صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ التَّكْبِيرِ عِنْدَ الْحَرْبِ: باب: جنگ کے وقت نعرہ تکبیر بلند کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : صَبَّحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ ، قَالُوا : هَذَا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَلَجَئُوا إِلَى الْحِصْنِ ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ، وَأَصَبْنَا حُمُرًا فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ ، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ بِمَا فِيهَا " تَابَعَهُ عَلِيٌّ عَنْ سُفْيَانَ رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ .´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں داخل تھے ۔ اتنے میں وہاں کے رہنے والے ( یہودی ) پھاوڑے اپنی گردنوں پر لیے ہوئے نکلے ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( مع آپ کے لشکر کے ) دیکھا تو چلا اٹھے کہ یہ محمد لشکر کے ساتھ ( آ گئے ) محمد لشکر کے ساتھ ، محمد لشکر کے ساتھ ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چنانچہ وہ سب بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزیں ہو گئے ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور نعرہ تکبیر بلند فرمایا ، ساتھ ہی ارشاد ہوا کہ خیبر تو تباہ ہو چکا ۔ کہ جب کسی قوم کے آنگن میں ہم اتر آتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے ۔ اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کو گدھے مل گئے ، اور ہم نے انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ پکارا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں ۔ چنانچہ ہانڈیوں میں جو کچھ تھا سب الٹ دیا گیا ۔ اس روایت کی متابعت علی نے سفیان سے کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ہر مناسب موقعہ پر شوکت اسلام کے اظہار کے لئے نعرہ تکبیر بلند کرنا اسلامی شعار ہے۔
مگر صد افسوس کہ آج کل کے بیشتر نام نہاد مسلمانوں نے اس پاک نعرہ کی اہمیت گھٹانے کے لئے ’’نعرہ رسالت یا رسول اللہ‘‘۔
’’نعرہ غوثیہ یا شیخ عبدالقادر جیلانی‘‘ جیسے شرکیہ نعرے ایجاد کرکے شرک و بدعت کا ایسا دروازہ کھول دیا ہے جو تعلیمات اسلام کے سراسر برعکس ہے۔
اللہ ان کو ہدایت نصیب فرمائے۔
ایسے نعرے لگانا شرک کا ارتکاب کرنا ہے جن سے اللہ اور اس کے رسولﷺ اور اولیاء کی بھی نافرمانی ہوتی ہے۔
مگر مسلمان نما مشرکوں نے ان کو محبت رسولﷺ اور محبت اولیاء سے تعبیر کیا ہے جو سراسر شیطانی دھوکا اور ان کے نفس امارہ کا فریب ہے۔
1۔
رسول اللہ ﷺنے خیبر میں داخل ہوتے وقت نعرہ تکبیر بلند کیا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ شوکت اسلام کے اظہار کے لیے مناسب موقع پر اللہ أکبر بآواز بلند کہا جا سکتا ہے۔
2۔
یہ ایک اسلامی شعار ہے لیکن کس قدر افسوس ہے کہ اس مقدس نعرے کی اہمیت گھٹانے کے لیے ہمارے ہاں نعرہ رسالت یا رسول اللہ، نعرہ حیدری،یا علي اورنعرہ غوثیہ، یا شیخ عبدالقادر جیلاني جیسے نعرےایجاد ہو چکے ہیں ایسے نعرے لگانا شرک کا ارتکاب کرنا اور بدعت کا دروازہ کھولنا ہے جس کی اسلام کسی صورت میں اجازت نہیں دیتا۔
اسے محبت رسول یا محبت اولیاء کا نام تو سرا سر شیطانی دھوکا اور نفس امارہ کا فریب ہے۔
ہمیں ہر حال میں ان سے بچنا چاہیے۔
1۔
امام بخاری ؒ نے ران کے واجب الستر ہونے یا نہ ہونے کے متعلق دونوں طرح کے دلائل ذکر کر دیے ہیں، لیکن کوئی فیصلہ نہیں فرمایا، کیونکہ ران کے عورة (قابل الستر)
نہ ہونے کے متعلق جو مضبوط دلیل ہے وہ حدیث انس ہے جسے امام بخاری ؒ نے تفصیل سے نقل فرمایا ہے۔
اس میں چند ایک احتمالات ہیں جن کی بنا پر اس کے عورة نہ ہونے کے متعلق استدلال محل نظر بن جاتا ہے۔
شاید اسی بنا پر امام بخاری ؒ نے اس کے متعلق دو ٹوک فیصلہ نہیں کیا، وہ احتمالات حسب ذیل ہیں: صحیح مسلم کی روایت میں (انحسر الإزار)
کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہیں کہ چادر خود بخود اوپر ہو گئی، رسول اللہ ﷺ نے اسے از خود اوپر نہیں اٹھایا۔
(صحیح مسلم، الجهاد، حدیث: 4665 (1365)
