صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ الْكَافِرِ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيُسَدِّدُ بَعْدُ وَيُقْتَلُ: باب: کافر اگر کفر کی حالت میں مسلمان کو مارے پھر مسلمان ہو جائے، اسلام پر مضبوط رہے اور اللہ کی راہ میں مارا جائے تو اس کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى الْقَاتِلِ فَيُسْتَشْهَدُ " .´ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر ہنس دے گا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا تھا اور پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہو گئے ۔ پہلا وہ جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہ شہید ہو گیا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قاتل کو توبہ کی توفیق دی اور وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوا ۔ اس طرح دونوں قاتل و مقتول بالآخر جنت میں داخل ہو گئے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
جنتی ہے تو یقیناً ایسے انسان کا قاتل جہنم میں جائے گا لیکن اللہ پاک خود اپنی قدرت کے عجائبات ملاحظہ فرماتا ہے تو اسے ہنسی آجاتی ہے کہ ایک شخص نے کافروں کی طرف سے لڑتے ہوئے ایک مسلمان مجاہد کو شہید کردیا پھر خدا کی قدرت کہ اسے بھی یہ ایمان کی حالت نصیب ہوئی اور اس کے بعد وہ مسلمانوں کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوگیا اور اس طرح قاتل اور مقتول دونوں جنت میں داخل ہوگئے۔
اللہ پاک جب اپنی قدرت کا یہ عجوبہ دیکھتا ہے تو ہنسی آجاتی ہے جیسے اللہ کی اور صفات حق ہیں اس طرح اس کا ہنسنا بھی حق ہے۔
جس کی کیفیت میں کرید کرنا بدعت ہے‘ سلف کا یہی مسلک ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام لانے سے اور جہاد کرنے سے کفر کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں‘ امام احمد اور ہمام کی روایت سے یہ صراحت نکلتی ہے کہ ان دو شخصوں میں ایک مومن تھا ایک کافر۔
پس اگر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو عمداً یعنی جان بوجھ کر کسی شرعی وجہ کے بغیر قتل کرکے قاتل توبہ کرے اور اللہ کی راہ میں شہید ہو تو اس کا گناہ معاف نہ ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہی قول ہے کہ قاتل مومن کی توبہ قبول نہیں اور جمہور علماء کہتے ہیں کہ اس کی توبہ صحیح ہے اور آیت ﴿وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا﴾ (النساء: 94)
برطریق غلیظ ہے کہ لوگ اس سے باز رہیں‘ خلود سے مراد بہت مدت تک رہنا ہے (خلاصہ وحیدی)
آج عیدالاضحیٰ ۹۱ھ کو جبکہ جماعت کی دعوت پر بمبئی عیدالاضحیٰ پڑھانے آیا ہوا تھا‘ یہ تشریحی بیان حوالۂ قلم کیا گیا۔
اللہ پاک آج کے مبارک دن میں یہ دعا قبول کرے کہ اس مبارک کتاب کی تکمیل کا شرف حاصل ہو۔
آمین یا رب العالمین۔
قال ابن الجوزي أکثر السلف یمتنعون من تأویل مثل ھذا ویرونه کما جاء وینبغي أن یراعي مثل في مثل ھذا الإمرار اعتقاد أنه یشبه صفات اللہ صفات الخلق و معنی الإمرار عدم العلم بالمراد منه مع اعتقاد التنزیه (فتح الباري)
یعنی ابن جوزی نے فرمایا کہ اکثر سلف صالحین اس قسم کی صفات الٰہی کی تاویل منع جانتے ہیں بلکہ جس طرح یہ وارد ہوتی ہیں اسی طرح تسلیم کرتے ہیں‘ اس اعتقاد کے ساتھ کہ اللہ کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ نہیں ہیں۔
تسلیم کرنے کا مطلب یہ کہ ہم کو ان کے معانی معلوم ہیں‘ کیفیت معلوم نہیں۔
1۔
قاعدہ تو یہ ہے کہ قاتل اور مقتول ایک ساتھ جنت یا جہنم میں جمع نہ ہوں۔
اگر مقتول جنتی ہے تو یقیناً ایسے انسان کا قاتل جہنم میں جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ جب اپنی قدرت سے قاتل و مقتول دونوں کو جنت میں داخل کرتا ہے تو ہنس دیتا ہے وہ اس طرح کہ ایک شخص نے کافروں کی طرف سے لڑتے ہوئے ایک مسلمان کو شہید کردیا پھر اللہ تعالیٰ نے قاتل کو توبہ کی توفیق دی وہ مسلمان ہوگیا اور مسلمانوں کی طرف سے لڑتے لڑتے اس نے بھی جام شہادت نوش کر لیا تو اس طرح قاتل اور مقتول دونوں جنت میں داخل ہو گئے۔
2۔
اس حدیث میں اللہ کی ایک صفت ضحک یعنی ہنسنے کا ذکر ہے۔
اسے ہم مبنی بر حقیقت تسلیم کرتے ہیں اس کی تاویل کرنا سلف صالحین کے موقف کے خلاف ہے البتہ اس کی کیفیت معلوم نہیں اور نہ اس کی کوئی مخلوق اس کی کسی صفت میں اس سے مشابہت ہی رکھتی ہے۔
