حدیث نمبر: 2925
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُقَاتِلُونَ الْيَهُودَ حَتَّى يَخْتَبِيَ أَحَدُهُمْ وَرَاءَ الْحَجَرِ ، فَيَقُولُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( ایک دور آئے گا جب ) تم یہودیوں سے جنگ کرو گے ۔ ( اور وہ شکست کھا کر بھاگتے پھریں گے ) کوئی یہودی اگر پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ اے اللہ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اسے قتل کر ڈال ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الجهاد والسير / حدیث: 2925
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3593 | صحيح مسلم: 2921 | سنن ترمذي: 2236

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3593 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3593. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’تم سے یہودی جنگ کریں گے اور تم اس جنگ میں ان پر غالب آجاؤ گے یہاں تک کہ پتھر بول کرکہے گا: اےمسلمان!یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے آؤ اور اسے قتل کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3593]
حدیث حاشیہ: یہ اس وقت ہوگا جب عیسیٰ ؑ اتریں گے اور یہودی لوگ دجال کے لشکری ہوں گے۔
حضرت عیسیٰ ؑ باب لد کے پاس دجال کو ماریں گے اور اس کے لشکر والے جابجا مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3593 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3593 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3593. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کوکو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’تم سے یہودی جنگ کریں گے اور تم اس جنگ میں ان پر غالب آجاؤ گے یہاں تک کہ پتھر بول کرکہے گا: اےمسلمان!یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے آؤ اور اسے قتل کرو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3593]
حدیث حاشیہ:

مسند امام احمد میں اس حدیث کی تفصیل بیان ہوئی ہے کہ مسیح الدجال مدینہ طیبہ سے باہر ایک شوریلی زمین میں پڑاؤ کرے گا۔
وہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر مسلط کرے گا حتی کہ وہاں اس کے پیرو کار قتل ہو جائیں گے یہودی پتھروں اور درختوں کی اوٹ میں چھپتے پھیریں گے۔
اس وقت درخت اور پتھر بول کر کہیں گے۔
اے مسلمان!میرے پیچھے یہودی چھپا بیٹھا ہےاسے قتل کرو۔
(مسند أحمد: 67/2)
سنن ابن ماجہ میں ان الفاظ کا اضافہ ہے دجال کے ساتھ اس وقت ستر ہزار یہودی ہوں گے حضرت عیسیٰ ؑ " اب لد"کے پاس دجال کو قتل کریں گے اس طرح یہودیوں کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
(سنن ابن ماجة، الفتن، حدیث: 4077)

اس میں رسول اللہ ﷺ کی ایک پیش گوئی کا بیان ہے جو قرب قیامت پوری ہو گی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3593 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2236 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´دجال کی نشانیوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود تم سے لڑیں گے اور تم ان پر غالب ہو جاؤ گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے قتل کر دو ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2236]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1 ؎: دیگراحادیث کے مطالعہ سے اس ضمن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسا مہدی اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام کے دور میں جاری جہاد کے وقت ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2236 سے ماخوذ ہے۔