اس کے علاوہ مسند امام احمد اور طبرانی میں بھی روایت انھیں الفاظ سے نقل ہوئی ہے، اس روایت کو جب محدث اسماعیلی ؒ نے بیان کیا تو اس کے الفاظ بایں طور ہیں (خرالإزار)
’’آپ کی چادر گر پڑی۔
‘‘عربی زبان میں لفظ خر بمعنی وقوع بھی انحسارکی طرح لازم استعمال ہوتا ہے، اگر یہ صحیح ہے تو معنی یہ ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ نے از خود اپنی ران سے چادر نہیں ہٹائی، بلکہ بھیڑیا سواری کو تیز دوڑانے کی وجہ سے ران کا حصہ کھل گیا۔
رسول اللہ ﷺ کی جلالت قدر کے شایان شان بھی یہی ہے کہ آپ کی طرف دانستہ ران کے کھولنے کا انتساب نہ کیا جائے، خصوصاً جبکہ آپ کے ارشادات سے اس کا قابل سترہونا ثابت بھی ہو چکا ہو۔
حضرت انس ؓ نے جو اس فعل کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کی ہے وہ شاید اس لیے کہ انھوں نے حالت مذکورہ میں ران مبارک کو کھلا دیکھا تو یہی گمان کر لیا کہ آپ نے قصداًایسا کیا ہے، حالانکہ واقع میں ایسا نہ تھا۔
صحیح بخاری میں چونکہ لفظ (حَسَرَ)
ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دانستہ چادر ران سے ہٹائی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ حسر لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، اس لیے ضروری نہیں کہ اسے متعدی ہی استعمال کیا جائے، بلکہ یہاں لازم کے معنی میں استعمال کرنا زیادہ اولیٰ ہے، بایں صورت معنی ہوں گے کہ ازار از خود کسی وجہ سے ہٹ گیا۔
پھر صحیح مسلم میں مروی الفاظ سے اس معنی کی مزید تائید ہوتی ہے۔
یہ بھی احتمال ہے کہ حسر الإزار کے یہ معنی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ازار (تہ بند)
کو ران کے مقام پر ڈھیلا کیا ہوتا کہ ران سے چمٹا ہوا نہ رہے اور ایسا کرنے میں اتفاقاً ران کا کچھ حصہ کھل گیا ہو۔
یہ احتمال اس روایت کے زیادہ مناسب ہے، جو علامہ کرمانی ؒ نے بعض نسخوں کے حوالے سے بیان کی ہےکہ (عن فخذه)
کے بجائے (على فخذه)
ہے، یعنی ازارکا جو حصہ ران پر تھا آپ نے اسے کھولا اور ڈھیلا کیا۔
(شرح الکرماني: 31/2)
رسول اللہ ﷺ کی سواری ایک تنگ گلی میں جا رہی تھی اور ہوا بھی چل رہی تھی، اس لیے ممکن ہے کہ گھٹنا باربارتہ بند سے الجھتا ہواور ہوا نے اس تہ بند کا رخ پلٹ دیا ہو۔
اگر آپ نے خود ہٹا یا تو اس کی معقول وجہ یہ ہے کہ تہ بند کے بار بار الٹنے سے آپ نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ کہیں اس الجھاؤ میں ایسا نہ ہو کہ اس حصے کی بے پردگی ہو جائے جس کی کسی صورت میں نوبت نہیں آنی چاہیے، اس خطرے کے پیش نظر ممکن ہے کہ آپ نے اپنا ازار گھٹنے سے ہٹا کر ران کے نیچے دبا لیا ہو۔
خود صحیح بخاری میں ایک روایت موجود ہے جس میں فخذ کے بجائے قدم کے الفاظ ہیں۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میرا قدم آپ کے قدم سے مس کر رہا تھا۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 610)
2۔
علامہ قرطبی ؒ کہتے ہیں: حدیث انس پر حدیث جرہد کو ترجیح حاصل ہے، کیونکہ اس کے معارض جو بھی احادیث ہیں وہ خاص واقعات و حالات سے متعلق ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت کا احتمال بھی ہو سکتا ہے اور اس امرکا بھی احتمال ہے کہ ران کے متعلق پہلے نرمی چلی آرہی تھی، اس کے بعد اس کے عورۃ ہونے کا حکم ہوا لیکن حدیث جرہد میں اس قسم کا کوئی احتمال نہیں، بلکہ اس میں ایک کلی حکم بیان ہوا ہے۔
(فتح الباري: 623/1)
حافظ ابن حجر ؒ کہتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے انھی احتمالات کی بنا پر کہا ہے کہ جرہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پر عمل کرنا احتیاط کا تقاضا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ذہن میں اس کے متعلق کچھ تفصیل متوسط اور معتدل موقف رکھتے ہیں وہ اس طرح کہ ران کے اوپر والے حصے کو (سَوأتَين) (قبل دبر)
کے ساتھ ملحق خیال کرتے ہیں لیکن وہ حصہ جو گھٹنے کی جانب ہے اس کے متعلق کچھ نرم گوشہ اس طرح ہے کہ بے تکلف احباب اور وہ حضرات جو بکثرت آنے جانے والے ہیں ان کے سامنے کشف کا مضائقہ نہیں، لیکن اجانب اور وہ حضرات جو كبھی کبھار آنے جانے والے ہوں یا ایسے لوگ جن سے بے تکلفی نہ ہو ان کے سامنے امام بخاری ؒ بھی کشف فخذ کی اجازت نہیں دیتے۔
واللہ أعلم۔
