صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ مَنْ أَرَادَ غَزْوَةً فَوَرَّى بِغَيْرِهَا، وَمَنْ أَحَبَّ الْخُرُوجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ: باب: لڑائی کا مقام چھپانا (دوسرا مقام بیان کرنا) اور جمعرات کے دن سفر کرنا۔
حدیث نمبر: 2950
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ ، وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ " .مولانا داود راز
´مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا ، انہیں معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں ان کے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے دن سفر کرنا پسند فرماتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
2950. حضرت کعب بن مالک ؓ سے مزید روایت ہے کہ نبی ﷺ غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے۔ اور آپ ﷺ جمعرات کے روز سفر کرنا پسند کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2950]
حدیث حاشیہ: غزوہ تبوک کے موقع پر آنحضرتﷺ نے توریہ نہیں فرمایا۔
بلکہ صاف صاف لفظوں میں اس جنگ کا اعلان فرما دیا تھا کیونکہ ہر لحاظ سے یہ مقابلہ بہت ہی سخت تھا اور مسلمانوں کو اس کے لئے پورے پورے طور پر تیار ہونا تھا۔
مقصد باب یہ کہ امام حالات کے تحت مختار ہے کہ وہ حسب موقع توریہ سے کام لے یا نہ لے جیسا موقع محل دیکھے ویسا ہی کرلے۔
بلکہ صاف صاف لفظوں میں اس جنگ کا اعلان فرما دیا تھا کیونکہ ہر لحاظ سے یہ مقابلہ بہت ہی سخت تھا اور مسلمانوں کو اس کے لئے پورے پورے طور پر تیار ہونا تھا۔
مقصد باب یہ کہ امام حالات کے تحت مختار ہے کہ وہ حسب موقع توریہ سے کام لے یا نہ لے جیسا موقع محل دیکھے ویسا ہی کرلے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2950 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
2950. حضرت کعب بن مالک ؓ سے مزید روایت ہے کہ نبی ﷺ غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے۔ اور آپ ﷺ جمعرات کے روز سفر کرنا پسند کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2950]
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک کام کا ارادہ کرکے کسی مصلحت کے پیش نظر کسی دوسرے کا م کااظہار کرنا توریہ کہلاتا ہے۔
جنگی حالات کے پیش نظر ایسا کرنا پڑتا ہے تاکہ دشمن کو اس کی خبر نہ ہو اور وہ مقابلے کی تیاری نہ کرسکے۔
لیکن غزوہ تبوک کے وقت آپ نے توریہ نہیں کیا بلکہ صاف صاف الفاظ میں اس جنگ کا اعلان کردیا کیونکہ ہراعتبار سے مقابلہ بہت سخت تھا۔
ایک طاقتور حکومت سے ٹکر لینا تھی اور مسلمانوں کو اس لڑنے کے لیے پورے طور پر تیاری کرنا تھی۔
2۔
مقصد یہ ہے کہ امام حالات کے پیش نظر اپنے اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔
وہ حسب موقع توریہ سے کام لے یا اپنی فوج کو صاف صاف بتادے،یعنی جیسا موقع محل دیکھے ویسا ہی کرے۔
3۔
جمعرات کے دن سفر کرنا آ پ کو پسند تھا آپ نے اس پر ہمیشگی نہیں فرمائی بلکہ آپ سے ہفتے کے دیگر ایام میں بھی سفر کرنا ثابت ہے جیسا کہ آئندہ احادیث سے واضح ہے۔
1۔
ایک کام کا ارادہ کرکے کسی مصلحت کے پیش نظر کسی دوسرے کا م کااظہار کرنا توریہ کہلاتا ہے۔
جنگی حالات کے پیش نظر ایسا کرنا پڑتا ہے تاکہ دشمن کو اس کی خبر نہ ہو اور وہ مقابلے کی تیاری نہ کرسکے۔
لیکن غزوہ تبوک کے وقت آپ نے توریہ نہیں کیا بلکہ صاف صاف الفاظ میں اس جنگ کا اعلان کردیا کیونکہ ہراعتبار سے مقابلہ بہت سخت تھا۔
ایک طاقتور حکومت سے ٹکر لینا تھی اور مسلمانوں کو اس لڑنے کے لیے پورے طور پر تیاری کرنا تھی۔
2۔
مقصد یہ ہے کہ امام حالات کے پیش نظر اپنے اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔
وہ حسب موقع توریہ سے کام لے یا اپنی فوج کو صاف صاف بتادے،یعنی جیسا موقع محل دیکھے ویسا ہی کرے۔
3۔
جمعرات کے دن سفر کرنا آ پ کو پسند تھا آپ نے اس پر ہمیشگی نہیں فرمائی بلکہ آپ سے ہفتے کے دیگر ایام میں بھی سفر کرنا ثابت ہے جیسا کہ آئندہ احادیث سے واضح ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2950 سے ماخوذ ہے۔