حدیث نمبر: 2948
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَلَّمَا يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ ، فَغَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا ، وَمَفَازًا وَاسْتَقْبَلَ غَزْوَ عَدُوٍّ كَثِيرٍ ، فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ عَدُوِّهِمْ ، وَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ " .
مولانا داود راز

´اور مجھ سے احمد بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں یونس نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا آپ بیان کرتے تھے کہ` ایسا کم اتفاق ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جہاد کا قصد کریں اور وہی مقام بیان فرما کر اس کو نہ چھپائیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کو جانے لگے تو چونکہ یہ غزوہ بڑی سخت گرمی میں ہونا تھا ، لمبا سفر تھا اور جنگلوں کو طے کرنا تھا اور مقابلہ بھی بہت بڑی فوج سے تھا ، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے صاف صاف فرما دیا تھا تاکہ دشمن کے مقابلہ کے لیے پوری تیاری کر لیں چنانچہ ( غزوہ کے لیے ) جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانا تھا ( یعنی تبوک ) اس کا آپ نے صاف اعلان کر دیا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2948
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2947 | بلوغ المرام: 1090

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2947 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2947. حضرت کعب بن مالک ؓسے روایت ہے، ان سے(ان کے بیٹے) حضرت عبد اللہ ؓنے بیان کیا اور (حضرت کعب ؓکے نابینے ہونے کے بعد) ان کے دوسرے بیٹوں میں سے وہی (عبد اللہ ؓ) انھیں راستے میں لے کر چلتے تھے۔ انھوں نے کہا: میں نے (اپنے والد محترم)حضرت کعب بن مالک ؓسے سنا جب وہ (غزوہ تبوک میں) رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوے کا ارادہ کرتے تو کسی دوسرے مقام کی طرف اشارہ کرتے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:2947]
حدیث حاشیہ: لفظ توریہ کے معنی یہ کہ کسی بات کو اشارے کنائے سے کہہ دینا کہ صاف طور سے کوئی نہ سمجھ سکے۔
ایسا توریہ جنگی مصالح کے لئے جائز ہے۔
لعل الحکمة فیه ماروي عن قوله صلی اللہ علیه وسلم بورك لأمتي في بکورھا یوم الخمیس وکونه صلی اللہ علیه وسلم کان یحب الخروج یوم الخمیس لا یستلزم المواظبة علیه القیام مانع منه وسیأتي بعد باب أنه خرج في بعض أسفارہ یوم السبت ثم أورد المصنف طرفا من حدیث کعب بن مالك الطویل وھو ظاھر فیما ترجم له قال الکرماني کعب ھو ابن مالك الأنصاري أحد الثلاثة الذین خلفوا وصار أعمی وکان له أبناء وکان عبداللہ یقودہ من بین ساتر بنیه (حاشیة بخاري)
یعنی اس میں حکمت یہ کہ آنحضرت ﷺ سے مروی ہے کہ میری امت کے لئے جمعرات کے روز صبح سفر کرنے میں برکت رکھی گئی ہے مگر اس سے مواظبت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ بعض سفر آپﷺ نے ہفتے کو بھی شروع فرمائے ہیں۔
حضرت امامؒ یہاں کعب بن مالک کی طویل حدیث لائے ہیں جس سے ترجمۃ الباب ظاہر ہے۔
کعب بن مالک وہی انصاری صحابی ہیں جو تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے۔
آپؓ کے کئی لڑکے تھے جن میں سے عبداللہ نامی آپ کا ہاتھ پکڑ کے چلا کرتا تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2947 سے ماخوذ ہے۔