نوٹ: اس حدیث سے متعلق دیگر مباحث الجهاد اور کتاب النکاح میں بیان ہوں گے۔
وہ ہر رات مسلح ہو کر نکلا کرتے تھے مگر اس رات کو ایسے غافل ہوئے کہ ان کا نہ کوئی جانور حرکت میں آیا نہ مرغ نے بانگ دی یہاں تک کہ وہ صبح کے وقت کھیتی کے آلات لے کر نکلے اور اچانک اسلامی فوج پر ان کی نظر پڑی جس سے وہ گھبرا گئے۔
اللہ کے رسول ﷺ نے اس سے نیک فالی لیتے ہوئے خربت خیبر کے الفاظ استعمال فرمائے جو حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئے۔
صدق رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم
1۔
رسول اللہ ﷺ خیبر کے نزدیک رجیع نامی وادی میں ٹھہرے۔
یہ وادی یہود اور قبیلہ غطفان کے درمیان واقع تھی۔
چونکہ یہی قبیلہ یہودیوں کا حلیف تھا، اس لیے خطرہ تھا کہ وہ ان کی مدد کے لیے میدان میں اترآئیں گے پیش بندی کے طور پر رسول اللہ ﷺ نے یہ اقدام کیا،چنانچہ غطفان نے تیاری کی اور خیبر جانے کا ارادہ بھی کیا لیکن انھیں محسوس ہوا کہ مسلمانوں نے پیچھے سے ہمارے اہل خانہ پرحملہ کردیا ہے، اس لیےوہ واپس آگئے اور اپنے گھروں میں ٹھہر گئے، اور اس طرح اہل خیبر ذلیل وخوار ہوئے، نیز یہودیوں کی عادت تھی کہ وہ ہرروز تیاری کرکے مسلح ہوکرباہر نکلتے تھے، جب دیکھتے کہ کوئی خطرہ وغیرہ نہیں ہے تو اپنے ہتھیار اتاردیتے۔
جس رات مسلمانوں نے ان پر حملہ کیا، اس رات تمام یہودی سوئے رہے، ان کے کسی جانور نے حرکت نہ کی حتی کہ اس رات کسی مرغ نے بھی اذان نہ دی۔
جب صبح کے وقت یہودیوں نے مسلمانوں کودیکھا تو اپنے قلعے میں تو اپنے قلعے میں محصور ہوگئے۔
2۔
جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ یہودی آلاتِ کھیتی باڑی کا سامان لے کر نکلے ہیں جو ذلت کی علامت ہے، ان کےپاس آلات حرب (ہتھیار)
نہ تھے جو غیرت کی نشانی ہوتے ہیں توآپ نے اس سے نیک فال لی اور فرمایا: ’’خیبر تباہ ہوگیا۔
‘‘ ممکن ہے کہ آپ کو بذریعہ وحی اس کی تباہی وبربادی کا علم ہوا ہوتو آپ نے فرمایا کہ خیبرتباہ وبرباد ہوگیا۔
(فتح الباری: 584/7، 585)
یہ جنگ خیبر کا واقعہ ہے جس کی تفصیلات اپنے موقع پر بیان ہوگی۔
1۔
اس حدیث میں نبوت کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر فتح ہونے سے پہلے ہی فرمادیاتھا کہ خیبر ویران ہوا،پھر اس کے مطابق ظہور ہوا۔
غزوہ خیبر کی تفاصیل کتاب المغاذی میں بیان ہوگی۔
2۔
حدیث کے آخری الفاظ: ’’جب ہم کسی قوم کے میدان میں ڈیرے ڈال دیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوجاتی ہے۔
‘‘ میں فتح کی بشارت ہے بلکہ دیگرغزوات میں بھی فتوحات کی طرف واضح اشارہ ہے اور فتوحات کی یہ برکت گھوڑوں کی حاضری کی وجہ سے ہے۔
اس سے گھوڑوں کی فضیلت بھی ثابت ہوئی۔
3۔
واضح رہے کہ لشکر کو"خمیس" اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس کے پانچ حصے ہوتے ہیں: 1۔
میمنہ۔
2۔
میسرہ۔
3۔
مقدمہ۔
4۔
ساقہ۔
5۔
قلب،بہرحال یہ حدیث بھی علامات نبوت میں سے ہے۔
واللہ أعلم۔
تفصیلی حالات اپنے موقع پر بیان ہوں گے۔
حدیث میں لفظ مساحیھم مسحاة کی جمع ہے جس سے مراد پھاؤڑہ ہے اور مکاتلھم مکتل کی جمع ہے‘ وہ ٹوکری جو پندرہ صاع وزن کی وسعت رکھتی ہو۔
خمیس سے مراد جو پانچ حصوں پر تقسیم ہوتا ہے میمنہ اور میسرہ قلب اور ساقہ اور مقدمہ اسی نسبت سے لشکر کو خمیس کہا گیا ہے اور ساحۃ سے مراد الان ہے وأصلھا الفضاء بین المنازل کذا في المجمع والعيني والکرماني۔
1۔
غزوہ خیبر کا پس منظر یہود کی مسلسل غداری اورطبعی فساد انگیزی تھا۔
انھیں دعوت اسلام پہنچ چکی تھی،اس لیے رسول اللہ ﷺ نے انھیں سزا دینا چاہی۔
نبی کریم ﷺ رات کے وقت ان پر حملہ آور ہوئے۔
انھیں سنبھلنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
2۔
ایک روایت کے مطابق حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: ہم خیبر میں اس وقت پہنچے جب سورج چمک رہا تھا۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث: 4666(1365)
خمیس لشکر کو اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں پانچ ٹکڑیاں ہوتی ہیں مقدمہ، ساقہ، میمنہ، میسرہ، قلب۔
صفیہ شاہزادی تھی آنحضرت ﷺ نے ان کی دلجوئی اور شرافت نسبی کی بنا پر انہیں اپنے حرم میں لے لیا اور آزاد فرما دیا ان ہی کو ان کے مہر میں دینے کا مطلب ان کوآزاد کر دینا ہے، بعد میں یہ خاتون ایک بہترین وفادار ثابت ہوئیں۔
