صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک مہینے کی راہ سے اللہ نے میرا رعب (کافروں کے دلوں میں) ڈال کر میری مدد کی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ ، أَخْبَرَهُ : " أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ ، فَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا ، فَقُلْتُ : لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ " .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے ، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک جب شاہ روم ہرقل کو ملا تو ) اس نے اپنا آدمی انہیں تلاش کرنے کے لیے بھیجا ۔ یہ لوگ اس وقت ایلیاء میں ٹھہرے ہوئے تھے ۔ آخر ( طویل گفتگو کے بعد ) اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک منگوایا ۔ جب وہ پڑھا جا چکا تو اس کے دربار میں ہنگامہ برپا ہو گیا ( چاروں طرف سے ) آواز بلند ہونے لگی ۔ اور ہمیں باہر نکال دیا گیا ۔ جب ہم باہر کر دئیے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ ( مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ) کا معاملہ تو اب بہت آگے بڑھ چکا ہے ۔ یہ ملک بنی اصفر ( قیصر روم ) بھی ان سے ڈرنے لگا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ، أَخْبَرَهُ:" أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ وَهُمْ بِإِيلِيَاءَ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ عِنْدَهُ الصَّخَبُ، فَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَأُخْرِجْنَا، فَقُلْتُ: لِأَصْحَابِي حِينَ أُخْرِجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ . . .»
”. . . ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک جب شاہ روم ہرقل کو ملا تو) اس نے اپنا آدمی انہیں تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ لوگ اس وقت ایلیاء میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آخر (طویل گفتگو کے بعد) اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک منگوایا۔ جب وہ پڑھا جا چکا تو اس کے دربار میں ہنگامہ برپا ہو گیا (چاروں طرف سے) آواز بلند ہونے لگی۔ اور ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ جب ہم باہر کر دئیے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ (مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے) کا معاملہ تو اب بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ ملک بنی اصفر (قیصر روم) بھی ان سے ڈرنے لگا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ: 2978]
باب اور حدیث میں مناسبت: ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت کچھ اس طرح سے ہوگی کہ لفظی مطابقت کے لحاظ سے ابوسفیان رحمہ اللہ کا فرمان: «إنه يخافه ملك بني الأصفر» کہ یہ ملک بنی اصفر (قیصر روم) بھی ان سے ڈرتے ہیں، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «موضع الترجمة من خبر أبى سفيان قوله: ”يخافه ملك بني الأصفر“.» [المستواري، ص: 167]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «والغرض منه هنا قوله: ”إنه يخاف ملك بني الأصفر“.» [فتح الباري، ج 6، ص: 159]
یعنی ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈرنا، یہ ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت کا پہلو ہے، مزید اگر غور کیا جائے تو یہ لوگ جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک دیا گیا تھا وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوسوں دور تھے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «لانه كان بين المدينة و بين المكان الذى كان قيصر ينزل فيه مدة شهر أو نحوه.» [فتح الباري، ج 6، ص: 159]
