکورہ ہدایت نبوی کو مد نظر رکھنا چاہیےاس مقام پر سفر جہاد میں اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔
2۔
حضرت یونس ؑ جب مچھلی کے پیٹ میں گئے تو انھوں نے اللہ کی تسبیح کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں نجات دی۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کی پیروی میں فرمایا: ’’جب تم نیچی جگہ اترو تواللہ کی تسبیح کرو۔
‘‘
1۔
کوئی بھی سفر ہو راستے میں نشیب و فراز اکثر آتے رہتے ہیں لہٰذا مذکورہ ہدایت نبوی کو مد نظر رکھنا چاہیےاس مقام پر سفر جہاد میں اس امر کا مشروع ہونا مقصود ہے۔
2۔
حضرت یونس ؑ جب مچھلی کے پیٹ میں گئے تو انھوں نے اللہ کی تسبیح کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں نجات دی۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کی پیروی میں فرمایا: ’’جب تم نیچی جگہ اترو تواللہ کی تسبیح کرو۔
‘‘
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2993 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2994 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2994. سالم بن عبد اللہ ؓحضرت جابر ؓسے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: جب ہم (کسی بلندی پر) چڑھتے تو اللہ أکبر کہتے اور جب (کسی نشیب میں) اترتے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2994]
حدیث حاشیہ:
جب انسان کسی بلند جگہ پر چڑھے تو اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تقاضا ہے کہ اللہ أکبر کہا جائے۔
جب بھی کسی بلند چیز پر نظر پڑے تو دل میں اللہ کی بڑائی کا یقین رہےکہ وہی ہر چیز سے بڑا ہے خاص طور سفر جہاد میں اس کا ضرور التزام کیا جائے تاکہ اس کی نصرت و تائید ہمارے شامل حال رہے۔
جب انسان کسی بلند جگہ پر چڑھے تو اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا تقاضا ہے کہ اللہ أکبر کہا جائے۔
جب بھی کسی بلند چیز پر نظر پڑے تو دل میں اللہ کی بڑائی کا یقین رہےکہ وہی ہر چیز سے بڑا ہے خاص طور سفر جہاد میں اس کا ضرور التزام کیا جائے تاکہ اس کی نصرت و تائید ہمارے شامل حال رہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2994 سے ماخوذ ہے۔