صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلاً} : باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد کہ ”مومنوں میں کچھ وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو سچ کر دکھایا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، پس ان میں کچھ تو ایسے ہیں جو (اللہ کے راستے میں شہید ہو کر) اپنا عہد پورا کر چکے اور کچھ ایسے ہیں جو انتظار کر رہے ہیں اور اپنے عہد سے وہ پھرے نہیں ہیں“۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ أُرَاهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ نَسَخْتُ الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ ، فَفَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ كُنْتُ أَسْمَع رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ بِهَا فَلَمْ أَجِدْهَا إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ " وَهُوَ قَوْلُهُ " مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ " سورة الأحزاب آية 23 .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی زہری سے ‘ دوسری سند اور مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان نے ‘ میرا خیال ہے کہ محمد بن عتیق کے واسطہ سے ‘ ان سے ابن شہاب ( زہری ) نے اور ان سے خارجہ بن زید نے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب قرآن مجید کو ایک مصحف ( کتابی ) کی صورت میں جمع کیا جانے لگا تو میں نے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں پائی جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برابر آپ کی تلاوت کرتے ہوئے سنتا رہا تھا جب میں نے اسے تلاش کیا تو ) صرف خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں وہ آیت مجھے ملی ۔ یہ خزیمہ رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا ۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» ( سورۃ الاحزاب : 23 ) ” مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت خزیمہؓ کی شہادت کو آپ نے دو شہادتوں کے برابر قرار دیا‘ یہ خاص خزیمہ کے لیے آپ ﷺنے فرمایا تھا۔
ہوا یہ کہ آپؐ نے ایک شخص سے کوئی بات فرمائی‘ اس نے انکار کیا۔
خزیمہ نے کہا میں اس کا گواہ ہوں۔
آپؐ نے فرمایا کہ تجھ سے تو گواہی طلب نہیں کی گئی پھر تو گواہی دیتا ہے۔
خزیمہ نے کہا یا رسول اللہ! ہم آسمان سے جو حکم اترتے ہیں ان پر آپؐ کی تصدیق کرتے ہیں یہ کونسی بڑی بات ہے۔
آپؐ نے خزیمہ کی شہادت پر فیصلہ کردیا اور ان کی شہادت دوسرے دو آدمیوں کی شہادت کے برابر رکھی (وحیدی)
حدیث میں مذکورہ آیت کریمہ کے گم ہونے کامطلب یہ نہیں کہ لوگ اسے بھول گئے تھے اور وہ انھیں یاد نہیں رہی تھی بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کے پاس لکھی ہوئی نہیں تھی۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابت ؓ کو وہ آیت یا د تھی اسی لیے انھوں نے کہا: رسول اللہ ؓ کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا کرتاتھا، البتہ ان کے پاس لکھی ہوئی نہیں تھی۔
صرف سیدنا خزیمہ انصاری ؓکے پاس لکھی ہوئی پائی گئی تھی۔
سماع آیت قرآنی تو متواتر تھا لیکن اس کی مصحف میں کتابت صرف حضرت خزیمہ انصاری ؓکے پاس تھی۔
اس کے علاوہ یہ آیت حضرت ابی بن کعب اور ہلال بن امیہ ؓ کے پاس سے بھی مل گئی تو اب اسے صحابہ کرام ؓ کی جماعت نقل کرنے والی تھی۔
ا س سے تواتر ثابت ہوا۔
(عمدة القاري: 113/10)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خذیمہ بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا۔
اس کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے گھوڑا خریدا اورآپ نے اس سے کہا: تم میرے ساتھ آؤ تا کہ میں تمہارے گھوڑے کی قیمت ادا کروں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چلے جبکہ وہ دیہاتی آہستہ آہستہ چلنے لگا۔
اس دوران میں لوگ اس دیہاتی کے پاس آئے اور گھوڑے کا سودا کرنے لگے۔
انھیں علم نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خرید لیا ہے۔
اس دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اگرگھوڑا خریدنا ہے تو خریدلو ورنہ میں اسے فروخت کر دوں گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آواز سن کر رُک گئے اور فرمایا: ’’کیا میں نے اسے تم سے خرید نہیں لیا۔
‘‘ دیہاتی نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا نہیں ہے۔
میں نے یہ تم کو بیچا ہی نہیں ہے۔
آپ نے فرمایا: ’’کیوں نہیں، میں نے تم سے خرید لیا ہے۔
‘‘ دیہاتی نے کہا: کوئی گواہ لاؤ۔
حضرت خذیمہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے فروخت کر دیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خزیمہ کی طرف متوجہ ہوئے اورفرمایا: ’’تم کس طرح گواہی دیتے ہو؟انھوں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کی تصدیق کی بنا پر۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خذیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کےبرابر قرار دیا۔
(سنن أبي داود، القضاء، حدیث: 3607)
لیکن اس واقعے کو عام قرارنہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی۔
واللہ اعلم۔
مسلمانوں میں بعض مرد تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو قول وقرار کیا تھا وہ سچ کر دکھایا۔
اب ان میں بعض تو اپنا کام پورا کر چکے شہید ہو گئے۔
(جیسے حمزہ اور مصعب ؓ)
اور بعض انتظار کر رہے ہیں (عثمان اور طلحہ ؓ وغیرہ)
اس روایت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ آیت صرف خزیمہ ؓ کے کہنے پر قرآن میں شریک کردی گئی بلکہ یہ آیت صحابہ کو یاد تھی اور آنحضرت ﷺ سے بارہا سن چکے تھے مگر بھولے سے مصحف میں نہیں لکھی گئی تھی۔
جب خزیمہ ؓکے پاس لکھی ہوئی ملی تو اس کو شریک کر دیا۔
1۔
ایک روایت میں صراحت ہے کہ مذکورہ آیت شہدائے احد کے متعلق نازل ہوئی، چنانچہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے خیال کے مطابق یہ آیت ہمارے چچا حضرت انس بن نضر ؓ اور اس طرح دیگر جاں نثاروں کے متعلق نازل ہوئی۔
(صحیح البخاري، الجهاد والسیر، حدیث: 2805)
بلکہ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ہمارے یقین کے مطابق یہ آیت حضرت انس بن نضر ؓ کے متعلق نازل ہوئی۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4783)
2۔
واضح رہے کہ مذکورہ آیت حضرت زید بن ثابت ؓ کو یاد تو تھی لیکن لکھی ہوئی کسی کے پاس نہ تھی۔
اس سے قرآن مجید کے تواتر میں کوئی خلل نہیں آتا کیونکہ تواتر کے لیے تحریری طور پر پایا جانا ضروری نہیں۔
اس وقت بھی تواتر حفظی موجود تھا البتہ تواتر کتابی نہیں تھا۔
اس کی تفصیل ہم کتاب فضائل القرآن حدیث4988۔
کے تحت بیان کریں گے۔
ان شاءاللہ۔