”یقینا مدینے اور وہ جگہ جہاں قیصر ہے دونوں میں ایک ماہ یا کچھ لگ بھگ کی مسافت ہے۔“
علامہ عینی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: شام اور حجاز کے درمیان ایک ماہ یا اس سے زائد مسافت ہے۔ [عمدة القاري، ج 14، ص: 236]
بدرالدین بن جماعۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «مطابقة حديث أبى سفيان للترجمة قوله انه ليخافه ملك بني الأصفر صفود كان بالشام، و بين الشام و الحجاز مسيرة شهر.» [مناسبات تراجم البخاري، ص: 88]
”ابوسفیان رحمہ اللہ کی حدیث میں ترجمۃ الباب سے مطابقت یہ ہے کہ ابوسفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: «انه ليخافه ملك بني الأصفر» اور وہ شام میں تھے، شام اور حجاز کے درمیان ایک مہینے کی مسافت ہے۔“
فائدہ: ہم یہاں پر عرب کا نقشہ واضح کر رہے ہیں، نقشہ کو دیکھ کر آپ مسافت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔
آپ کے بے شمار معجزات میں سے یہ بھی آپ کا اہم معجزہ تھا۔
آپ کے دشمن جو آپ سے صدہا میلوں کے فاصلے پر رہتے تھے وہ وہاں سے ہی بیٹھے ہوئے آپ کے رعب سے مرعوب رہا کرتے تھے۔
(ﷺ)
مدینہ طیبہ اور شام جہاں شاہ روم قیصر رہتا تھا کے درمیان ایک ماہ کی مسافت تھی۔
اسی طرح جب اس نے تبوک کے باڈر پر اپنی فوجیں جمع کیں اور رسول اللہ ﷺ کو علم ہوا تو آپ مدینہ طیبہ سے بھاری نفری لے کر اس کے مقابلے کے لیے نکلے۔
مدینہ طیبہ سے تبوک ایک ماہ کی مسافت پر تھا قیصر پر اس قدر رعب پڑا کہ اسے بھاگنے میں عافیت نظر آئی۔
چنانچہ وہ واپس لوٹ گیا۔
رسول اللہ ﷺ کا معجزہ تھا کہ سینکڑوں میل دور بھی دشمن آپ سے مرعوب رہتا تھا۔
کے ذریعہ دعوت اسلام پیش کی تھی۔
مگر افسوس کہ ہرقل حقیقت جان کر بھی اسلام نہ لا سکا اور قومی عار پر اس نے نارِدوزخ کو اختیار کیا۔
بیشتر دنیا داروں کا یہی حال رہا ہے کہ وہ دنیاوی عار کی وجہ سے حق سے دور رہے ہیں یا باوجودیکہ دل سے حق کو حق جانتے ہیں۔
اس طویل حدیث سے بہت سے مسائل کا استخراج ہوتا ہے، جس کے لیے فتح الباری کا مطالعہ ضروری ہے۔
ابوکبشہ آپ ﷺ کی انا حلیمہ دائی کے شوہرکا نام تھا۔
اس لیے قریش آپ ﷺ کو ابوکبشہ سے نسبت دینے لگے تھے کہ وہ آپ ﷺ کا رضاعی باپ تھا۔
اس سے یہ ثابت ہوا کہ ہرقل مسلمان نہیں ہوا تھا۔
گو دل سے تصدیق کرتا تھا مگر آنحضرتﷺ نے خود فرمایا کہ وہ نصرانی ہے، اسلام قبول کرنے کے لیے ظاہر وباطن ہر دو طرح سے مسلمان ہونا ضروری ہے كَلِمَةٍ سوآء کے بارے میں حضرت حافظ صاحب فرماتے ہیں۔
أَنَّ الْمُرَادَ بِالْكَلِمَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَلَى ذَلِكَ يدل سِيَاق الْآيَة الَّذِي تضمنه قَوْله أَن لانعبد إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنَّ جَمِيعَ ذَلِكَ دَاخِلٌ تَحْتَ كَلِمَةِ الْحَقِّ وَهِيَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَالْكَلِمَةُ عَلَى هَذَا بِمَعْنَى الْكَلَامِ وَذَلِكَ سَائِغٌ فِي اللُّغَةِ فَتُطْلَقُ الْكَلِمَةُ عَلَى الْكَلِمَاتِ لِأَنَّ بَعْضَهَا ارْتَبَطَ بِبَعْضٍ فَصَارَتْ فِي قُوَّةِ الْكَلِمَةِ الْوَاحِدَةِ بِخِلَافِ اصْطِلَاحِ النُّحَاةِ فِي تَفْرِيقِهِمْ بَيْنَ الْكَلِمَةِ وَالْكَلَامِ (فتح الباری)
خلاصہ یہی ہے کہ کلمہ سواء سے مراد لااله الا اللہ ہے۔