واللہ أعلم۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے۔ (دونوں لڑتے ہیں) ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے۔ لیکن دونوں جنت میں جاتے ہیں، ایک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے، تو وہ قتل ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مارنے والے کو توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے۔ پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے اور شہادت پا جاتا ہے۔“ (اس طرح دونوں جنت کے مستحق ہو ج [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3168]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ ان دو افراد کے حال پر ہنستا ہے جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، اور دونوں جنت میں داخل ہوتے ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتال کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے قاتل کو اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دیتا ہے، اور وہ اسلام قبول کر لیتا ہے، پھر اللہ کی راہ میں لڑائی کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 191]
اس سے اللہ کی صفت ضحك (ہنسنا)
کا ثبوت ملتا ہے لیکن اللہ کی صفات پر ایمان رکھنے کے باوجود انہیں مخلوق کی صفات سے تشبیہ دینا جائز نہیں۔
(2)
اللہ کا ہنسنا اس کی رضا مندی اور خوشنودی کا اظہار ہے اور رضا (خوشنودی)
بھی اللہ کی ایک صفت ہے۔
(3)
انسانوں کے انجام کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، بڑے سے بڑے مجرم کے بارے میں یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے نواز دے، اس لیے جب تک کسی شخص کی موت کفر پر نہیں ہوتی اس کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ اسے ہدایت نصیب نہیں ہو گی، لہذا اسے تبلیغ کرتے رہنا چاہیے۔
(4)
اسلام قبول کرنے کی وجہ سے پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اس لیے دوسرے آدمی کو ایک مومن کے قتل کے باوجود جہنم کی سزا نہیں ملی۔
«. . . 348- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”يضحك الله إلى رجلين يقتل أحدهما الآخر كلاهما يدخل الجنة، يقاتل هذا فى سبيل الله فيقتل، ثم يتوب الله على القاتل فيقاتل فيستشهد“ . . . .»
”. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ دو آدمیوں پر ہنستا ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے) جن میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے (اور) دونوں جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ شخص فی سبیل اللہ قتال کرتا ہے تو قتل ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ قاتل کو توبہ (اسلام قبول کرنے) کی توفیق دیتا ہے پھر وہ قتال کرتا ہے تو شہید ہو جاتا ہے۔“ . . .“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 7]
[وأخرجه البخاري 2826، من حديث مالك، ومسلم 1890، من حديث ابي الزناد به ورواه النسائي 6/38، 39 ح3168، من حديث عبدالرحمٰن بن القاسم به]
تفقه:
➊ روایت مذکورہ میں قاتل کافر اور مقتول مسلمان ہے۔ مسلمان میدان جنگ میں کافر کے ہاتھوں شہید ہوا ہے۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے کافر کو مسلمان ہونے کی توفیق بخشی لہٰذا سابق کافر اور حال مسلمان نے اسلام قبول کرنے کے بعد کافروں سے جہاد کیا جس میں اسے بھی شہادت کا رتبہ مل گیا۔ اس لحاظ سے سابقہ قاتل وحال مقتول دونوں جنتی ہیں۔
➋ اللہ تعالیٰ کا ہنسنا اور استہزاء فرمانا اس کی ایک صفت ہے۔ «كما يليق بجلاله عز وجل» ، اسے مخلوق سے مشابہت دینا باطل ومردود ہے۔
➌ اہلِ ایمان کو ہر وقت جہاد میں مستعد رہنا چاہئے۔
➍ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین و شہداء کے لئے جنت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔
➎ سچی توبہ کرنے سے سابقہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
➏ ایمان قول وعمل اور دلی یقین کا نام ہے۔
➐ حافظ ابن عبدالبر نے اللہ تعالیٰ کے ہنسنے سے اس کا رحم (اور فضل وکرم) مراد لیا ہے۔ دیکھئے: [التمهيد 18/345]
لیکن ابن الجوزی کے نزدیک اس عقیدے کے ساتھ اسے بیان کرنا چاہئے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور مخلوق سے مشابہ نہیں ہے۔ دیکھئے: [فتح الباري 6/40 ح2822] اور یہی راجح ہے۔
اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ”ہنسنا“ ثابت ہوتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ہنستے بھی ہیں لیکن اس کی مثال، کیفیت اور تشبیہ دینا منع ہے، بس ہم یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہنستا ہے «كما يليق شانه» جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔
نیز اس حدیث میں شہادت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ زندگی میں بعض اچھے موڑ بھی آتے ہیں کہ جن پر انسان غور و فکر کر کے اپنے آپ کو راہ راست پر لاسکتا ہے، اس سے اس کا مقام و مرتبہ بہت اونچا ہو جاتا ہے، اس کی مثال بھی حدیث میں موجود ہے کہ جو کافر آج کسی مسلمان کو شہید کر دیتا ہے کل کو وہی کافر مسلمان ہوتا ہے اور خود میدان جہاد میں اترتا ہے، اور خود بھی کفار سے لڑتا ہوا شہید ہو جا تا ہے۔