امہا ت المومنین میں ان کا بھی بڑا مقام ہے۔
رضي اللہ عنها وأرضاھا۔
علامہ خطیب بغدادی ؒ لکھتے ہیں کہ حضرت صفیہ حی بن اخطب کی بیٹی ہیں جو بنی اسرائیل میں سے تھے اور ہارون ابن عمران ؑ کے نواسہ تھے۔
یہ صفیہ کنانہ بن ابی الحقیق کی بیوی تھیں جو جنگ خیبر میں بماہ محرم 7 ھ قتل کیا گیا اور یہ قید ہو گئیں تو ان کی شرافت نسبی کی بنا پر آنحضرت ﷺ نے ان کو اپنے حرم میں داخل فرمالیا، پہلے دحیہ بن خلیفہ کلبی کے حصہ غنیمت میں لگا دی گئی تھیں۔
بعد میں آنحضرت ﷺ نے ان کا حال معلوم فرماکر سات غلاموں کے بدلے ان کو دحیہ کلبی سے حاصل فرما لیا اس کے بعد یہ برضا ورغبت اسلام لے آئیں آنحضرت ﷺ نے اپنی زوجیت سے ان کومشرف فرمایا اور ان کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر مقرر فرمایا۔
حضرت صفیہ نے 50 ھ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں سپرد خاک کی گئیں۔
ان سے حضرت انس اور ابن عمر وغیرہ روایت کرتے ہیں حیی میں یائے مہملہ کا پیش اور نیچے دو نقطوں والی یاء کا زبر اور دوسری یاء پر تشدید ہے۔
صلوةالخو ف کے متعلق علامہ شوکانی ؒ نے بہت کافی تفصیلات پیش فرمائی ہیں اور چھ سات طریقوں سے اس کے پڑھنے کا ذکر کیا ہے۔
علامہ فرماتے ہیں: وَقَدْ اُخْتُلِفَ فِي عَدَدِ الْأَنْوَاعِ الْوَارِدَةِ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ. فَقَالَ ابْنُ الْقِصَارِ الْمَالِكِيُّ: إنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّاهَا فِي عَشَرَةِ مَوَاطِنَ. وَقَالَ النَّوَوِيُّ: إنَّهُ يَبْلُغُ مَجْمُوعُ أَنْوَاعِ صَلَاةِ الْخَوْفِ سِتَّةَ عَشَرَ وَجْهًا كُلُّهَا جَائِزَةٌ. وَقَالَ الْخَطَّابِيِّ: صَلَاةُ الْخَوْفِ أَنْوَاعٌ صَلَّاهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَيَّامٍ مُخْتَلِفَةٍ وَأَشْكَالٍ مُتَبَايِنَةٍ يَتَحَرَّى فِي كُلِّهَا مَا هُوَ أَحْوَطُ لِلصَّلَاةِ وَأَبْلَغُ فِي الْحِرَاسَةِ الخ۔
(نیل الاوطار)
یعنی صلوۃ خوف کی قسموں میں اختلاف ہے جو وارد ہوئی ہیں ابن قصار مالکی نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے اسے دس جگہ پڑھا ہے اور نووی کہتے ہیں کہ اس نماز کی تمام قسمیں سولہ تک پہنچی ہیں اور وہ سب جائز درست ہیں۔
خطابی نے کہا کہ صلوۃ الخوف کو آنحضرت ﷺ نے ایام مختلفہ میں مختلف طریقوں سے ادا فرمایا ہے۔
اس میں زیادہ تر قابل غور چیز یہی رہی ہے کہ نماز کے لیے بھی ہر ممکن احتیاط سے کام لیا جائے اور اس کا بھی خیال رکھا جائے کہ حفاظت اور نگہبانی میں بھی فرق نہ آنے پائے۔
علامہ ابن حزم نے اس کے چودہ طریقے بتلائے ہیں اور ایک مستقل رسالہ میں ان سب کا ذکر فرمایا ہے۔
الحمد للہ کہ اواخر محرم 1389ھ میں کتاب صلوة الخوف کی تبیض سے فراغت حاصل ہوئی، اللہ پاک ان لغزشوں کو معاف فرمائے جو اس مبارک کتاب کا ترجمہ لکھنے اور تشریحات پیش کرنے میں مترجم سے ہوئی ہونگی۔
وہ غلطیاں یقینامیری طرف سے ہیں۔
اللہ کے حبیب ﷺ کے فرامین عالیہ کا مقام بلند وبرتر ہے، آپ کی شان أوتیت جوامع الکلم ہے۔
اللہ سے مکرر دعا ہے کہ وہ میری لغزشوں کو معاف فرما کر اپنے دامن رحمت میں ڈھانپ لے اور اس مبارک کتاب کے جملہ قدردانوں کو برکات دارین سے نوازے۔
آمین یا رب العالمین۔
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ شدت جنگ کے وقت جب اطمینان و سکون میسر نہ ہو تو نماز کو مؤخر کر دیا جائے۔
امام بخاری ؒ نے اس موقف کی تردید میں یہ عنوان قائم کیا ہے کہ ایسے حالات میں نماز کو مؤخر کر دینا ضروری نہیں بلکہ اطمینان و سکون میسر نہیں ہے تو بھی اسے اول وقت پڑھا جا سکتا ہے۔
(عمدة القاري: 149/5)
اگر عنوان کا آغاز لفظ تکبیر سے ہے تو امام بخاری ؒ کا مقصد یہ ہے کہ ہر ہولناک اور پریشان کن کام کے شروع میں اللہ أکبر کہنا ’’ذکر مسنون‘‘ ہے جیسا کہ جہاد کے موقع پر نعرۂ تکبیر بلند کرنا مجاہدین کی ایک شناختی علامت ہے۔
(فتح الباري: 588/2) (2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دشمن پر چڑھائی کرتے وقت الله أكبر کہنا درست ہے لیکن دینی اجتماعات کے موقع پر تقاریر کے دوران میں نعرۂ تکبیر لگانا محتاج دلیل ہے۔