1۔
اس حدیث کا عنوان سے یہ تعلق ہے کہ اس میں رسول اللہ ﷺ کے اس آیت پر عمل کرنے کا ذکر ہے جیسے امام بخاری ؒ نے عنوان میں ذکر کیا ہے مختلف بادشاہوں کو جو دعوتی خطوط لکھے گئے ان میں اسی آیت کو بنیاد بنا کر رسول ﷺ نے دعوت حق دی۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہرقل بالکل صحیح نتیجے پر پہنچ گیا تھا مگر اس کے درباریوں کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ چل سکی، اور اتنی جراءت ایمانی اس میں نہ تھی کہ وہ اپنی حکومت کوخیر آباد کہہ کرمسلمان ہوجاتا اور دنیا وآخرت کی سعادت حاصل کرلیتا۔
یہی وہ کلمہ سواء یا کلمہ توحید ہے جس کا ذکر ہرالہامی کتاب میں پایا جاتا ہے۔
بعد میں لوگوں نے اس میں کئی طرح کی ملاوٹ کردی جیسا کہ عیسائیوں نے بعد میں الوہیت مسیح اور عقیدہ تثلیث کا شاخسانہ کھڑاکردیا تھا۔
3۔
اس کلمہ سواء کی تین دفعات ہیں:۔
اللہ کے سوا کسی کو عبادت نہ کریں۔
کسی دوسرے کو اللہ کے اسماء صفات اور اختیارات میں شریک نہ کریں۔
۔
کوئی شخص اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو رب نہ بنائے۔
اس آخری دفعہ کا مطلب یہ ہےکہ اللہ کے مقابلے میں احبار ورہبان کی بات کو نہ مانا جائے۔
دورحاضر میں اتحاد بین المذاہب کا بہت چرچاہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق اتحاد بین المذاہب کی بنیاد اگریہی کلمہ ہو، یعنی کلمہ توحید تو یہ تحریک بہت ہی بابرکت ہے، اگر اس کے علاوہ کسی اور بات کو اس کی بنیاد قراردیا گیا ہے تویہ اتحاد کی تحریک نہیں بلکہ اسلام کو نیچا دکھانے کی سازش ہے۔
واللہ المستعان۔
جامع الصحیح میں جگہ جگہ آپ نے اپنے خدا داد اجتہادی ملکہ سے کام لیا ہے۔
آپ کے سامنے یہ نہیں ہوتا کہ ان کو کس مسلک کی موافقت کرنی ہے اورکس کی تردید۔
ان کے سامنے صرف کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہوتی ہے۔
ان ہی کے تحت وہ مسائل واحکام پیش کرتے ہیں۔
وہ کسی مجتہد و امام کے مسلک کے مخالف ہوں یا موافق حضرت امام کو قطعاً یہ پرواہ نہیں ہوتی۔
پھر موجودہ دیوبندی ناشران بخاری کا کئی جگہ یہ لکھنا کہ یہاں امام بخاری ؒنے فلاں امام کا مسلک اختیار کیا ہے بالکل غلط اور حضرت امام کی شان اجتہاد میں تنقیص ہے۔
اس جگہ بھی صاحب تفہیم البخاری نے ایسا ہی الزام دہرایا ہے۔
وہ صاحب لکھتے ہیں کہ امام مالک ؒ کہتے ہیں کہ وعدہ کرنے کا حکم بھی قضا کے تحت آسکتا ہے اور امام بخاری ؒ نے بھی غالباً اس باب میں امام مالک ؒ کا مسلک اختیار کیا ہے۔
(تفہیم البخاری، پ: 10....ص: 117)
سچ ہے المرأ یقیس علی نفسه مقلدین کا چونکہ یہی رویہ ہے وہ مجتہد مطلق امام بخاری ؒ کو بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں جوبالکل غلط ہے۔
حضرت امام خود مجتہد مطلق ہیں۔
رحمه اللہ تعالیٰ۔
اس میں یہ بیان ہے کہ ہرقل نے کہا کہ پیغمبر دغا یعنی عہد شکنی نہیں کرتے، اسی سے امام بخاری نے باب کا مطلب نکالا کہ عہد کا پورا کرنا انبیاءکی خصلت ہے جو بڑی فضیلت رکھتی ہے اور عہد توڑنا دغابازی کرنا ہر شریعت میں منع ہے۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے صلح حدیبیہ کے وقت کفار قریش سے دس سال تک جنگ بندی کا معاہدہ کیا تھا۔
اس دوران میں ابوسفیان قریشی قافلے کے ہمراہ شام کے علاقے میں گئے ہوئے تھے۔
2۔
تفصیلی روایت میں ہرقل کا یہ قول مذکور ہے۔
’’پیغمبر عہد شکنی نہیں کرتے۔
‘‘ امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے وعدہ پوراکرنے کی فضیلت ثابت کی ہے کہ عہد کا پوراکرنا حضرات انبیاء ؑ کی خصلت ہے اور عہد شکنی ہرامت میں قبیح اور مذموم رہی ہے اور انبیائے كرام ؑ سابقین نے اس سے منع کیا ہے۔
