صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ الاِرْتِدَافِ فِي الْغَزْوِ وَالْحَجِّ: باب: جہاد اور حج کے سفر میں دو آدمیوں کا ایک سواری پر بیٹھنا۔
حدیث نمبر: 2986
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَإِنَّهُمْ لَيَصْرُخُونَ بِهِمَا جَمِيعًا الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ " .مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ تمام صحابہ حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے ایک ساتھ لبیک کہہ رہے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2986. حضرت انس ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: میں حضرت ابو طلحہ ؓ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ لوگ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ کہہ رہے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2986]
حدیث حاشیہ:
1۔
یہ حدیث کئی مرتبہ پہلے گزر چکی ہے۔
امام بخاری ؒنے اس سے متعدد مسائل اخذ کیے ہیں۔
اس موقع پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوران سفر میں آدمی کو سواری پراپنے پیچھے بٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔
اگرچہ مذکورہ سفر حج کے لیےتھا تاہم دیگر مواقع کو اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
2۔
سواری کا جانور اگر طاقتور ہو تو تین آدمی بھی اس پر سوار ہو سکتے ہیں۔
1۔
یہ حدیث کئی مرتبہ پہلے گزر چکی ہے۔
امام بخاری ؒنے اس سے متعدد مسائل اخذ کیے ہیں۔
اس موقع پر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوران سفر میں آدمی کو سواری پراپنے پیچھے بٹھانے میں کوئی حرج نہیں۔
اگرچہ مذکورہ سفر حج کے لیےتھا تاہم دیگر مواقع کو اس پر قیاس کیا جا سکتا ہے۔
2۔
سواری کا جانور اگر طاقتور ہو تو تین آدمی بھی اس پر سوار ہو سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2986 سے ماخوذ ہے۔