واللہ أعلم۔
اس لیے اس کا ترک کرنا جائز نہیں۔
جس بستی سے اذان کی آواز بلند ہواس بستی والوں کے لیے اسلام جان اورمال کی حفاظت کی ذمہ داری لیتا ہے۔
حضرت ابوطلحہ ؓ حضرت انس ؓ کی والدہ کے دوسرے شوہرہیں۔
گویا حضرت انس کے سوتیلے باپ ہیں۔
خمیس پورے لشکر کو کہتے ہیں جس میں پانچوں ٹکڑیاں ہوں یعنی میمنہ، میسرہ، قلب، مقدمہ، ساقہ۔
حدیث اورباب میں مطابقت ظاہر ہے۔
إنا إذا نزلنا سورہ صافات کی آیت کا اقتباس ہے جو یوں ہے: فإذا نزل بساحتهم فساء صباح المنذرین (الصافات: 177)
(1)
اس حدیث سے اذان کی فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے اور ایک شرعی حکم کا بھی پتہ چلتا ہے۔
اذان کی فضیلت بایں طور ہے کہ محض اس کی آواز سننے سے بستی والوں کے مال اور خون محفوظ ہوجاتے ہیں۔
اور شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کسی بستی سے اذان کی آواز آجائے تو وہاں حملہ کرنا جائز نہیں۔
یہ اس لیے کہ اذان، دین اسلام کی ایک بہت بڑی نشانی ہے، اس کا ترک کسی صورت جائز نہیں۔
جس بستی سے اذان کی آواز بلند ہو، اسلام اس بستی کے باشندگان کے مال وجان کی ضمانت دیتا ہے، نیز جس طرح اسلام کا اظہار شہادتین کے اقرار سے ہوتا ہے، اسی طرح عمل سے بھی ہوتا ہے، چنانچہ اگر کسی کافر کو اذان پڑھتے دیکھیں تو اسے قتل کرنا جائز نہیں، پھر جب تک اس سے کوئی کفر یہ عمل سرزد نہ ہو، اسے مسلمان ہی خیال کرنا چاہیے۔
(2)
دراصل امام بخاری ؒ اذان کے ثمرات بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اذان کا وجود لوگوں کے مال وخون کے محفوظ ہونے کی ضمانت دیتا ہے، چنانچہ ایک روایت میں اس کی بایں طور وضاحت ہے کہ رسول ا للہ ﷺ طلوع فجر کے وقت حملہ آور ہوتے تھے۔
آپ اذان کا انتطار کرتے، اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ کرنے سے رک جاتے اور اگر اذان کی آواز نہ آتی تو وہاں حملہ کردیتے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 847(382)
➊ یہ حدیث اور اس کے بعض فوائد (371) میں گزر چکے ہیں، چند فوائد درج ذیل ہیں: زین بن منیر (نون کے فتحہ اور یاء مشددہ کے کسرہ کے ساتھ) نے کہا: اس باب اور اس سے پہلے دو بابوں سے امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد اذان کے فوائد و ثمرات کا بیان ہے، چنانچہ پہلے باب میں نماز کے اجتماع کے لیے اذان کی فضیلت کا ذکر ہے، دوسرے باب میں اکیلے آدمی کی اذان سے ہر چیز کی شہادت کے حصول کا بیان ہے اور اس تیسرے باب میں اذان کی وجہ سے لوگوں کی جانوں کے محفوظ ہونے کا بیان ہے۔ [فتح الباري] ➋ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان اسلام کا شعار (علامت) ہے، اسے ترک کرنا جائز نہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر کسی علاقے کے لوگ اتفاق کر لیں کہ وہ اذان نہیں کہیں گے تو مسلمانوں کے امیر پر ان سے قتال کرنا واجب ہے اور جس علاقے کے لوگ اذان دیں ان پر حملہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ وہاں توحید و رسالت کی شہادت کا اعلان ہو رہا ہے، الا یہ کہ کسی کفرِ صریح کی وجہ سے ان کا ارتداد یا بغاوت ثابت ہو جائے۔
➌ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ انس رضی اللہ عنہ کی والدہ کے دوسرے خاوند تھے۔
➍ «إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْم ....» : یہ سورہ صافات کی ایک آیت سے اقتباس ہے: «فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمُ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْدَرِينَ» [الصافات: 177] ”پھر جب وہ ان کے صحن میں اترے گا تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہو گی۔“
➎ جمعرات کے دن کو عربی میں «يَوْمُ الْخَمِيسِ» کہتے ہیں، مگر یہاں «خَمِيس» کا معنی لشکر ہے، کیونکہ اس کے پانچ حصے ہوتے ہیں: مقدمہ، میمنہ، میسرہ، قلب اور ساقہ۔
نووس: ناس کی جمع ہے، کلہاڑا، تیشہ، مكاتل، مكتل کی جمع ہے۔
مرور: مر کی جمع ہے۔
مقصود یہ ہے وہ کھیتی باڑی کے لیے نکلے، انہیں مسلمانوں کی فوج کی آمد کا علم ہی نہ ہو سکا۔
(1)
الخَمِيس: لشکر کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ پانچ دستوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