دغا بازی اور عہد شکنی رسولوں کی صفات سے نہیں کیونکہ وہ تو ہمیشہ عہد کی پاسداری کرتے اور اسے اچھی نظر سے دیکھتے تھے۔
ایمان لانے کے بعد مسلمانوں کے لئے دونوں انجام نیک اور اچھے ہیں۔
فتح کی صورت کو تو سب اچھی سمجھتے ہیں لیکن لڑائی میں موت اور شہادت ایک مومن کا آخری مقصود ہے‘ اللہ کے راستے میں لڑتا ہے اور اپنی جان دے دیتا ہے‘ جب اللہ کی بارگاہ میں پہنچتا ہے تو اس کی نوازشیں اور ضیافتیں اسے خوب حاصل ہوتی ہیں۔
1۔
مسلمان لڑتے لڑتے اپنی جان،جاں آفریں کے حوالے کردیتا ہے یا فتح سے ہمکنار ہوتا ہے،اس کے لیے دونوں انجام اچھے ہیں۔
فتح کی صورت میں تو تمام لوگ اسے اچھے انجام سے تعبیر کرتے ہیں لیکن جنگ میں موت اور شہادت بھی ایک گم گشتہ سرمایہ ہے۔
جب وہ اللہ کے حضور پہنچتاہے تو اللہ کی طرف سے بہت سی نوازشات اسے حاصل ہوتی ہیں۔
2۔
امام بخاری ؒنے آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے مذکورہ حدیث پیش کی ہے کہ (إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ ۖ)
سے مراد فتح یا شہادت ہے۔
وفقنا اللہ لما یحب و یرضی آمین۔
(1)
خط لکھنے کا یہ انداز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خط کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہونا چاہیے، نیز کاتب کا نام پہلے اور مکتوب الیہ کا نام بعد میں لکھا جائے۔
(2)
یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک خاص انداز سے اہل کتاب کو خط لکھتے وقت سلام لکھا جا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا کہ سلام اس شخص پر ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔
مطلق طور پر اہل کتاب کو سلام میں پہل نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہدایت کی اتباع اور حق سے تمسک کے ساتھ مشروط کرکے سلام لکھا جائے۔
(فتح الباري: 58/11)
اس حدیث میں رشتے داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا حکم عام ہے۔
اس میں مسلمان اور مشرک کا فرق نہیں کیا گیا۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ تمھیں ماؤں کے متعلق حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے۔
‘‘ آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ تمھیں تمھارے آباؤ اجداد کے متعلق حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ تمھیں زیادہ قریبی رشتے دار، پھر ان کے بعد دوسرے تعلق داروں کے متعلق بھی وصیت کرتا ہے۔
‘‘ (سنن ابن ماجة، الأدب، حدیث: 3661)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’آپ کہہ دیں: میں اس کام پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا،البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں۔
‘‘ (الشوری42: 23)
اس آیت کریمہ سے بھی صلہ رحمی کی اہمیت کا پتا چلتا ہے، خواہ وہ رشتے دار مشرک ہی کیوں نہ ہو۔
(1)
فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اس سے مراد وہ عرصہ ہے، جس میں قریش مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر 6ھ میں دس سال تک لڑائی نہ کرنے کی صلح کی تھی۔
(2)
هِرَقل: مشہور قول کے مطابق، ھاء پر زیر ہے اور را پر زبر، قاف ساکن ہے، اگرچہ ایک قول کے مطابق را ساکن ہے اور قاف پر زیر ہے، یعنی هرقل اور یہ روم کے بادشاہ کا نام ہے۔
(3)
ترجمان: امام نووی کے نزدیک تاء پر زبر اور جیم پر پیش پڑھنا بہتر ہے، اگرچہ دونوں پر زیر اور دونوں پر پیش پڑھنا بھی درست ہے، ترجمہ کرنے والا، مترجم، ’’ایک زبان کو دوسری زبان میں منتقل کرنے والا۔
