صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ مَنْ أَرَادَ غَزْوَةً فَوَرَّى بِغَيْرِهَا، وَمَنْ أَحَبَّ الْخُرُوجَ يَوْمَ الْخَمِيسِ: باب: لڑائی کا مقام چھپانا (دوسرا مقام بیان کرنا) اور جمعرات کے دن سفر کرنا۔
حدیث نمبر: 2949
وَعَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، كَانَ يَقُولُ : لَقَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْرُجُ إِذَا خَرَجَ فِي سَفَرٍ إِلَّا يَوْمَ الْخَمِيسِ " .مولانا داود راز
´یونس سے روایت ہے ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے خبر دی کہ` کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں جمعرات کے سوا اور کسی دن نکلیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2605 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کس دن سفر کرنا مستحب ہے؟`
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر میں نکلیں (یعنی آپ اکثر جمعرات ہی کو نکلتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2605]
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بہت کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے علاوہ کسی اور دن سفر میں نکلیں (یعنی آپ اکثر جمعرات ہی کو نکلتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2605]
فوائد ومسائل:
دن سب اللہ کے ہیں، مگر جمعرات کو اہمیت حاصل ہے کہ اس روز اللہ کے حضور اعمال پیش ہوتے ہیں۔
دن سب اللہ کے ہیں، مگر جمعرات کو اہمیت حاصل ہے کہ اس روز اللہ کے حضور اعمال پیش ہوتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2605 سے ماخوذ ہے۔