مقدمه (اگلا دستہ)
ساقه (پچھلا دستہ)
قلب (درمیانی دستہ)
ميمنة (دایاں بازو دستہ)
ميسرة (بایاں دستہ) (2)
غنوة: قہر و جبر سے، زقاق ج ازقه، گلی کوچے۔
فوائد ومسائل: آپ نے محرم 7ھ کے آخری ایام میں خیبر کا رخ کیا تھا اور خیبر آٹھ مضبوط اور مستحکم قلعوں پر مشتمل تھا، ان کے علاوہ مزید قلعے اور گڑھیاں بھی تھیں، اگرچہ وہ چھوٹی تھیں اور قوت و حفاظت میں ان قلعوں کے ہم پلہ نہ تھیں، خیبر کی آبادی دو منطقوں میں بٹی ہوئی تھی، ایک منطقے میں پانچ قطعے تھے اور دوسرے میں تین، لڑائی پہلے منطقے میں ہوئی، دوسرےمنطقے کے تینوں قلعے لڑنے والوں کی کثرت کے باوجود جنگ کے بغیر ہی مسلمانوں کے حوالے کر دیئے گئے، تو جن ائمہ نے پہلے منطقہ کا لحاظ رکھا، انہوں نے کہا، خیبر بزور قوت، جبراً فتح ہواہے اور جنہوں نے دوسرے منطقے کا لحاظ کیا، انہوں نے کہا، صلح سے فتح ہوا ہے اور غزوہ خیبر میں صرف وہ چودہ سو (1400)
صحابہ شریک ہوئے تھے، جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے بیعت رضوان کی تھی اور معرکہ کا آغاز قلعہ ناعم پر حملہ سے ہوا تھا، کیونکہ یہ یہود کی پہلی دفاعی لائن کی حیثیت رکھتا تھا اور اس میں مرحب نامی شہ زور اور جانباز یہودی موجود تھا، جسے ایک ہزار مردوں کے برابر مانا جاتا تھا۔
تفصیل کے لیے دیکھئے، الرحیق المختوم۔
(1)
تَصْنَعُهَا: اسے بنائے سنوارے۔
(2)
فُؤُوْسٌ: فاس کی جمع ہے۔
کلہاڑا، یتشہ۔
(3)
مَكاَتِلْ: مکتل کی جمع ہے، ٹوکری۔
(4)
مُرُوْرِ: مرکی جمع ہے، بیلچہ اور بقول قاضی عیاض رسیاں جن کے ذریعہ کھجور کے درخت پر چڑھا جاتا ہے۔
(5)
تَعْتَدُّفِيْ بَيْتِهَا: ام سلیم کے پاس مدت حیض گزارے تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ حاملہ نہیں ہے۔
(6)
أَفَاحِيْص: اُفْحُوْص کی جمع ہے، مقصد یہ ہے کہ دسترخوان بچھانے کے لیے زمین کو تھوڑا سا کھودا گیا۔
(7)
نَدَرَ: ندور سے ماخوذ ہے جس کا معنی الگ ہونا اور نکلنا ہے اور یہاں مراد گرنا ہے۔
فوائد ومسائل: 1۔
نکاح کے وقت سب صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین حاضر نہ تھے اور نہ ہی سب دعوت ولیمہ میں شریک تھے۔
اس لیے سب کو اس نکاح کا پتہ نہ چل سکا۔
اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نکاح گواہوں کے بغیر ہو سکتا ہے جیسا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ ہے۔
2۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بیوی اہل البیت کا اولین اور اصلی مصداق ہے اور اس کے لیے جمع مذکر صیغہ استعمال ہوتا ہے۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سلام عليكم كيف انتم يا اهل البيت؟يقولون:)
(ہر بیوی نے پوچھا)
اور پردہ کا حکم حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ولیمہ کے وقت نازل ہوا۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر روانہ ہوئے تو وہاں رات کو پہنچے، اور آپ جب بھی کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی اس پر حملہ نہیں کرتے ۱؎، پھر جب صبح ہو گئی تو یہود اپنے پھاوڑے اور ٹوکریوں کے ساتھ نکلے، جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہا: محمد ہیں، اللہ کی قسم، محمد لشکر کے ہمراہ آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ اکبر! خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں اس وقت ڈرائے گئے لوگوں کی صبح، بڑی بری ہوتی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب السير/حدیث: 1550]
وضاحت:
1؎:
آپ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ اذان سے یہ واضح ہوجائے گا کہ یہ مسلمانوں کی بستی ہے یا نہیں، چنانچہ اگراذان سنائی دیتی تو حملہ سے رک جاتے بصورت دیگر حملہ کرتے۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے جہاد کیا، ہم نے اسے لڑ کر حاصل کیا، پھر قیدی اکٹھا کئے گئے (تاکہ انہیں مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3009]
امام ابو دائود یہ حدیث بیا ن کرکے واضح کرنا چاہتے ہیں۔
کہ خیبر کا کچھ حصہ قتال سے اور کچھ حصہ صلح سے حاصل ہوا تھا۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فجر غلس (اندھیرے) میں پڑھی، (آپ خیبر والوں کے قریب ہی تھے) پھر آپ نے ان پر حملہ کیا، اور دو بار کہا: «اللہ أكبر» ” اللہ سب سے بڑا ہے “ خیبر ویران و برباد ہوا، جب ہم کسی قوم کے علاقہ میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 548]