‘‘ (4)
لَوْلَا مَخَافَةُ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ: اگر اندیشہ نہ ہوتا کہ میری طرف سے جھوٹ نقل کیا جائے گا، جس سے معلوم ہوتا ہے، اسے یہ اندیشہ نہیں تھا کہ وہ اسے وہاں جھوٹا قرار دیں، لیکن وہ یہ سمجھتا تھا کہ میں جو یہاں جھوٹی بات کہوں گا مکہ جا کر وہ اسے نقل کریں گے تو لوگ مجھے جھوٹا قرار دیں گے، اس طرح وہ جھوٹ بولنا اپنے مقام و مرتبہ کے مناسب نہیں سمجھتا تھا، جب اب صورت حال یہ ہے کہ مسلمان لیڈروں کا اوڑھنا بچھونا ہی جھوٹ ہے اور اس کے بغیر ان کا کام ہی نہیں چل سکتا۔
(5)
أشراف: شريف کی جمع ہے، مراد عمومی اور غالب صورت ہے، کہ عام طور پر اہل نخوت اور چوہدری لوگ ابتداً انبیاء کی مخالفت کرتے ہیں، اگرچہ کچھ ان کا ساتھ بھی دیتے ہیں۔
(6)
سخطة له: دین کے کسی عیب یا نقص سے ناراض ہو کر مرتد ہونا، کیونکہ کسی اور سبب سے الگ ہونا ناممکن ہے۔
(7)
تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنا وَبَيْنَهُ سِجَالً: ا کہ ہمارے اور اس کے درمیان لڑائی کا اسلوب ڈول کھینچنے کا ہے، کبھی وہ غالب آتا ہے، کبھی ہم، کیونکہ اس وقت تین عظیم جنگیں ہو چکی تھیں، بدر، اُحد اور خندق، بدر میں مسلمان غالب، اُحد میں بظاہر وہ غالب، اگرچہ انجام کے اعتبار سے مسلمان فاتح تھے اور خندق میں کافر حملہ آور ہوئے تھے، لیکن ناکام لوٹے تھے۔
(8)
مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ: کہ مجھے کہیں ایسا موقعہ نہیں ملا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی عیب اور کمزوری منسوب کر سکوں، لیکن یہاں چونکہ معاہدہ کا تعلق آئندہ زمانہ سے تھا، اس لیے میں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ عہد شکنی نہیں کرے گا، اپنی لاعلمی کا اظہار کیا اور ان کے مکان رفیع کو گرانے کی کوشش کی، لیکن ہرقل نے اس کی اس بات کی کوئی اہمیت نہیں دی، اس لیے اپنے تبصرہ میں کہا، تیرا خیال اور قول یہ ہے کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتا۔
(9)
إِذاخَالَطَ بشَاشَة القُلَوب: جب وہ دل کے انشراح اور فردت میں اتر جاتا ہے، اس میں گھر بنا لیتا ہے تو وہ نکلتا نہیں ہے اور کوئی انسان ایمان سے پھر کر ارتداد اختیار نہیں کرتا۔
(10)
إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا: اگر تمہاری یہ باتیں سچی ہیں تو پھر یہ زمین جہاں میں کھڑا ہوں، وہ بھی ان کے اقتدار اور حکومت میں آ جائے گی۔
ہرقل نے انتہائی بصیرت اور زیرکی سے ابو سفیان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انتہائی جچے تلے اور بنیادی سوالات کیے اور اس کے جوابات کی روشنی میں، صحیح صحیح نتائج اخذ کیے اور اسے یقین ہو گیا کہ آپ واقعی نبی ہیں اور چونکہ وہ تورات اور انجیل کا ماہر تھا اور علم نجوم سے آگاہ تھا، اس لیے اس کو پتہ چل چکا تھا کہ آخری نبی پیدا ہونے والا ہے اور آپ کی علامات سے اس کو آپ کے نبی ہونے کا یقین ہو گیا، اس لیے اس نے آپ سے انتہائی عقیدت اور محبت کا اظہار کیا، لیکن اقتدار کی ہوس اور خواہش نے اسے اندھا کر دیا اور آپ کے اس جملہ اسلم تسلم سے وہ یہ صحیح نتیجہ نہ نکال سکا کہ مسلمان ہونے کے بعد میری حکومت برقرار رہے گی، اس لیے مسلمان نہ ہوا بلکہ جنگ موتہ 8ھ میں مسلمانوں کے خلاف میدان مقابلہ میں آیا اور آپ نے یہاں سے اسے دوبارہ خط لکھا، لیکن اس نے پھر بھی اپنے اسلام کا اظہار کیا، آپ کے جواب میں، اپنے مسلمان ہونے کا اظہار کیا، لیکن مسلمانوں کے مقابلہ سے پیچھے نہ ہٹا اور اپنی قوم کے سامنے اسلام کا اظہار نہ کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس نے جھوٹ لکھا ہے، وہ عیسائیت پر قائم ہے۔
