صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ قِتَالِ الَّذِينَ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ: باب: ان لوگوں سے لڑائی کا بیان جو بالوں کی جوتیاں پہنتے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَزَادَ فِيهِ أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " رِوَايَةً صِغَارَ الْأَعْيُنِ ذُلْفَ الْأُنُوفِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " .´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے لڑائی نہ کر لو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو گے جن کے چہرے تہ شدہ ڈھالوں جیسے ہوں گے ۔ “ سفیان نے بیان کیا کہ اس میں ابوالزناد نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ زیادہ نقل کیا کہ ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی ، ناک موٹی ، چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بتہ چمڑہ لگی ڈھال ہوتی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کہتے ہیں کہ دنیا میں تین قومیں ایسی ہیں کہ انہوں نے خاص طور پر ساری قوم نے اسلام قبول کرلیا‘ عرب‘ ترک اور افغان۔
یہ جب اسلام میں داخل ہوئے تو روئے زمین پر سب ہی مسلمان ہوگئے۔
﴿ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ﴾ باب ہار جانے کے بعد امام کا سواری سے اترنا اور بچے کھچے لوگوں کی صف باندھ کر اللہ سے مدد مانگنا
1۔
چوڑی ڈھال سے تشبیہ سے مراد یہ ہے کہ چہرے گول موٹے اور زیادہ گوشت والے ہوں گے۔
2۔
حدیث میں مذکور جملہ صفات ترکوں پر صادق آتی ہیں جو رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین ؓکے عہد تک کافر تھے۔
جامع ترمذی کی روایت میں ہے۔
’’دجال مشرق میں خراسان سے نکلے گا۔
اس کے پیروکار چوڑے چہروں والے لوگ ہوں گے گویا کہ وہ مضبوط چوڑی چوڑی ڈھالیں ہیں۔
‘‘ (جامع الترمذي، الفتن، حدیث2237)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ترک بار بار مسلمانوں سے جنگیں کریں گے۔
واللہ أعلم۔