➋”خیبر ویران ہوا۔“ یہ پیش گوئی ہو سکتی ہے جو واقعتاً پوری ہوئی۔ دعا بھی ہو سکتی ہے، پھر معنی ہوں گے ”خیبر ویران ہو جائے۔“ یہ جملہ بطور فال بھی ہو سکتا ہے کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پہنچے تو وہ آگے سے ٹوکرے اور کدالیں لے کر آرہے تھے۔
➌جن کفار کو پہلے اسلام کی دعوت دی جاچکی ہو، ان پرچڑھائی کرنا جائز ہے۔
➍دشمن کا سامنا کرتے وقت اللہ اکبر کہنا مسنون عمل ہے۔
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کرنے کے ارادے سے نکلے، ہم نے نماز فجر خیبر کے قریب اندھیرے ہی میں پڑھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بھی سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے تنگ راستے سے گزرنے لگے تو میرا گھٹنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران سے چھونے اور ٹکرانے لگا، (اور یہ واقعہ میری نظروں میں اس طرح تازہ ہے گویا کہ) میں آپ صلی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3382]
(2) ”ران“ سواری پر بیٹھے ہوئے ہوا کی وجہ سے کپڑا ہٹ سکتا ہے‘ لہٰذا ران نظر آسکتی ہے۔ یہ نہیں کہ آپ نے قصداً ران ننگی کی ہوئی تھی۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دوران سفر میں انسان اپنے بے تکلف ساتھیوں اور خدام کے سامنے ہوا خوری کے لیے ران ننگی کرلیتا ہے۔ مخصوص ساتھیوں کی مجلس میں بھی ایسا ممکن ہے کیونکہ ران شرم گاہ کی طرح تو نہیں‘ البتہ شرم گاہ سے قریب ہونے کی وجہ سے عموماً اسے بھی ڈھانپ کررکھنا چاہیے۔ نماز میں تو ران فرض ستر میں بالاتفاق داخل ہے۔ ران ننگی ہو تو نماز نہ ہوگی۔ ہاں‘ نماز کے علاوہ کسی ضرورت کی بنا پر یا اپنے بے تکلف ساتھیوں میں کبھی کبھار ران ننگی ہوجائے یا کرلی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ احادیث میں تطبیق کا یہی طریقہ ہے۔
(3) ”خیبر ویران ہوگیا“ وحی سے فرمایا یا فال کے طور پر۔ بعض اہل علم نے اسے دعا بھی قراردیا ہے کہ خیبر فتح ہوجائے۔
(4) ”شور مچا دیا“ کیونکہ وہ لوگ آپ اور صحابہ کو پہنچانتے تھے۔ اس سے پہلے مدینہ ہی میں رہتے تھے۔
(5) ”صفیہ بنت حی“ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ان کا نام صفیہ نہیں تھا‘ نام تو زینب تھا‘ آپ کے انتخاب فرمانے کی وجہ سے صفیہ (منتخب شدہ) کہا گیا۔ یہ حیی بن اخطب کی بیٹی تھی جو کہ تمام یہود کا سردار تھا اور ایک دوسرے سردار کے نکاح میں تھیں۔ نکاح بھی تازہ ہی ہوا تھا۔ خاوند جنگ میں مارا گیا۔ یہ قیدی ہوگئیں۔ ظاہر ہے‘ ایسے مرتبے کی خاتون کسی عام شخص کے لیے مناسب نہ تھیں۔ ]أَنْزِلُوْا النَّاسَ مَنَازِلَھُمْ[ ”لوگوں سے ان کے مرتبے کے مطابق سلوک کرنا چاہیے۔“ نیز اس سے لوگوں میں اضطراب پیدا ہورہا تھا‘ اس لیے آپ نے انہیں دحیہ سے واپس لے کر اپنے لیے پسند فرما لیا۔ خصوصاً اس لیے بھی کہ وہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھیں۔ نبی کی نسل سے اور نبی کے نکاح میں۔ واہ واہ۔ کیا شان ہے۔ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَأَرْضَاہُ۔
(6) جو عورت لونڈی بننے سے پہلے کسی کے نکاح میں ہو‘ اس سے فوراً ہم بستری جائز نہیں جب تک اسے ایک ماہواری نہ آجائے تاکہ یقین ہوجائے کہ اسے سابقہ خاوند سے حمل نہیں۔ اگر حمل ہو تو وضع حمل تک ہم بستری جائز نہ ہوگی۔ حضرت صفیہ قید ہونے کے وقت حیض کی حالت میں تھیں۔ دوران سفر حیض ختم ہوگیا اور یقین ہوگیا کہ انہیں حمل نہیں کیونکہ حمل ہو تو حیض نہیں آتا‘ لہٰذا آپ کے لیے ان سے شب بسری جائز ہوگی۔
(7) ”یہ آپ کا ولیمہ ہوگیا“ دوران سفر ایسا ولیمہ ہو ممکن تھا۔
(8) کفار سے لڑائی کرتے وقت نعرۂ تکبیر لگانا مستحب ہے‘ نیز اس موقع پر کثرت ذکر بھی مطلوب ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے قرآن میں اس موقع پر ذکر کرنے کا حکم دیا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (الأنفال:8:45)
«. . . فنادى: ان الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الاهلية، فإنها رجس . . .»