‘‘ فوائد ومسائل: آپﷺ نے ہرقل کے نام کو خط لکھا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کافر کو بھی خط لکھا جائے تو اس کا آغاز بسم اللہ سے کیا جائے گا، پھر لکھنے والا اپنا نام شروع میں لکھ دے گا تاکہ مکتوب الیہ کو پتہ چل جائے لکھنے والا کون ہے اور اس کے مطابق خط کو اہمیت دے، نیز مکتوب الیہ کے لیے، اس کے مقام و مرتبہ کے مطابق مناسب تعظیمی القاب لکھے جائیں گے، تاکہ وہ شروع ہی سے نفرت و غضب کا شکار نہ ہو جائے، اس لیے آپ نے ہرقل کے لیے عظیم الروم کے الفاظ استعمال کیے اور اس خط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کافر کو سلام کہنے میں پہل نہیں کی جائے گی، اکثر علماء کا یہی قول ہے اور صحیح احادیث سے اس کا تائید ہوتی ہے، بلکہ بعض علماء کا خیال تو یہ ہے کہ بدعتی اور فاسق و فاجر کو بھی سلام نہیں کہا جائے گا اور آپﷺ نے اَسلِم تَسلَم کے الفاظ کے ذریعہ انتہائی بلیغ اور مؤثر انداز میں انتہائی جامعیت اور اختصار کے ساتھ ہر قسم کی دنیوی اور اخروی سلامتی کی ضمانت دے دی تھی اور پوری قوم کے اجروثواب کے سمیٹنے کا شوق اور ترغیب دلائی تھی، اگر تم مسلمان ہو گئے تو تمہاری رعایا بھی تمہارے سبب مسلمان ہو جائے گی اور تمہیں اس کا اجروثواب ملے گا، اگر تم مسلمان نہ ہوئے تو تمہارے ڈر اور خوف کی وجہ سے تمہاری کمزور رعایا جن کی اکثریت کاشتکاروں اور کسانوں پر مشتمل ہے، وہ مسلمان نہیں ہو گی اور ان کا وبال بھی تم پر پڑے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط میں اس کی طرف ایک آیت لکھی جس کے بارے میں دو نظریات ہیں۔
(1)
آپﷺ نے یہ عبارت اپنے کلام کے طور پر لکھی، کیونکہ یہ خط آپ نے 7ھ میں لکھا جبکہ یہ آیت وفد نجران کی آمد پر 9ھ میں اتری، گویا آپﷺ کے الفاظ آنے والی آیت کے موافق نکلے۔
(2)
یہ آیت وفد نجران کی آمد سے پہلے اتر چکی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد کی آمد پر ان کو پڑھ کر سنائی، اس صورت میں اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کافر کو بھی دعوت و تبلیغ کے لیے خط میں آیات قرآن لکھی جا سکتی ہیں۔
ابن ابی کبشہ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپﷺ کو اس نام سے تعبیر کرنے کی مختلف وجوہ بیان کی جاتی ہیں، (1)
ابو کبشہ آپ کے نانا یا دادا کا نام تھا اور عربوں کا یہ دستور تھا کہ جب وہ کسی کی تحقیر کرنا چاہتے تو اسے اس کے کسی غیر معروف دادے یا نانے کی طرف منسوب کرتے۔
(2)
آپﷺ کے رضاعی باپ حارث کی بیٹی کبشہ تھی، اس لیے اسے ابو کبشہ کہا جاتا تھا۔
(3)
ابو کبشہ آپﷺﷺ کی رضاعی ماں حلیمہ کے باپ کی کنیت تھی۔
(4)
ابو کبشہ نامی ایک بت پرست شخص تھا، جس نے اپنی قوم کے دین بت پرستی کو چھوڑ کر شعریٰ ستارہ کی پرستش شروع کر دی تھی تو گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرح اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا، بہرحال ابو سفیان جو اس وقت کافر تھا، اس نے آپﷺ کی نسبت آپ کے معروف اور مشہور دادے عبدالمطلب کی بجائے کسی ایسی شخصیت کی طرف کی جو گمنام اور غیر معروف تھا، آخر کار اللہ تعالیٰ نے اپنی توفیق سے ابو سفیان کو نوازا، اس کے دل میں اسلام داخل کر دیا اور اسے مسلمان ہو جانے کی توفیق عنایت فرمائی اور وہ فتح مکہ کے موقعہ پر مسلمان ہو گیا۔