حدیث نمبر: 2927
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ نِعَالَ الشَّعَرِ ، وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، کہا میں نے حسن سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کی جوتیاں پہنے ہوں گے ( یا ان کے بال بہت لمبے ہوں گے ) اور قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ان لوگوں سے لڑو گے جن کے منہ چوڑے چوڑے ہوں گے گویا ڈھالیں ہیں چمڑا جمی ہوئی ( یعنی بہت موٹے منہ والے ہوں گے ) ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2927
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3592 | سنن ابن ماجه: 4098

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
2927. حضرت عمرو بن تغلب ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بلاشبہ قیامت کی علامات میں سے ہے کہ تم ایسے لوگوں سے جنگ کرو گے جو بالوں والے جوتے پہنتے ہوں گے۔ اور بے شک قیامت کی نشانیوں میں سے (یہ بھی) ہے کہ تم چوڑے چہرے والے لوگوں سے جنگ کرو گے، گویا ان کے چہرے چوڑی ڈھالیں ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2927]
حدیث حاشیہ: حدیث میں مطوقة یا مطرقة ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اقوام تاتار مراد ہیں جو بعد میں دولت اسلام سے مشرف ہوئے۔
ترک سے مراد یہاں وہ قوم ہے جو یافث بن نوح کی اولاد میں ہے۔
علی العموم تاتار کے لوگ آنحضرتﷺ اور خلفائے اسلام کے زمانوں تک کافر رہے۔
یہاں تک کہ ہلاکو خاں ترک نے عربوں پر چڑھائی کرکے خلافت عباسیہ کا کام تمام کیا۔
اس کے بعد کچھ ترک مشرف باسلام ہوئے۔
وہب بن منبہ نے کہا کہ ترک یاجوج ماجوج کے چچیرے بھائی ہیں۔
جب سد بنائی گئی تو یہ لوگ غائب تھے وہ دیوار کے اسی طرف رہ گئے۔
اسی لئے ان کا نام ترک یعنی متروک ہوگیا‘ واللہ أعلم بالصواب۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2927 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3592 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3592. حضرت عمرو بن تغلب ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’تم قیامت سے پہلے ایسے لوگوں سے جنگ کروگے جو بالوں کی جوتیاں پہنیں گے۔ اور تم ایسی قوم سے قتال کرو گے جن کے چہرے گویا کوٹی ہوئی تہ بہ تہ ڈھالیں ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3592]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی ایک پیش گوئی کا ذکر ہے جیسا کہ قبل ازیں احادیث کے فوائد میں اس کی وضاحت ہو چکی ہےیہ پیش گوئی دو قوموں سے متعلق ہے۔
ان میں ایک ترک ہیں۔
اس کی تفصیل حدیث 2927۔
کے تحت بیان ہو چکی ہے۔
امام بخاری ؒ نے کتاب الجہاد میں اس حدیث پر’’ ترکوں سے لڑائی ‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے۔
واللہ المستعان۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3592 سے ماخوذ ہے۔