صحيح البخاري
كتاب الشروط— کتاب: شرائط کے مسائل کا بیان
بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْمُعَامَلَةِ: باب: معاملات میں شرطیں لگانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَتْ الْأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ ، قَالَ : لَا ، فَقَالَ : تَكْفُونَا الْمَئُونَةَ ، وَنُشْرِكْكُمْ فِي الثَّمَرَةِ ، قَالُوا : سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا " .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ۔ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` انصار رضوان اللہ علیہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( مؤاخات کے بعد ) یہ پیش کش کی کہ ہمارے کھجور کے باغات آپ ہم میں اور ہمارے بھائیوں ( مہاجرین ) میں تقسیم فرما دیں ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ اس پر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے باغوں کے کام کر دیا کریں اور ہمارے ساتھ پھل میں شریک ہو جائیں ، مہاجرین نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم ایسا ہی کریں گے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
آنحضرت ﷺنے انصار اور مہاجرین میں باغوں کی تقسیم منظور نہیں فرمائی۔
کیونکہ آپ کو وحی الٰہی سے معلوم ہوگیا تھا کہ آئندہ فتوحات بہت ہوں گی بہت سی جائیدادیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں گی پھر انصار کی موروثی جائیداد کیوں تقسیم کرائی جائے۔
صدقﷺ۔
جب مہاجرین اپنا وطن مکہ چھوڑ کر مدینہ طیبہ آئے تو معاش کے ہاتھوں بہت پریشان تھے گھر بار عزیز واقارب اور کاروبار چھوٹنے کا غم اس پر مستزاد تھا۔
رسول اللہ ﷺنے اس موقع پر مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، جس کی وجہ سے مہاجرین وانصارآپس میں شیر و شکر ہوگئے اور ایک دوسرے کو حقیقی بھائی سمجھنے لگے۔
تقسیم باغات کی پیش کش بھی سلسلہ مؤاخات کا نتیجہ تھا جسے رسول اللﷺنے منظور نہ فرمایا کیونکہ آپ کو بذریعہ وحی معلوم ہو گیا تھا کہ آئندہ بہت فتوحات ہوں گی۔
بہت سی جائیدادیں مسلمانوں کے ہاتھ لگیں گی۔
اس بنا پر آپ نے انصار کی موروثی جائیداد کو تقسیم کرنا پسندنہ فرمایا بلکہ باغات کو انصار کے پاس رہنے دیا البتہ محنت وغیرہ مہاجرین نے اپنے ذمے لے لی۔
پھر پیدا وار نصف نصف پر تقسیم ہو جاتی۔
آنحضرت ﷺ نے جو انصار کو زمین تقسیم کردینے سے منع فرمایا اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ مسلمانوں کی ترقی بہت ہوگی۔
بہت سی زمینیں ملیں گی تو انصار کی زمین انہی کے پاس رہنا آپ ﷺ نے مناسب سمجھا۔
(1)
اس روایت کا پس منظر یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو انصار نے ازراہ ہمدردی، اخوت کی بنا پر اپنی زمینوں اور باغات کو مہاجرین میں تقسیم کردینے کی پیشکش کی لیکن رسول اللہ ﷺ کو یقین تھا کہ آئندہ فتوحات ہوں گی، مسلمان ترقی کریں گے، انھیں غنیمت کے طور پر زمین اور باغات ملیں گے، اس لیے آپ نے مدینہ طیبہ کی زمین اور باغات انصار کے پاس رہنے کو مناسب خیال کیا، البتہ دوسری تجویز سے اتفاق کیا کہ کھیت اور باغات انصار کے پاس رہیں، اس میں محنت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری مہاجرین اٹھائیں، اس شرکت کار سے مہاجرین پیداوار میں اپنا حصہ وصول کریں گے۔
اس تجویز سے اتفاق کیا گیا۔
(2)
مزارعت کے ابواب میں اس حدیث کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کاشت کاری کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ زمین یا باغ کا مالک کسی دوسرے کو اس شرط پر شریک کرے کہ وہ کھیت میں محنت اور باغ کی نگرانی کرے گا، اس طرح پیداوار اور پھل کو اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کرلیا جائے گا۔
محنت کرنے والے کا کتنا حصہ ہو، اس کا تعلق حالات وظروف پر ہے۔
اگر پانی وغیرہ آسانی سے دستیاب ہے تو حصہ کم ہوسکتا ہے اور اگر اس کے برعکس پانی کی فراہمی مشکل ہے اور اسے محنت زیادہ کرنی پڑتی ہوتو حصہ زیادہ ہوسکتا ہے ہے۔
عقل کا بھی یہی تقاضا ہے کہ حصے کا تعین حالات وظروف کے اعتبار سے کیا جائے۔
والله أعلم.