صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الرَّمْيِ: باب: تیر اندازی کی ترغیب دلانے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ ، فَقَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا ، وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ ، قَالَ : فَأَمْسَكَ أَحَدُ الْفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكُمْ لَا تَرْمُونَ ، قَالُوا : كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْمُوا فَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ " .´ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ، انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ بنو اسلم کے چند لوگوں پر گزر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسماعیل علیہ السلام کے بیٹو ! تیر اندازی کرو کہ تمہارے بزرگ دادا اسماعیل علیہ السلام بھی تیرانداز تھے ۔ ہاں ! تیر اندازی کرو ، میں بنی فلاں ( ابن الاورع رضی اللہ عنہ ) کی طرف ہوں ۔ بیان کیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہو گئے تو ( مقابلے میں حصہ لینے والے ) دوسرے ایک فریق نے ہاتھ روک لیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات پیش آئی ، تم لوگوں نے تیر اندازی بند کیوں کر دی ؟ دوسرے فریق نے عرض کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہو گئے تو بھلا ہم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تیر اندازی جاری رکھو میں تم سب کے ساتھ ہوں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوا کہ عربوں کے جد امجد حضرت اسماعیل ؑ بھی بڑے زبردست سپاہی تھے اور نیزہ بازی ہی ان کا مشغلہ تھا۔
آج کل بندوق‘ توپ‘ ہوائی جہاز اور جتنے بھی آلات حرب وجود میں آچکے ہیں وہ سب اسی ذیل ہیں۔
ان سب میں مہارت پیدا کرنا سب کو اپنانا یہ خدا پرستی کے خلاف نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان پر ان کا سیکھنا فرض ہے۔
1۔
سیرت طیبہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تمام صحابہ کرام ؓ کو سپاہیانہ اور مجاہدانہ زندگی بسر کرنے کی تلقین فرمائی جیسا کہ مذکورہ حدیث سے واضح ہوتا ہے، نیز یہ بھی معلوم ہو اکہ حضرت اسماعیل ؑبھی بہت بڑے سپاہی تھے اور نیز ہ بازی ہی ان کا مشغلہ تھا۔
آج کل بندوق،توپ،میزائل الغرض جتنے بھی جنگی ہتھیار وجود میں آچکے ہیں وہ سب اس میں شامل ہیں۔
ان سب میں مہارت پیدا کرنا مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔
2۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے اس رمی کو ہی طاقت قراردیا ہے۔
(صحیح مسلم، الإمارة، حدیث 4946(1917)
چنانچہ آج ہر حکومت کو رمی پر فخر ہے۔
جس حکومت کو رمی جیسی پوری قوت حاصل ہے، اس کی دوسروں پر برتری ہے، بم، ایٹم بم اور میزائل وغیرہ سب کو رمی شامل ہے اور سب آلات جنگ اسی رمی کے ضمن میں آتے ہیں۔
رسول کریم ﷺ نے نسب کے لحاظ سے انہیں حضرت اسماعیل ؑ کی طرف منسوب فرمایا۔
اسی سے باب کا مطلب ثابت ہواکہ اہل یمن اولاد اسماعیل ؑ ہیں۔
اس حدیث کی روسے آج کل بندوق کی نشانہ بازی اور دوسرے جدید اسلحہ کا استعمال سیکھنا مسلمانوں کے لیے اسی بشارت میں داخل ہے، مگر یہ فساد اور غارت گری اور بغاوت کے لیے نہ ہو۔
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ﴾
1۔
امام بخاری ؒ اس حدیث سے ثابت کرنا چاہتے تھے کہ حارثہ بن عمرو کا نسب اہل یمن سے متصل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسلم سے فرمایاتھا: ’’اے ا ولاد اسماعیل!تم تیر اندازی کرو۔
‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ اہل یمن بھی حضررت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہیں۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن باب نزل القرآن بلسان قریش قبل الحدیث: 4984)
کیونکہ بنو اسلم اہل یمن سے ہیں۔
2۔
اس استدلال پر اعتراض ہوتا ہے کہ بنو اسلم کا یمن سے ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ تمام اہل یمن حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہوں۔
بہرحال قبیلہ ربیعہ اور مضر کا نسب حضرت اسماعیل ؑ سے ملتا ہے۔
اس پر تمام علماء کااتفاق ہے۔
تمام اہل یمن کانسب قحطان تک یقینی ہے، اس کے آگے اختلاف ہے، البتہ امام بخاری ؒ کا رجحان یہ ہے کہ تمام اہل یمن حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہیں۔
(صحیح البخاري، فضائل القرآن، حدیث: 4987)
واللہ أعلم۔
باب اورحدیث میں یہی وجہ مناسبت ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ باپ دادا کے اچھے کاموں کو فخر کے ساتھ اپنانا بہتر ہے۔
1۔
جزیرہ عرب کے باشندے بنواسماعیل اورشام و فلسطین کے باشندے بنو سرائیل ہیں۔
حضرت اسماعیل ؑ نے یمن کے ایک جرہم نامی قبیلے سے عربی زبان سیکھی اور آپ بہترین تیر ساز اور تیرانداز تھے۔
عنوان میں حضرت اسماعیل ؑ کا ذکر تھا اور حدیث بھی آپ کے ذکر خیر پر مشتمل ہے۔
2۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باپ داداکے اچھے کاموں کو عمل میں لانا باعث تعریف ہے باتوں میں "پدرم سلطان بود" کہنا قابل مذمت ہے۔
3۔
ذکر کردہ آیت کے آخر میں ہے کہ حضرت اسماعیل ؑ رسول اللہ بن تھے آپ کے ابراہیمی شریعت دے کر بنو جرہم کی طرف بھیجا گیا۔
رسول اللہ ﷺ انھی کی اولاد سے ہیں آپ کا صادق الوعدہ ہونا مشہور تھا۔
اللہ سے پابندوں سے جو وعدہ کیا اسے ضرور پورا کرتے خواہ اس وعدہ وفائی میں جان تک قربان کرنا پڑے۔
واللہ المستعان۔