”. . . باآواز بلند اعلان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول دونوں تمہیں گھریلو گدھوں کے گوشت کو کھانے سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ وہ «رجس» (ناپاک) ہے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 23]
«يَوْمُ خَيْبَرَ» غزوۂ خیبر کا دن مراد ہے۔ خیبر مدینہ کی شمالی جانب 96 میل کے فاصلے پر ایک شہر ہے۔ یہاں یہود رہتے تھے۔ یہ غزوہ یہود کے ساتھ محرم 7 ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد واقع ہوا۔ فتح خیبر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسی جگہ اس شرط پر رہنے کا حق دیا کہ وہ اپنے کھیتوں کے اناج اور باغات کے پھلوں کا آدھا حصہ مسلمانوں کو دیں گے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ان کو تیماء اور اریحا کی طرف جلا وطن کر دیا۔
«يَنْهَيَانِكُمْ» میں تثنیہ کی ضمیر اللہ اور اس کے رسول کی طرف راجع ہے، یعنی تمہیں اللہ اور اس کا رسول منع فرماتے ہیں۔
«الْحُمُرِ» ”حا“ اور ”میم“ کے ضمہ کے ساتھ ہے۔ اس کا واحد حمار ہے یعنی گدھا۔
«الْأَهْلِيَّةِ» گھریلو، پالتو (جنگلی نہیں) اہل کی طرف نسبت ہے، یعنی وہ جانور جسے انسان اپنے گھر میں اہل و عیال کی طرح پرورش کرتا اور پالتا ہے۔
«رِجْسٌ» ”را“ کے کسرہ اور ”جیم“ کے سکون کے ساتھ ہے۔ ہر وہ چیز جسے انسان گندگی تصور کرتا ہے، خواہ وہ نجس ہو یا نہ ہو، لہٰذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ گدھے کا جوٹھا نجس اور ناپاک ہے۔
فوائد و مسائل:
➊ گدھے کا گوشت بالاتفاق حرام ہے۔ صرف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے جائز سمجھتے تھے۔
➋ گدھے کا جوٹھا پاک ہے یا نہیں، اس بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ امام شافعی اور امام مالک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ پاک کہتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ کا ایک قول ہے کہ یہ نجس ہے۔ امام حسن بصری، ابن سیرین، اوزاعی اور اسحاق رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اگر کوئی پانی نہ ملے تو گدھے کے جوٹھے پانی سے وضو کیا جائے اور تیمم بھی کر لیا جائے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے۔ مگر امام شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کی بات زیادہ قرین صواب ہے۔ علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے۔ «والله اعلم»
راویٔ حدیث: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ابوطلحہ کنیت اور نام زید بن سہل بن اسود بن حرام انصاری ہے۔ کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے تھے۔ بیعت عقبہ اور تمام غزوات میں شریک رہے۔ غزوہ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے ان کا ہاتھ شل ہو گیا۔ معرکہ حنین میں بیس دشمنان اسلام کو قتل کیا۔ 34 یا بقول بعض 51 ہجری میں وفات پائی۔
«. . . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ”الله اكبر، خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين . . .»
”. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر، خراب ہوا خیبر، جب ہم کسی قوم کے پاس پہنچتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے جنہیں (جہنم اور عذاب سے) ڈرایا گیا ہے . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 563]
[وأخرجه البخاري 2945، من حديث مالك به وصرح حميد الطّويل بالسماع عند البخاري 2943]
تفقه:
➊ جن کافروں تک دین اسلام کی دعوت پہلے پہنچ چکی ہو تو انھیں جنگ کے وقت دوبارہ دعوت دینا ضروری نہیں ہے۔
➋ کفار کے خلاف جہادی مہم میں رات کو تیاری کر کے صبح کے وقت حملہ کرنا بہتر ہے۔
➌ اپنی بات کی تائید کے لئے شرعی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے عند الضرورت قرآنی آیات سے استشہاد و استدلال جائز ہے۔
➍ اہم موقع پر اللہ اکبر کہنا مسنون ہے لیکن یاد رہے کہ ہمارے زمانے میں مروجہ نعرہ تکبیر کا کوئی ثبوت ہمارے علم میں نہیں ہے بلکہ سیدنا ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ مرفوع حدیث سے اس کی ممانعت ثابت ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 2992، وصحيح مسلم 2704]
➎ وہ کافر جو دن رات مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوشاں ہیں، ان کے خلاف حملہ کی ابتداء کر کے اقدامی جہاد کیا جا سکتا ہے۔