صحيح البخاري
كتاب الجهاد والسير— کتاب: جہاد کا بیان
بَابُ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ: باب: اللہ کے راستے میں صبح و شام چلنے کی اور جنت میں ایک کمان برابر جگہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2793
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَقَابُ قَوْسٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ ، وَقَالَ : لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَتَغْرُبُ " .مولانا داود راز
´سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ہلال بن علی سے ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جنت میں ایک ( کمان ) ہاتھ جگہ دنیا کی ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے ۔ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام چلنا ان سب چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3013 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، اس کو سمجھنے کے لیے چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3013]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جنت میں ایک کوڑے برابر جگہ دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، اس کو سمجھنے کے لیے چاہو تو یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3013]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا بے شک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے‘‘ (آل عمران: 185)
وضاحت:
1؎:
’’پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا بے شک وہ کامیاب ہو گیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے‘‘ (آل عمران: 185)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3013 سے ماخوذ ہے۔